کورونا کا علاج کرنے والی دوا کی عالمی دستیابی کیلئے اہم پیشرفت

20 جنوری 2022
— رائٹرز فائل فوٹو
— رائٹرز فائل فوٹو

اقوام متحدہ کے حمایت یافتہ ادارے نے اعلان کیا ہے کہ اس نے مرک کمپنی کی تیار کردہ کووڈ 19 دوا کی 105 ترقی پذیر ممالک تک سپلائی کے لیے 2 درجن سے زیادہ جنرک ادویات بنانے والی کمپنیوں سے معاہدے کیے ہیں۔

میڈیسنز پیشنٹ پول نے بتایا کہ اس معاہدے کے تحت دوا ساز کمپنیاں مولنیوپیراویر (molnupiravir) نامی دوا کو مرک نے ریج بیک بائیو تھراپیوٹیکس کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔

مولنیوپیراویر کو مرک نے ریج بیک بائیو تھراپیوٹیکس کے ساتھ مل کر تیار کیا ہے۔

یہ دوا کووڈ کے مریضوں کو ابتدائی علامات کے ساتھ استعمال کرانے پر ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 50 فیصد تک کم کردیتی ہے۔

یورپی یونین اور امریکا میں اسے استعمال کرنے کی منظوری بھی دی جاچکی ہے۔

میڈیسنز پیشنٹ پول کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر چارلس گور نے بتایا کہ یہ معاہدے عالمی سطح پر ہنگامی بنیادوں پر کووڈ علاج تک رسائی کے لیے ناگزیز قدم ہیں۔

ادارے کے مطابق 11 ممالک کی 27 کمپنیاں بہت جلد مرک کی کووڈ دوا کو تیار کرنا شروع کردیں گی۔

مرک نے اکتوبر 2021 کو اعلان کیا تھا کہ وہ دیگر کمپنیوں کو اپنی کووڈ دوا تیار کرنے کی اجازت دے گی جس کے لیے رائلٹی اس وقت تک نہیں لی جائے گی جب تک کووڈ کے باعث عالمی سطح پر ایمرجنسی برقرار ہے۔

اس سے قبل نومبر 2021 میں فائزر نے بھی اپنی کووڈ 19 دوا کو 95 ترقی پذیر ممالک میں تیار کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس وقت کمپنی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ ممالک اس دوا کو انٹرنیشنل پبلک ہیلتھ گروپ میڈیسینز پیشنٹ پول (ایم پی پی) کے ساتھ لائسنسنگ معاہدے کے تحت تیار کرسکیں گے۔

فائزر کی جانب سے ان گولیوں کو پیکسلویڈ برانڈ کے نام سے فروخت کیا جائے گا۔

ایم پی پی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر چارلس گور نے بتایا کہ ہم کووڈ 19 سے لوگوں کو بچانے کے لیے اپنے اسلحہ خانے میں ایک اور ہتھیار کی شمولیت پر بہت خوش ہیں۔

انہوں نے کہا ہے کہ توقع ہے کہ فائزر دوا کا جنرک ورژن آئندہ چند ماہ میں دستیاب ہوگا۔

فائزر اور ایم پی پی نے بتایا کہ معاہدے کے تحت جن 95 ممالک کو اس حصہ بنایا گیا ہے وہ دنیا کی 53 فیصد آبادی پر مشتمل ہے اور ان میں غریب، کم آمدنی والے متوسط اور کچھ زیادہ آمدنی والے متوسط ممالک شامل ہیں۔

خیال رہے کہ کورونا وائرس ویکسین تیار کرنے والی کمپنیوں میں سے کسی نے بھی اب تک اس طرح کے معاہدے پر اتفاق نہیں کیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں