’کراچی کنگز کی ناکامیوں کے ذمہ دار صرف کھلاڑی نہیں بلکہ کوچنگ اسٹاف بھی ہے‘

17 فروری 2022

کراچی کنگز کی قسمت میں تو شاید شکست اور مسلسل شکست ہی لکھ دی گئی ہے، کیونکہ اب ٹورنامنٹ بس اپنے اختتام پر ہے مگر یہ ٹیم ابھی تک پہلی جیت کے لیے ترس رہی ہے۔

خیال تھا کہ ایونٹ جب کراچی سے لاہور منتقل ہوگا تو قسمت بھی شاید پلٹا کھا جائے مگر نہیں، ایسا بالکل نہیں ہوسکا اور کراچی کنگز کو گزشتہ روز لگاتار آٹھویں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔

اگرچہ آخری دو میچوں میں یہ ٹیم اس سیزن میں پہلی مرتبہ مقابلہ کرتی نظر آئی، مگر نتیجہ نہ تبدیل ہوسکا۔ ایک خیال یہ بھی تھا کہ چونکہ یہ ٹیم ایونٹ سے باہر ہوچکی ہے، اس لیے اب اس پر دباؤ ختم ہوگیا ہوگا تو شاید یہ بے خوف ہوکر کھیلیں اور جیت مقدر بن جائے، مگر ایسا بھی نہیں ہوسکا۔

ابتدائی 6 میچوں میں کپتان بابر اعظم نے رنز تو بنائے مگر وہ اتنے سست رفتار تھے کہ لوگوں نے کہنا شروع کردیا کہ ایسے اسکور کرنے سے تو بہتر ہے کہ وہ جلد آؤٹ ہوجائیں۔ اب آخری 2 میچوں میں وہ جلد آؤٹ ہوئے تو کراچی جیت کے قریب تو پہنچا مگر منزل تک نہ پہنچ سکا۔

کپتان بابر اعظم سمیت کراچی کے باقی تمام کھلاڑی ایسے کھیل رہے ہیں جیسے وہ ابھی یہ کھیل کھیلنا سیکھ رہے ہیں۔ شرجیل خان اور جو کلارک جو تیز کھیلنے کے لیے مشہور ہیں، وہ بھی بڑے شاٹس کھیلنا بھول گئے ہیں۔ اگر ایک دو مرتبہ بڑے شاٹس لگ بھی جائیں تو پھر بقیہ گیندیں ضائع کرکے حساب برابر کردیتے ہیں۔

یاد رہے کہ ان مسسلسل ناکامیوں کا ذمہ دار کوئی ایک فرد یا میدان میں کھیلنے والے کھلاڑی نہیں، بلکہ کوچنگ اسٹاف پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ یہ بات اس لیے کہی جارہی ہے کہ اگر آپ کو اسلام آباد یونائیٹڈ اور کراچی کنگز کے درمیان آخری میچ یاد ہو جب اننگ کے درمیان یونائیٹڈ کے کپتان شاداب خان اور نوجوان فاسٹ باؤلر ذیشان ضمیر فٹنس کے مسائل کے سبب میدان سے باہر چلے گئے تھے۔

یہ صورتحال کسی بھی ٹیم کے لیے آسان نہیں ہوتی کہ نہ صرف اس کا کپتان بلکہ 2 اہم باؤلر انجری کے سبب اپنے اسپیل مکمل نہ کرسکیں، لیکن ٹی وی اسکرینز پر ہم سب نے دیکھا کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کا کوچنگ اسٹاف کس طرح صورتحال کو قابو کرنے کی کوشش کرتا دکھائی دے رہا تھا۔ اظہر محمود، سعید اجمل، حسن چیمہ، ریحان الحق اور باقی سبھی متعلقہ لوگ باؤنڈری لائن پر سر جوڑے کھڑے تھے۔ میدان میں ضرور آصف علی کپتان تھے لیکن ان کے لیے سارے پلانز باہر سے جارہے تھے۔ انہی پلانز کے مطابق آصف علی کو بطور باؤلر استعمال کیا گیا اور حسن علی اور فہیم اشرف کی مہنگی ترین باؤلنگ کے باوجود اسلام آباد میچ جیت گیا۔

اس میچ میں کراچی کنگز ہدف کا دفاع نہ کرپائی لیکن بطور باؤلر ٹیم میں شامل جورڈن تھامپسن اور آل راؤنڈر قاسم اکرم کو ایک بھی اوور کے قابل نہیں سمجھا گیا۔ جہاں باقی ٹیموں کا کوچنگ اسٹاف کپتان کی ہر ممکن مدد کرتے نظر آرہے ہیں وہیں کراچی کنگز کا کوچنگ اسٹاف مکمل طور پر غائب نظر آرہا ہے۔ کیا وسیم اکرم کا کام صرف آخر میں غصہ دکھانا ہی ہے؟

دوسری جانب اگر بات کریں ملتان سلطانز کی تو ان کے لیے شکست ایک ایسا لفظ ہے جسے وہ جانتے ہی نہیں۔ جب ٹیمیں مسلسل پہلے باؤلنگ کرکے جیت رہی تھیں، تب ملتان سلطانز نے پہلے بیٹنگ کرکے میچ جیتا اور سبھی ٹیموں کو بتا دیا کہ ٹاس اہم ضرور ہے لیکن ٹاس میچ کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ ملتان کے کپتان محمد رضوان کسی میچ میں بہترین فارم میں نظر آئے تو کسی میں زیادہ روانی سے اسکور نہ کرسکے مگر اس سے نہ ان کی کپتانی پر فرق پڑا اور نہ ہی ملتان سلطانز کے نتائج پر۔

بابر اعظم نے ٹاس جیت کر اس بار پہلے بیٹنگ کا فیصلہ کیا لیکن اس کا فائدہ خود نہ اٹھا سکے اور دوسرے ہی اوور میں پویلین لوٹ گئے۔ وہ میر حمزہ کی بال پر ایل بھی ڈبلیو ہوئے اور واضح طور پر وہ آؤٹ نظر آرہے تھے مگر اس کے باوجود انہوں نے خود کو بچانے کے لیے ریویو لیا جو غلط ثابت ہوگیا۔ جب کسی بھی کھلاڑی سے فارم روٹھ جائے یا اسے مطلوبہ نتائج نہ مل رہے ہوں تو پھر غلط فیصلہ ہو ہی جاتے ہیں۔

شرجیل خان اور جو کلارک نے اننگ کو آگے تو بڑھایا مگر اننگ میں روانی نہ تھی۔ ایک کھلاڑی رنز کی رفتار کو تیز کرنے کی کوشش کرتا تو دوسرے کو بریک لگ جاتی۔ جب ان دونوں کھلاڑیوں نے 72 رنز کی شراکت داری قائم کی تو لگ رہا تھا کہ یہ دونوں سیٹ ہوچکے ہیں اور اننگ میں ٹربو لگنے کا وقت ہوچکا ہے مگر اگلے 10 رنز کے اندر اندر یہ دونوں ہی کھلاڑی ہمت ہار گئے۔

پچھلے میچ میں زبردست اننگ کھیلنے والے قاسم اکرم سے اس میچ میں بھی بہت امیدیں تھیں مگر وہ ایک چھکا لگانے کے بعد دوسری کوشش میں ناکام ہوگئے۔ ان کے بعد محمد نبی آئے مگر وہ اس بار بھی کچھ نہ کرسکے۔

اس بار کراچی کی جانب سے کھیلنے والا ویسے تو کوئی بھی کھلاڑی اپنے رنگ نہیں دکھا سکا، پھر چاہے وہ ڈومیسٹک میں اچھی کارکردگی دکھانے والے صاحبزادہ فرحان ہوں یا 150 کا اسٹرائیک ریٹ رکھنے والے جو کلارک لیکن سب سے زیادہ مایوس محمد نبی نے کیا۔ ماضی میں نبی یقینی طور پر شاندار کھیل کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں مگر لگتا ہے کہ 37 سالہ آل راؤندر کا وقت اب ختم ہوچکا ہے۔

عماد وسیم پچھلے میچ میں ایک عمدہ اننگ کھیلنے میں کامیاب ہوئے تھے اور قاسم اکرم کے ساتھ وہ کراچی کو جیت کے بالکل قریب لے آئے تھے، مگر مطلوبہ نتیجہ نہ مل سکا۔ ملتان کے خلاف اس میچ میں بھی جب کراچی کی صورتحال بہت خراب لگ رہی تھی اور ایسا لگ رہا تھا کہ کراچی شاید 150 تک بھی نہ پہنچ سکے، تب عماد نے مشکل وقت میں آکر محض 16 گیندوں پر 32 رنز کی تیز اننگ کھیل کر صورتحال کو قابو کرلیا۔ اگر عماد کو محمد نبی سے پہلے بھیج دیا جاتا تو عین ممکن ہے کہ ہدف 185 سے بھی زیادہ ہوسکتا تھا۔ لیکن بات وہی ہے کہ ان مسلسل ناکامیوں کی وجہ سے نہ کپتان ٹھیک فیصلے کر پارہے ہیں اور نہ ہی کوچنگ اسٹاف اس مشکل وقت میں کوئی اہم کردار ادا کررہے ہیں۔

اس وکٹ پر 175 کا ہدف ویسے تو کسی بھی ٹیم کے لیے زیادہ مشکل نہیں تھا، اور پھر جب مدمقابل ملتان ہو تو یہ ہدف مزید آسان ہوجاتا ہے۔ ہاں اگر کراچی کے باؤلر ابتدا میں جلد وکٹیں حاصل کرلیتے تو صورتحال بہتر ہوجاتی مگر ملتان کے اوپنرز محمد رضوان اور شان مسعود نے ایسے تمام پلانز کو مکمل طور پر ناکام بنادیا۔ اگرچہ دونوں نے بہت تیز بیٹنگ تو نہیں کی مگر 100 رنز تک کوئی بھی وکٹ نہ گرنے دی اور مطلوبہ رن ریٹ کو بھی پہنچ سے باہر نہیں ہونے دیا۔

یہاں ایک بات کی یاددہانی کرواتے چلیں کہ جب آپ مسلسل ہار رہے ہوتے ہیں تو خراب فیصلے ہوتے ہیں، مگر جب آپ جیت رہے ہوتے ہیں اور آپ کا اعتماد بلندیوں کو چُھو رہا ہوتا ہے تو آپ سے فیصلے بھی ٹھیک ہورہے ہوتے ہیں اور ملتان نے بھی کچھ ایسا ہی کیا۔

جب آخری 5 اوورز میں تقریباً 75 رنز درکار تھے تو انہوں نے بیٹنگ آرڈر کو حالات کے مطابق تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا اور تیسرے نمبر پر ہی ٹم ڈیوڈ بیٹنگ کے لیے آگئے۔ اگرچہ اس میچ میں ٹم ڈیوڈ امیدوں پر پورا نہ اترسکے لیکن ان کی کمی کو کپتان محمد رضوان نے پورا کیا اور اگلی 9 گیندوں پر 25 رنز بناکر آنے والے کھلاڑیوں کے لیے ماحول سازگار بنادیا۔

عام طور پر خوشدل شاہ تیز بیٹنگ کی وجہ سے مشہور ہیں مگر اس ٹورنامنٹ میں حیران کن طور پر وہ اپنی باؤلنگ کے سبب زیادہ خبروں میں رہے ہیں لیکن ایسا ہرگز نہیں کہ بیٹنگ کے شعبے میں وہ بالکل خاموش ہیں۔ اس میچ سے پہلے انہوں نے لاہور قلندرز کے خلاف آخری اوور میں ملتان کو زبردست کامیابی دلوائی تھی اور آج وہی کردار انہوں نے کراچی کے خلاف نبھایا۔

ملتان کو آخری 2 اوورز میں 29 رنز درکار تھے جو یقیناً آسان ہدف نہیں تھا، مگر خوشدل شاہ نے اسے بالکل آسان کردیا۔ 19ویں اوور میں کرس جارڈن کے اوور میں انہوں نے 2 چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے باآسانی 20 رنز سمیٹ لیے اور یوں ملتان کو یہ میچ 7 وکٹوں سے جتوا دیا۔

کراچی کنگز کی ٹیم تو پہلے ہی اس ٹورنامنٹ کے پلے آف مرحلے سے باہر ہوچکی تھی مگر اس میچ کے نتیجے کے بعد اب ملتان سلطان کا پوائنٹس ٹیبل پر پہلے دو نمبروں پر آنا بھی یقینی ہوچکا ہے۔

ضرور پڑھیں

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

’اللہ ہمارے ساتھ تھا‘

ورلڈ کپ 1992ء کے فائنل میں پاکستان کے ہاتھوں ہار سہنے کے بعد تو حوصلے ایسے ٹوٹے کہ دوبارہ فائنل تک پہنچنے میں 27 سال لگ گئے۔

تبصرے (0) بند ہیں