کیا حکومت 2022ء کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار ہے؟

30 دسمبر 2021
لکھاری مصنف اور صحافی ہیں۔
لکھاری مصنف اور صحافی ہیں۔

یہ سال بھلا کون یاد رکھنا چاہے گا، کچھ بھی تو ٹھیک نہیں ہوا۔ بے دست و پا حکومت بحرانوں کے تھپیڑے کھاتی رہی۔ اگرچہ حکومت بدترمعاشی حالات میں بڑی حد تک اپنا سیاسی میدان گنوانے کے باوجود خود کو باقی رکھنے میں کامیاب تو رہی لیکن نئے سال میں اس سے بھی زیادہ کڑا وقت سر پر آسکتا ہے۔

جس چیز پر حکومت ٹکی ہوئی تھی وہ پہلے ہی کمزور ہوچکی ہے۔ یہاں باعثِ تشویش صرف پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مشکلات نہیں بلکہ آنے والے وقت میں ملک کو درپیش چیلنجز بھی ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت کے لیے نئے سال کا آغاز ترمیمی مالیاتی بل یا منی بجٹ کے معاملے سے ہوگا، جسے اتحادیوں میں بڑھتے اختلافات کے سائے میں پارلیمنٹ سے منظور کروانا ہوگا۔ آئی ایم ایف کی شرائط پورا کرنے لیے اٹھائے گئے غیرمقبول اور نہایت متنازع مالیاتی اقدامات کے سیاسی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

یہ سب ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب حکومت کے اپنے حلقوں میں دراڑیں بڑھتی جا رہی ہیں۔ خیبرپختونخوا میں حالیہ بلدیاتی انتخابات میں حیران کن شکست نے اختلافات کو واضح کردیا ہے۔ اس انتخابی شکست نے اپوزیشن کو بھی حوصلہ بخشا ہے جو کہ مالیاتی بل کو روکنے کے لیے متحد نظر آتی ہے۔

پڑھیے: 2021ء نے مشرقِ وسطیٰ کو کس حال میں چھوڑا؟

بلاشبہ حکومت کے لیے پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کا یہ سب سے بڑا امتحان ہوگا۔ اگر بل منظور نہیں ہوتا تو حکومت کی کمزوریاں مزید کھل کر سامنے آجائیں گی۔ حتیٰ کہ اگر حکومت پارلیمنٹ میں بل منظور کروا بھی لیتی ہے تو بھی ٹیکس سے جڑے اقدامات کے سنگین اقتصادی نتائج عوامی غم و غصے کو مزید بڑھائیں گے جو کہ مہنگائی کی وجہ سے پہلے ہی اپنے عروج پر ہے۔

اطلاعات کے مطابق حکومت کے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات میں خلیج بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے اس کی پریشانیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ جس حکومت کو ہائبرڈ حکومت پکارا جارہا تھا وہ بگڑتی گورننس اور سول فوجی قیادت کے درمیان تنازع کے باعث پہلے سے ہی ہچکولے کھا رہی ہے۔ اگرچہ دونوں کے درمیان تعلقات ٹوٹنے کی نہج تک نہیں پہنچے لیکن تناؤ برقرار ہے۔ آئی ایس آئی چیف کی تعیناتی پر پیدا ہونے والے تنازع نے تعلقات میں کڑواہٹ گھول دی ہے۔

یہ معاملہ بھلے ہی حل ہوچکا ہے لیکن اس نے نظام کے اندر موجود طاقت کے ازلی عدم توازن کو واضح کردیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ حکومت کو مشکل سے نکالنے کے لیے سیاسی انتظام میں مداخلت کا سلسلہ جاری رکھے گی یا نہیں؟ ممکن ہے کہ یہ حکومت کو اپنی سیاسی لڑائیاں خود لڑنے پر مجبور کردے۔ یقیناً 2022ء میں یہ وزیراعظم عمران خان کے لیے ایک بڑا امتحان ہوگا۔

خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا اور پنجاب میں ان انتخابات کا اہم ترین مرحلہ بھی اگلے سال کی ابتدا میں شروع ہوگا تاہم حکومت خود کو ایک سیاسی بھنور میں گھری ہوئی محسوس کر رہی ہے۔ جہاں اندرونی اختلافات کی وجہ سے پی ٹی آئی خیبرپختونخوا میں اپنی کارکردگی بہتر بنانے سے قاصر رہی وہیں پنجاب کے انتخابات میں تو اس سے بھی زیادہ مایوس کن نتائج کی توقع کی جاسکتی ہے۔

پڑھیے: پاکستان اور افغانستان کی مدد کو آئے سعودی کہیں مشکل میں نہ پھنس جائیں

یہ بات تو سب پر عیاں ہے کہ پی ٹی آئی اپنا زیادہ تر میدان ملک کے سب سے بڑے اور طاقتور ترین صوبے میں اپنی ناقص کارکردگی کے باعث کھو چکی ہے۔ مگر وزیراعظم کا اپنے چنے ہوئے وزیراعلیٰ پر غیر متزلزل اعتماد قائم ہے۔ پارٹی کی نئی تنظیم سازی سے صورتحال میں تبدیلی کی زیادہ امید نہیں باندھی جاسکتی۔ مزید برآں بڑھتی ہوئی مہنگائی نے پارٹی کی گھٹتی مقبولیت کو مزید کم کیا ہے۔ عام انتخابات سے محض 18 ماہ قبل پنجاب میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے پارٹی کے اعتماد کو مزید دھچکا پہنچ سکتا ہے۔

داخلی اختلافات اور دھچکے پہلے سے سکڑتے سیاسی میدان کو مزید متاثر کرسکتے ہیں۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے نتائج آنے والے سال میں ملک کی سیاست کا نقشہ کھینچنے کے لیے کافی ہوں گے۔ کئی داخلی و بیرونی سیکیورٹی کے خطرات میں گھرے اس ملک کے لیے سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی بحران سب سے سنگین مسائل کا باعث بنے ہوئے ہیں۔

خارجہ پالیسی کے معاملے میں عمران خان کی حکومت ہمیشہ سے کمزور نظر آئی ہے۔ مقبول بیانیے کو سنجیدہ سفارت کاری کے متبادل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ذاتی وجوہات کی بنا پر دنیا کے اہم ترین دارالحکومتوں کے دوروں پر جانے میں وزیراعظم کی ہچکچاہٹ نے ہماری سفارتی رسائی کو کافی زیادہ متاثر کیا ہے۔ افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد جیوپولیٹکس میں آنے والی غیرمعمولی تبدیلیوں اور جنگ زدہ ملک میں طالبان حکومت کی واپسی کی وجہ سے آئندہ برس پاکستانی حکومت کو خارجہ پالیسی اور سیکیورٹی مسائل کے زبردست چیلنجوں کا سامنا کرنا ہوگا۔

افغانستان پر منڈلاتے اقتصادی زوال کے خطرے اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے انسانی بحران کی بدترین صورتحال کے پاکستان پر براہ راست اثرات مرتب ہوں گے۔ ہمارے لیے سب سے بڑی پریشانی کا باعث سیکیورٹی سے جڑے مسائل ہیں۔ سرحد پار افغان سرزمین پر موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی پناہ گاہیں پاکستان کے لیے سیکیورٹی خطرات کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ کالعدم دہشت گرد تنظیم کا ہتھیار پھینکنے سے انکار کرنے کے بعد بھی افغان طالبان کی جانب سے اس کے خلاف کارروائی نہ کرنا قابلِ تشویش امر ہے۔

پڑھیے: سالنامہ: عوام کے لیے معاشی لحاظ سے ایک اور مشکل سال

یوں لگتا ہے کہ افغانستان میں قدامت پسند حکومت کی واپسی سے سرحد پار موجود اپنے ٹھکانوں سے کارروائی کرنے والے دہشتگرد گروہ نے شے پائی ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ افغانستان میں غیریقینی کی صورتحال کے باعث آنے والے برس میں صورتحال مزید بدتر ہوسکتی ہے۔ مگر یہ بات تو طے ہے کہ ملک کے لیے مذہب پر مبنی پُرتشدد انتہاپسندی ہی سب سے بڑا چیلنج رہے گی۔

سال کے آخری دنوں میں سول اور فوجی قیادت نے ایک ایسی نیشنل سیکیورٹی پالیسی منظور کی ہے جو کہ حکومت کے مطابق افغانستان کی صورتحال سمیت داخلی اور بیرونی سیکیورٹی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرے گی۔ اگرچہ پالیسی کی دستاویز عوامی سطح پر جاری نہیں کی گئی لیکن کہا جارہا ہے کہ اس میں 'اگلے برس پاکستان کو درپیش چیلنجوں اور مواقعوں' کو بیان کیا گیا ہے۔ حکومت کے بقول اس پالیسی کے تحت 'اقتصادی سیکیورٹی کو اولین پالیسی ترجیحات میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔'

یقیناً قومی سلامتی کے معاملے میں اجتماعی طرزِعمل کی ضرورت پر کوئی دو رائے نہیں ہے اور بلاشبہ ملکی سیکیورٹی کا دار و مدار اقتصادی سیکیورٹی پر ہے۔ مگر اہم مسئلہ یہ ہے کہ اس پالیسی کی روشنی میں عمل کس طرح کیا جائے گا۔ اقتصادی آزادی اور اپنی ضروریات کو خود پورا کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے وژن درکار ہوتا ہے جو کہ ہمارے پاس نہیں ہے، اسی وجہ سے ہماری سیکیورٹی کمزوریوں کا شکار ہے۔

علاوہ ازیں، جیسا کہ اوپر بھی بیان کیا گیا ہے کہ پُرتشدد انتہاپسندی ہی داخلی سیکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنی ہوئی ہے۔ مگر حکومت کی خوشامدانہ پالیسی نے انتہاپسندی کے پھیلاؤ میں مدد فراہم کی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کو ہماری سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے سیاسی استحکام مطلوب ہوگا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت کس طرح اگلے برس درپیش ان غیر معمولی چیلنجوں سے نمٹتی ہے۔

یہ مضمون 29 دسمبر 2021ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں