پشاور کی روایتی حریف کوئٹہ کے خلاف ایک اور کامیابی

16 فروری 2022

کیا آپ بھی سمجھتے ہیں کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں سب سے بڑی رقابت کراچی اور لاہور کے مابین ہے؟ آپ کہتے ہیں تو ایسا ہی ہوگا لیکن اگر ہم یہ دیکھیں کہ کن ٹیموں کے درمیان سب سے زبردست معرکے ہوتے ہیں تو یہ ہوتے ہیں کوئٹہ-پشاور مقابلے!

پی ایس ایل کے پہلے سیزن میں ہی کوئٹہ نے پشاور کو کوالیفائر جیسے اہم مقابلے میں صرف ایک رن سے ہرایا تھا۔ بلکہ اگلے سال یعنی دوسرے سیزن میں بھی کوالیفائر ہی میں کوئٹہ صرف ایک رن سے فتح یاب ہوا تھا۔ جبکہ تیسرے سیزن میں پشاور نے ایلیمنیٹر میں صرف ایک رن سے کامیابی حاصل کرکے کوئٹہ کو فائنل کی دوڑ سے باہر کردیا تھا۔ جس کا بدلہ کوئٹہ نے 2019ء میں نہ صرف کوالیفائر بلکہ فائنل میں بھی پشاور کو ہرا کر پوری طرح لیا۔

پھر کوئٹہ کو ناجانے کس کی نظر لگ گئی؟ مسلسل 2 سال ٹیم پہلے ہی مرحلے میں باہر ہو رہی ہے اور اب پشاور کے ہاتھوں شکست کے بعد ایک مرتبہ پھر اس کے سر پر تلوار لٹک رہی ہے۔


گرما گرم ماحول


اگر رواں سال ہونے والے پشاور-کوئٹہ معرکے دیکھے جائیں تو شاید سنسنی خیزی میں تو یہ پہلے جیسے نہیں، لیکن اگر رقابت کو اپنے حقیقی معنی دشمنی میں لیا جائے تو اس لحاظ سے اس بار خوب گرما گرمی نظر آئی ہے۔ بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ معاملات افسوسناک حد تک جا پہنچے کہ جہاں دونوں ٹیموں کے کھلاڑیوں نے ایک دوسرے کے خلاف فحش اشارے بھی کیے۔ ایسا ماحول تو کبھی کراچی-لاہور مقابلوں میں بھی نہیں دیکھا گیا۔

بہرحال، ایک ایسے مقابلے میں، جو ٹاپ 4 میں آنے کے لیے ضروری تھا، پشاور نے کوئٹہ کو 24 رنز سے شکست دے کر سُکھ کا سانس ضرور لیا ہوگا۔


شرمناک مناظر


تو پہلے بات کرلیتے ہیں کوئٹہ-پشاور مقابلے کے اس لمحے کی، جس نے سب کا سر شرم سے جھکا دیا ہوگا۔ پشاور زلمی کے بلے باز بین کٹنگ نے 19ویں اوور میں سہیل تنویر کو 4 کرارے چھکے رسید کیے اور پھر ان کی طرف رخ کرکے دونوں ہاتھوں سے فحش اشارے کیے۔ پھر آخری اوور میں جب کٹنگ کا کیچ سہیل تنویر ہی نے پکڑا تو انہوں نے اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور ویسے ہی اشارے کیے۔

ویسے کٹنگ اور سہیل کی یہ 'دشمنی' اچانک پیدا نہیں ہوگئی، بلکہ سالہا سال سے چل رہی ہے۔ دراصل 2018ء میں کیریبیئن پریمیئر لیگ (سی پی ایل) کے ایک میچ میں سہیل تنویر نے گیانا ایمیزن واریئر کی جانب سے کھیلتے ہوئے سینٹ کٹس اینڈ نیوس پیٹریاٹس کے بین کٹنگ کو آؤٹ کیا تھا اور اس کے بعد انہیں فحش اشاروں کے ذریعے میدان سے رخصت کیا۔ انہیں اس حرکت پر 15 فیصد جرمانہ بھی لگا تھا۔ لیکن اب لگتا ہے کہ جرمانہ دونوں پر لگے گا۔


برتھ ڈے بوائے کا جادو


کوئٹہ کے فاسٹ باؤلر نسیم شاہ نے اپنی 19ویں سالگرہ کے دن غیر معمولی کارکردگی دکھائی۔ اپنے پہلے اوور کی پہلی ہی گیند پر انہوں نے حضرت اللہ زازئی کو وکٹوں کے سامنے جا لیا اور پھر پچھلے روز انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) میں ساڑھے 11 کروڑ بھارتی روپے کی ناقابلِ یقین قیمت پر فروخت ہونے والے لیام لوِنگسٹن کو کلین بولڈ کیا۔

نسیم کا یہ اوور بار بار دیکھنے کے قابل ہے۔ پھر ایک ایسے وقت جب سب بُری طرح پٹ رہے تھے، سہیل تنویر تو ایک اوور میں 4 چھکے تک کھا بیٹھے، تب نسیم نے آخری اوور میں صرف 3 رنز دے کر 2 وکٹیں لیں۔


اولڈ اِز گولڈ


وہ کہتے ہیں نا کہ اولڈ اِز گولڈ، تو شعیب ملک نے ایک مرتبہ پھر اس مقولے کو ثابت کیا ہے۔ ابتدا ہی میں 2 وکٹیں گرنے کے بعد ملک صاحب نے میدان سنبھالا اور 41 گیندوں پر 58 رنز کی ایک بہت اہم اننگ کھیلی۔

اس دوران وکٹ کیپر محمد حارث اور پھر حسین طلعت نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان دونوں کے ساتھ ملا کر وہ اسکور کو 15ویں اوور میں 131 تک لے گئے۔ حسین طلعت کے 33 گیندوں پر 51 اور آخر میں بین کٹنگ کی 14 گیندوں پر 36 رنز کی اننگ نے پشاور کو 185 رنز تک پہنچا دیا، جو کوئٹہ کے لیے کافی سے زیادہ ثابت ہوا۔


بدقسمت سمیڈ


اب 186 رنز کے ہدف کے تعاقب میں کوئٹہ کو اپنے بلے بازوں سے کسی خاص کارکردگی کی توقع تھی، لیکن حقیقت یہ ہے کہ سوائے ول سمیڈ کے کوئی بھی نہیں چل پایا۔

آپ کو یاد ہوگا کہ سمیڈ نے پشاور کے خلاف پچھلے میچ میں بھی 97 رنز کی اننگ کھیلی تھی اور آخری گیند پر چھکا لگانے کی کوشش میں باؤنڈری لائن پر آؤٹ ہوگئے تھے۔ لیکن آج تو ان کی بدقسمتی کی حد ہی ہوگئی۔ وہ 99 رنز بنانے کے بعد ایک فل ٹاس پر کلین بولڈ ہوگئے۔ یعنی اس مرتبہ تو صرف ایک قدم کے فاصلے سے سنچری سے رہ گئے۔

لیکن سمیڈ سے ہٹ کر دیکھیں تو کوئٹہ کے دیگر بلے بازوں کی حالت کا اندازہ ہوجاتا ہے: ایک طرف سمیڈ کے صرف 60 گیندوں پر 99 رنز تو دوسری جانب پوری ٹیم کوئٹہ کے 61 گیندوں پر 56 رنز۔ ایسی کارکردگی سے بھلا کون میچ جیت سکتا ہے؟


عظیم عبد القادر کی جھلک


پشاور کی کامیابی میں نمایاں کردار لیگ اسپنر عثمان قادر کا تھا۔ ان کے ایک ہی اوور میں افتخار احمد اور عمر اکمل کی وکٹ گرنے سے پشاور مقابلے میں واپس آیا۔ جی ہاں! انہوں نے اپنے بہنوئی عمر اکمل کو بھی نہیں بخشا۔

اس سے پہلے وہ جیمز ونس کو ایک مرتبہ پھر صفر کی ہزیمت سے دوچار کرچکے تھے۔ ونس نے رواں سیزن میں 5 اننگز میں 3 'انڈے' کھائے ہیں، لیکن یہ گیند ایسی تھی کہ جس پر وِنس کی نااہلی کا ذکر نہیں بلکہ عثمان قادر کے کمالِ فن کو داد بنتی ہے۔ یہ ایک ناقابلِ یقین گگلی تھی کہ جس پر بقول شخصے عبد القادر کی یاد آگئی۔ عمر اکمل کو پھینکی گئی گیند بھی بہت خوب تھی، جس پر ان کا توازن بگڑا اور باقی کا کام وکٹ کیپر نے انجام دے دیا۔


دن کا خوبصورت ترین کیچ


اب پشاور کو کامیابی بہت قریب نظر آرہی تھی۔ 19ویں اوور میں نئے بلے باز نور احمد نے ایک اٹھتی ہوئی گیند پر شاٹ کھیلنا چاہا، لیکن وہ بیرونی کنارہ لیتی ہوئی فضا میں بلند ہوگئی۔ سلمان ارشاد گیند کی طرف دوڑے اور ساتھ ہی وکٹ کیپر محمد حارث بھی، سلمان گیند تک پہلے پہنچ تو گئے لیکن اسے پکڑ نہ سکے۔ بال ان کے ہاتھ میں آکر اچھل گئی۔ تب حارث نے ایک خوبصورت ڈائیو کرکے کیچ تھام لیا۔


پشاور کے حوصلے اب بلند


اب پشاور 8 میچوں میں 4 فتوحات کے ساتھ چوتھے نمبر پر آگیا ہے جبکہ اتنے ہی میچوں میں کوئٹہ کی صرف 3 کامیابیاں ہیں۔ گوکہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے بھی پشاور ہی کی طرح 8 پوائنٹس ہیں لیکن انہوں نے یہ 7 میچوں میں حاصل کیے ہیں یعنی ان کے 3 مقابلے ابھی باقی ہیں۔

ٹاپ پوزیشن کے لیے فی الحال ملتان سلطانز اور لاہور قلندرز لڑ رہے ہیں۔ کراچی اپنے اب تک کھیلے گئے تمام ساتوں میچ ہار کر اعزاز کی دوڑ سے باہر ہوچکا ہے۔


کوئٹہ ایک ڈوبتا جہاز؟


سرفراز الیون کے لیے حالات صرف میدان ہی میں نہیں، اس سے باہر بھی مشکل ہوتے جارہے ہیں۔ ایک ایسی ٹیم جو پی ایس ایل تاریخ کی کامیاب ترین ٹیم تھی، مسلسل تیسرے سیزن میں مایوس کن کارکردگی پیش کر رہی ہے۔

رواں سال تو کوئٹہ کی قسمت بھی بہت خراب رہی۔ پہلے مرکزی باؤلر محمد حسنین کا باؤلنگ ایکشن پابندی کی زد میں آیا، پھر اہم ترین آل راؤنڈر محمد نواز اور انگلش باؤلر لیوک وڈ زخمی ہوکر باہر ہوئے۔ آخر میں جو کمی رہ گئی تھی وہ بین ڈکٹ کے جانے سے پوری ہوگئی جنہوں نے ذاتی وجوہات کی بنا پر اپنا نام لیگ سے واپس لے لیا ہے۔ یوں گلیڈی ایٹرز 4 اہم کھلاڑیوں کے بغیر کھیل رہے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ کوئٹہ نے لاہور قلندرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف 2 شاندار فتوحات سے جو مومینٹم حاصل کیا تھا، وہ آخری 2 میچوں میں کھو چکا ہے۔ پہلے قلندرز نے اپنا بھرپور بدلہ لیا اور اب پشاور نے دوسری مرتبہ مکمل طور پر آؤٹ کلاس کیا ہے۔

اب باقی ماندہ 2 میچوں میں انہیں کچھ خاص کر دکھانا ہوگا اور شاید دیگر ٹیموں کے نتائج کا انتظار بھی کرنا ہوگا، تبھی اگلے مرحلے کی کوئی سبیل بن سکتی ہے، ورنہ 'پرپل فورس' مسلسل تیسرے سال پہلے ہی مرحلے میں باہر ہوجائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں