سنگ ماہ سے ٹی وی ڈیبیو کا تجربہ عاطف اسلم کے لیے کیسا رہا؟

16 جنوری 2022
— پبلسٹی فوٹو
— پبلسٹی فوٹو

میگا کاسٹ ڈرامے ’سنگ ماہ‘ کی پہلی قسط کی پہلی قسط کو 7 اور 8 جنوری کو سینماؤں میں پیش کیا گیا جب کہ ٹی وی پر اس کی پہلی قسط کو 9 جنوری کو نشر کیا گیا۔

پہلی قسط میں عاطف اسلم کے کردار ’ہلمند‘ کی تعریف کی گئی اور لوگوں نے نہ صرف ان کی ڈراما ڈیبیو اداکاری کو سراہا بلکہ ڈرامے کی کہانی، مکالموں، کرداروں کی پیش کش اور منظر کشی کو بھی سراہا۔

یہ عاطف اسلم کا بطور اداکار پہلا ٹی وی ڈراما ہے اور مداحوں کو اپنی جانب کھینچنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔

خیال رہے کہ عاطف اسلم نے ڈائریکٹر شعیب منصور کی فلم بول سے اداکاری کا ڈیبیو کیا تھا مگر ٹی وی کا رخ اب کیا ہے۔

پبلسٹی فوٹو
پبلسٹی فوٹو

ڈان آئیکون سے بات کرتے ہوئے عاطف اسلم نے فلم میں اپنے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا 'میں اسے اداکاری نہیں کہہ سکتا وہ تو بول میں محض ایک ویلیو ایڈیشن تھا، جس کی بہت زیادہ ایڈیٹںگ کی گئی، جبکہ میرے متعدد مناظر فلم کا حصہ نہیں تھے،'۔

مگر سنگ ماہ میں ہلمند کا کردار مختلف کہانی ہے، ایک ایسا شخص جو درویشانہ زندگی گزارتا ہے، الاؤ کے گرد رقص کرتا ہے مگر ناانصافی کے خلاف کھڑا ہوجاتا ہے۔

عاطف اسلم نے کہا 'مجھے یہ بات بہت پسند آئی کہ لوگ مجھے ایک ولن قرار دے رہے ہیں، میں ہلمند کے حقیقی کردار کو اسرار میں رکھنا پسند کروں گا، لوگوں کو ٹی وی پر انتظار کرنے دیں، میں اس کردار کے اندر 45 سے 50 دن تک رہا، بلکہ شوٹنگ ختم ہونے کے بعد بھی میں اس میں گم رہا'۔

پبلسٹی فوٹو
پبلسٹی فوٹو

اس ڈرامے کی شوٹنگ 13 اگست 2021 کو شروع ہوئی اور 6 دسمبر کو ختم ہوئی۔

تو کیا عاطف اسلم نے کردار کے لیے کسی ایکٹنگ کلاس میں شمولیت اختیار یا میوزک ویڈیوز کے تجربے نے انہیں مدد فراہم کی؟

اس سوال پر انہوں نے کہا 'درحقیقت میں نے نیٹ فلیکس کو دیکھتے ہوئے بہت زیادہ وقت گزارا، جب کووڈ 19 نے سب کو متاثر کیا تو کرنے کو کچھ بھی نہیں تھا'۔

انہوں نے مزید کہا 'ہلمند کو قدرتی انداز میں پیش کرنے کے لیے میں نے اداکاری کے کسی پیٹرن کو نہیں اپنایا'۔

ان کا کہنا تھا کہ جب میں گیتوں کے بول تحریر کرتا اور گاتا ہوں، تو وہ شاعرانہ ہوت ہیں، ہلمند کے انداز بھی بہت شاعرانہ ہیں، ان میں ایک ردہم ہے'۔

عاطف اسلم نے کہا 'میں جانتا ہوں کہ یہ بہت فرسودہ جملہ ہے کہ میں نے درست اسکرپٹ کے لیے انتظار کیا، مگر یہی وہ درست اسکرپٹ تھا جس کا میں نے اتنے برسوں تک انتظار کیا'۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کچھ افراد پہلے ٹی وی میں کام کرکے اداکاری کی صلاحیت کی مشق کے بعد فلموں کا رخ کرتے ہیں، تو کیا اسی وجہ سے انہوں نے ٹی وی پر ہلمند کو ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور فلموں میں کام کیوں نہیں کیا جن کی اکثر ان کو پیشکش کی جاتی ہے؟

تو انہوں نے کہا 'میں ایسا شخص ہوں جو اس طرح کی باتوں پر یقین نہیں رکھتا، درحقیقت میں تو یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ ایک دن میں گلوکار بن جاؤں گا'۔

انہوں نے مزید کہا 'کیا چھوٹا پردہ، کیا بڑا پردہ، کیا چھوٹا گانا، کیا بڑا گانا، کیا فلم کا گانا، کیا پوپ گانا، میں تو بس یہ جانتا ہوں کہ جو بھی کروں دل سے کروں تاکہ ناظرین سے جڑ سکوں'۔

کردار کے حوالے سے انہوں نے بتایا 'ہاں یہ ای چیلنج تھا اور میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں اس کے لیے تیار تھا۔ میں اس حوالے سے ذہنی طور پر بے چین تھا، کیا ہوگا، کیسے ہوگا، ڈائریکٹر کیسا ہوگا، لوگ کیسے ہیں، سامنے جو اداکار ہیں وہ کتنے بڑے اداکار ہیں، لوگ کیا کہیں گے'۔

انہوں نے کہا 'اور آپ جانتے ہیں کہ ایسے سوال پوچھیں جائیں گے جیسے بطور گلوکار ابھی بھی آپ عروج پر ہیں تو اداکاری کا پنگا کیوں لے رہے ہیں؟'

عاطف اسلم کے مطابق 'سنگ ماہ میں ہلمند کا کردار ادا کرنا میرے لیے مسئلہ نہیں تھا، میں اسے کرنا چاہتا تھا اور میں اس سے لطف اندوز بھی ہوا۔ درحقیقت یہ میرے لیے بہت آسان ہوا کیونکہ ہر ایک نے مجھے اس حوالے سے مدد کی۔ میں نے نعمان بھائی (نعمان اعجاز) کے بارے میں بہت کچھ سنا تھا کہ ان کے ساتھ کام کرنا مشکل ہوتا ہے، مگر میں نے انہیں اچھے انسان کے طور پر دریافت کیا۔ انہں نے مجھے بہت سراہا اور کہا کہ اداکاری جاری رکھوں'۔

واضح رہے کہ سنگ ماہ سے جہاں عاطف اسلم ڈراما ڈیبیو کر رہے ہیں، وہیں اس کی کاسٹ میں نعمان اعجاز، ان کے بیٹے زاویار اعجاز، ہانیہ عامر، کبریٰ خان اور ثانیہ سعید سمیت سامیہ ممتاز اور میکال ذوالفقار بھی شامل ہیں۔

ڈرامے کی ہدایات سیفی حسن نے دی ہیں، جنہوں نے مذکورہ ڈرامے کے پہلے سیزن یعنی ’سنگ مر مر‘ کی ہدایات بھی دی تھیں۔

’سنگ ماہ‘ 2016 میں نشر ہونے والے ڈرامے 'سنگِ مر مر' کا سیکوئل ہے، جس کی کہانی پاکستان کے قبائلی علاقہ جات کے خاندان اور وہاں کی رسم و رواج کے گرد گھومتی ہے، جس وجہ سے شائقین نے اسے بہت سراہا تھا۔

ڈرامے کی کہانی پاکستان کے پشتون قبائلی معاشرے اور روایات کے گرد گھومتی ہے۔

اس اسٹوری کو انگلش میں مکمل پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں