افغانستان: انسانی حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پر طالبان کا سیاہ مرچ کا اسپرے

16 جنوری 2022
طالبان کے اہلکار کئی گاڑیوں میں جائے وقوع پر پہنچ کر احتجاج کو منتشر کر دیا— فائل فوٹو: اے ایف پی
طالبان کے اہلکار کئی گاڑیوں میں جائے وقوع پر پہنچ کر احتجاج کو منتشر کر دیا— فائل فوٹو: اے ایف پی

افغانستان میں طالبان فورسز نے دارالحکومت کابل میں کام اور تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پر سیاہ مرچ کا اسپرے فائر کیا۔

خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق اگست میں ملک کا اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان حکام نے خصوصاً خواتین پر پابندیاں عائد کی ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان: خواتین اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکتی ہیں، مخلوط تعلیم کی اجازت نہیں، طالبان

اے ایف پی نمائندے نے رپورٹ کیا کہ کابل یونیورسٹی کے سامنے تقریباً 20 خواتین جمع ہوئیں جو مساوات اور انصاف کی فراہمی کے نعرے لگا رہی تھیں اور بینرز اٹھائے ہوئے تھیں جن پر خواتین کے حقوق، انسانی حقوق کے نعرے درج تھے۔

تین خواتین مظاہرین نے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان کے اہلکار کئی گاڑیوں میں جائے وقوع پر پہنچے اور احتجاج کو منتشر کر دیا۔

انہوں نے نام ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم کابل یونیورسٹی کے قریب تھے، طالبان کی تین گاڑیاں آئیں اور ایک گاڑی میں موجود اہلکاروں نے ہم پر کالی مرچ کا اسپرے استعمال کردیا۔

ان کا کہنا تھا کہ میری دائیں آنکھ جلنے لگی، میں نے ان میں سے ایک سے کہا 'تم شرم کرو' لیکن اس پر انہوں نے اپنی بندوق مجھ پر تان لی۔

یہ بھی پڑھیں: طالبان نے افغانستان میں خواتین کی جبری شادی پر پابندی عائد کردی

دو دیگر مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان میں سے ایک خاتون کو آنکھ اور چہرے پر اسپرے کے باعث الرجی ہو گئی اور انہیں ہسپتال لے جانا پڑا۔

اے ایف پی کے ایک نمائندے نے ایک طالبان اہلکار کو مظاہرے کی فلمبندی کرنے والے شخص کا موبائل فون ضبط کرتے دیکھا۔

طالبان نے منظوری کے بغیر مظاہروں پر پابندی لگا دی ہے اور خواتین کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی ریلیوں اور احتجاج کو منتشر کرنے کے لیے اکثر مداخلت کرتے ہیں۔

طالبان حکام نے سرکاری شعبے میں خواتین ملازمین کو کام پر واپس آنے سے روک دیا ہے، بہت سے سیکنڈری اسکول ابھی تک لڑکیوں کے لیے دوبارہ نہیں کھلے اور سرکاری یونیورسٹیاں بھی بند ہیں۔

مزید پڑھیں: افغانستان میں دو دہائیوں بعد دوبارہ شوبز میں خواتین کو دکھانے پر پابندی

طالبان نے کسی مرد رشتے دار کے بغیر خواتین کے طویل فاصلے سفر پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جبکہ ٹیلی ویژن چینلز پر خواتین اداکاروں کے ڈرامے نشر کرنے پر بھی پابندی لگا دی ہے۔

دریں اثنا، بہت سی خواتین چھپ کر زندگی گزار رہی ہیں کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ طالبان اپنے سابقہ دور حکومت کے دوران کی گئی انسانی حقوق کا دوبارہ ارتکاب کریں گے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں