اومیکرون کے خلاف ویکسینیشن کتنی مؤثر ہوگی؟ پہلا ڈیٹا سامنے آگیا

اپ ڈیٹ 09 دسمبر 2021
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو

کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون ویکسینیز اور قدرتی بیماری سے ملنے والے تحفظ پر جزوی حد تک اثرانداز ہوسکتی ہے۔

یہ بات اس حوالے اب تک جاری ہونے والی پہلی طبی تحقیق میں بتائی گئی۔

مگر تحقیق میں یہ عندیہ بھی دیا گیا کہ کورونا کی یہ نئی قسم مدافعتی نظام سے مکمل طور پر نہیں بچ پاتی، جس کا مطلب یہ ہے کہ ویکسینز کے استعمال کے بعد وقت گزرنے سے تحفظ میں آنے والی کمی کو اینٹی باڈیز بڑھا کر بحال کیا جاسکتا ہے۔

محققین نے کہا کہ اس حوالے سے کلینکل نتیجہ کی تصدیق ہونا باقی ہے مگر نتائج سے اس خیال کو ٹھوس تقویت ملتی ہے کہ بوسٹر ویکسینیشن اومیکرون سے تحفظ کے لیے مؤثر ثابت ہوسکتی ہے۔

افریقہ ہیلتھ ریسرچ انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں شامل ایگزیکٹیو ڈائریکٹر پروفیسر ولیم ہینکوم نے بتایا کہ زیادہ امکان یہ ہے کہ اومیکرون کے خلاف ویکسین سے ملنے والے تحفظ کی شرح گھٹ جائے گی، مگر زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ ویکسینز کورونا کی اس نئی قسم سے متاثر ہونے پر سنگین پیچیدگیوں اور موت سے تحفظ فراہم کرسکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ ناگزیر ہے کہ ہر فرد کی کووڈ سے تحفظ کے لیے ویکسینیشن ہو۔

یہ انسانی مدافعتی نظام کے اومیکرون سے نمٹنے کے حوالے سے پہلی تحقیق ہے اور اس کے لیے محققین نے فائزر ویکسین استعمال کرنے والے 12 افراد کے خون کے نمونوں میں اومیکرون کی جانچ پڑتال کی۔

ان نمونوں میں مدافعتی ردعمل کا موازنہ وائرس کی ابتدائی قسم سے کیا گیا۔

تحقیق میں شامل 12 میں سے 6 افراد ایسے تھے جو جنوبی افریقہ میں کورونا کی پہلی لہر کے دوران متاثر ہوئے تھے اور بعد میں ویکسینیشن ہوئی۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ بیماری سے محفوظ رہنے والے مگر ویکسینیشن کرانے والے افراد کے خون میں اومیکرون کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں اصل قسم کے مقابلے میں 41 گنا کمی آئی مگر یہ نئی قسم مکمل طور پر مدافعتی نظام سے نہیں بچ سکی۔

اس کے مقابلے میں جن افراد کی ویکسینیشن ہوچکی تھی اور وہ ماضی میں کووڈ سے متاثر بھی ہوئے تھے، ان کے نمونوں میں اومیکرون کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح زیادہ تھی، جس سے عندیہ ملا کہ ویکسین کا بوسٹر ڈوز بیماری سے تحفظ کے لیے مؤثر ہوسکتا ہے۔

سائنسدانوں کو پہلے ہی اومیکرون کے خلاف تحفظ کی شرح میں کمی کی توقع تھی مگر ان کا یہ بھی خیال ہے کہ اینٹی باڈیز سے ہٹ کر ٹی سیلز کورونا کی اس نئی قسم کے خلاف زیادہ بہتر کام کرسکیں گے اور بیماری کی سنگین شدت سے بچائیں گے۔

محققین نے کہا کہ اومیکرون پر تحقیق کے نتائج ہماری توقعات سے بہتر ہیں، جتنی زیادہ اینٹی باڈیز آپ حاصل کریں گے، اتنا زیادہ بیماری سے تحفظ ملنے کا امکان ہے۔

امپرئیل کالج کے امیونولوجی پروفیسر ڈینیئل آلٹمن جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، نے کہا کہ تحقیق سے ایک واضح پیغام ملتا ہے کہ جن لوگوں کی ویکسینیشن نہیں ہوئی یا جن افراد نے ویکسینز کی 2 خوراکیں استعمال کی ہیں، وہ اومیکرون کے مقابلے میں کافی کمزور ہیں، مگر جن افراد کو بوسٹر ڈوز دیا گیا یا ویکسینیشن کے ساتھ قدرتی بیماری کا سامنا بھی کرچکے ہیں، ان کو بیماری سے زیادہ تحفظ حاصل ہے، چاہے اینٹی باڈیز کی سطح میں 41 گنا کمی ہی کیوں نہ آئے۔

برمنگھم یونیورسٹی کے پروفیسر پال موس نے کہا کہ تشویشناک دریافت یہ ہے کہ وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں اومیکرون کے خلاف 40 گنا تک کمی آئی، جس کا مطلب یہ ہے کہ محض ڈھائی فیصد اینٹی باڈیز سرگرمی ہی باقی رہی، مگر اس طرح کے نتائج غیرمتوقع نہیں تھے، ایسے شواہد سامنے آرہے ہیں کہ بوسٹر ویکسینیشن اینٹی باڈیز کی سطح میں اضافہ کرتی ہے جو بیماری کے خلاف قیمتی تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔

اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور پر جاری کیے گئے۔

دوسری جانب سوئیڈن کے کیرولینسکا انسٹیٹوٹ کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اومیکرون کے خلاف وائرس کی اصل قسم کے مقابلے میں اینٹی باڈیز کی افادیت میں اوسطاً 7 گنا کمی آئی۔

مگر تحقیق میں لوگوں میں ویکسینیشن سے بننے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں فرق بھی دیکھنے میں آیا جیسے کچھ افراد کے خون کے نمونوں میں مدافعت میں کوئی کمی ریکارڈ نہیں ہوئی جبکہ کچھ ایسے تھے جن کی اینٹی باڈیز کی سطح میں 25 گنا سے زیادہ کمی آئی۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں