2 کووڈ ویکسینز کا امتزاج طاقتور مدافعتی ردعمل کے حصول میں مددگار قرار

07 دسمبر 2021
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

ایسٹرا زینیکا یا فائزر کووڈ ویکسین کی پہلی خوراک کے بعد دوسرا ڈوز موڈرنا یا نووا ویکس ویکسینز کا استعمال کرنا اس وبائی مرض کے خلاف زیادہ ٹھوس مدافعتی ردعمل پیدا کرتا ہے۔

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

آکسفورڈ یونیورسٹی کے زیرتحت ہونے والی کوم کوو تحقیق میں مختلف کووڈ ویکسینز کے امتزاج سے مدافعتی نظام پر مرتب اثرات کی جانچ پڑتال کی گئی۔

تحقیق میں شامل رضا کاروں کو ایسٹرا زینیکا یا فائزر ویکسینز پہلی خوراک کے طور پر استعمال کرائی گئی اور 9 ہفتے بعد نووا ویکس یا موڈرنا ویکسینز کی دوسری خوراک دی گئی۔

تحقیق میں شامل 1070 افراد کے تحفظ کے حوالے سے کوئی خدشات سامنے نہیں آئے۔

محققین نے بتایا کہ اس طرح کی تحقیقی رپورٹس کی بدولت ہمارے سامنے مختلف کووڈ ویکسینز کو ایک ساتھ استعمال کرنے کے حوالے سے مکمل تصویر ابھر کر سامنے آرہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب خلیاتی مدافعت کی بات آتی ہے تو ایسٹرا زینیکا ویکسین کو بطور پہلی خوراک کے بعد دیگر ویکسینز کا استعمال ٹھوس مدافعتی ردعمل پیدا کرنے میں مدد فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اس طرح جس حد تک جلد ممکن ہوا کووڈ 19 سے بچانے کے لیے دنیا کی ویکسینیشن ممکن ہوسکے گی۔

تحقیق کے مطابق ایسٹرا زینیکا ویکسین کی پہلی خوراک کے بعد اسی کی دوسری خوراک کی بجائے موڈرنا یا نووا ویکس کا استعمال زیادہ اینٹی باڈیز اور ٹی سیلز ردعمل کا باعث بنتا ہے۔

فائرز کی 2 خوراکوں کی بجائے فائزر اور موڈرنا کا امتزاج زیادہ ٹھوس اینٹی باڈی اور ٹی سیلز ردعمل پیدا کرتا ہے۔

فائزر اور نووا ویکس ویکسینز کا امتزاج ایسٹرا زینیکا ویکسین کی 2 خوراکوں سے زیادہ اینٹی باڈیز بناتا ہے مگر فائزر کی 2 خوراکوں کے مقابلے میں کم اینٹی باڈیز اور ٹی سیل ردعمل پیدا ہوتا ہے۔

ان رضاکاروں کے خون کے نمونوں پر وائرس کی اصل، بیٹا اور ڈیلٹا اقسام کے خلاف ویکسینز کی افادیت کی جانچ پڑتال کی گئی۔

محققین نے وائرس کی اقسام کے خلاف ویکسینز کی افادیت میں کمی کو دیکھا اور یہ تسلسل مکس این میچ شیڈول میں برقرار رہا۔

انہوں نے بتایا کہ ایک شیڈول میں مختلف ویکسینز کا استعمال ہم نے کیا یعنی ایم آر این اے ویکسینز، وائرل ویکٹر ویکسینز یا پروٹین پر مبنی ویکسینز، جو ویکسینیشن کا ایک نوول طریقہ کار ہے۔

اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی لانسیٹ میں شائع ہوئے۔

تحقیق کے نتائج سے ان ویکسینز کے لچکدار استعمال کے خیال کو تقویت ملتی ہے جو کہ ان ویکسینز کو برق رفتاری سے لوگوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہوگا۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں