لمپی اسکن کی وبا انسانوں میں منتقل نہیں ہوتی، تحقیق

اپ ڈیٹ 11 مارچ 2022
تحقیق میں ماہرین نے گوشت کو اچھی طرح پکانے اور دودھ کو اچھی طرح ابالنے کا مشورہ دیا— فائل فوٹو: ڈان نیوز
تحقیق میں ماہرین نے گوشت کو اچھی طرح پکانے اور دودھ کو اچھی طرح ابالنے کا مشورہ دیا— فائل فوٹو: ڈان نیوز

سندھ کے شہری علاقوں کے مویشی باڑوں کے متعددجانوروں میں لمپی اسکن کی وبا پھیلنے کے بعد شہری کئی ہفتوں سے بے چینی اور خوف میں مبتلا تھے، تاہم آغا خان یونیورسٹی ہسپتال (اےکے یو ایچ) نے واضح کیا ہے کہ یہ وبا ’انسانوں میں بیماری کا سبب‘ نہیں بنتی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اے کے ایچ یو نے تفصیلی تحقیق کے بعد نتیجہ اخذ کیا ہے کہ وبا سے متاثر جانوروں کے گوشت اور دودھ کے استعمال سے ’انسانی جسم میں بیماری منتقل نہیں ہوتی‘۔

اپنی تحقیق ’ ایمرجنگ انفیکشن الرٹ: لمپی اسکین ڈیزیز‘ میں ادارے نے کھانے کی حفاظت اور تمام مناسب احتیاطی تدابیر پر زور دیا اور صرف جراثیم سے پاک کردہ یا اچھی طرح ابلا ہوا دودھ یا اس کی مصنوعات اور اچھی طرح پکا ہوا گوشت کھانے کا کہا۔

یہ بھی پڑھیں: لمپی اسکن بیماری خطرناک ہے، 20 ہزار سے زائد مویشی متاثر ہوچکے، وزیر لائیو اسٹاک سندھ

تفصیلات اور حوالہ جات کے مطابق متعدی مرض پھیلنے کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ وبا کیڑوں کے کاٹنے، زخم اور جراثیم زدہ اشیا کے ذریعے پھیل سکتی ہے۔

صارفین کے لیے اس تحقیق کا سب سے متعلقہ حصہ ’انسان زندگی کو لاحق خطرہ‘ تھا، جس سے متعلق ادارے نے تقریباً ہر اہم سوال کا جواب دیا اور پہلے نکتے میں ہی کہا گیا کہ ’اس کا نقصان نہ ہونے کے برابر ہے‘۔

تحقیق کاروں کا کہنا تھا کہ’ گوشت اور دودھ پینے سے انسانوں میں یہ بیماری پھیلنے کے کوئی شواہد نہیں ملتے‘۔

تاہم انہوں نے کہا کہ دیگر انفیکشنز سے بچنے کے لیے غذائی تحفظ کو یقینی بنانا چاہیے، جس میں جراثیم سے پاک یا اچھی طرح پکے ہوئے دودھ یا اس کی مصنوعات کا استعمال، گوشت کو اچھی طرح پکانے اور اس گوشت کو چھونے کے بعد صابن اور پانی سے اچھی طرح ہاتھ دھونا شامل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی سمیت سندھ کے کئی اضلاع کے مویشی باڑوں میں وبائی مرض پھوٹ پڑا

تحقیق کے آغاز میں ہی اے کے یو ایچ نے یہ بات واضح کردی تھی کہ ’یہ وبا مویشیوں کی ہے اور اس سے انسانوں میں بیماری نہیں ہوتی‘۔

علاوہ ازیں آغا خان یونیورسٹی کی جانب سے تحقیق پر وضاحتی بیان جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تحقیق میں موجود مواد عالمی ادارہ برائے صحت حیوانیات سے لیے گئے ہیں، تاہم آغا خان یونیورسٹی میں اس حوالے سے جانوروں اور یا کسی مریض پر کوئی تحقیق نہیں کی گئی ہے۔

یاد رہے کہ 9 مارچ کو وزیر لائیو اسٹاک سندھ عبدالباری پتافی نے کہا تھا کہ لمپی اسکن ڈیزیز (ایل ایس ڈی) خطرناک بیماری ہے جو اب تک 20 ہزار جانوروں میں پھیل چکی ہے، 15 ہزار سےزائد جانور کراچی میں بیمار ہوئے ہیں جبکہ 30 فیصد جانور صحتیاب بھی ہوئے ہیں۔

صوبے میں 20 ہزار 250 جانوروں میں یہ بیماری پائی گئی تھی جن میں کراچی میں 15 ہزار ایک سو، ٹھٹہ میں 3 ہزار 781، حیدر آباد میں 149، بدین میں 656، جامشورو میں 85، خیرپور میں 121، سجاول میں 91، مٹیاری میں 64، شہید بے نظیر آباد میں 35، سانگھڑ میں 124، تھانہ بولا خان میں 36، قمبر شہداد کوٹ میں 4 اور ٹنڈو محمد خان اور دادو میں 2، 2 جانور شامل ہیں۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں