لمپی اسکن بیماری خطرناک ہے، 20 ہزار سے زائد مویشی متاثر ہوچکے، وزیر لائیو اسٹاک سندھ

اپ ڈیٹ 09 مارچ 2022
لمپی اسکن بیماری 2012 سے دنیا کے مختلف ممالک میں موجود تھی اور اس سال یہ بھارت، ایران اور اب پاکستان میں نمودار ہوئی ہے — فائل فوٹو: ڈان
لمپی اسکن بیماری 2012 سے دنیا کے مختلف ممالک میں موجود تھی اور اس سال یہ بھارت، ایران اور اب پاکستان میں نمودار ہوئی ہے — فائل فوٹو: ڈان

وزیر لائیو اسٹاک سندھ عبدالباری پتافی نے کہا ہے کہ لمپی اسکن ڈیزیز (ایل ایس ڈی) خطرناک بیماری ہے، بیماری اب تک 20 ہزار جانوروں میں پھیل چکی، 15 ہزار جانور کراچی میں بیمار ہوئے ہیں جبکہ 30 فیصد جانور صحتیاب ہوئے ہیں۔

عبدالباری پتافی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جن جانوروں میں بیماری ہے ان جانوروں کو الگ کردیا جاتا ہے، اس وائرس کا پہلا کیس نومبر میں آیا تھا، جب نیا وائرس آیا تو اس کے ٹیسٹ کے لیے ہم نے نمونے بھیجے تھے، 3 مارچ کو وفاقی حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا، 4 مارچ کو اس کو کنفرم کیا گیا جس کے بعد ہم نے لوگوں کو اس سے متعلق آگاہ کرنا شروع کردیا تھا۔

صوبائی وزیر لائیو اسٹاک نے کہا کہ اس کی ویکسین کو درآمد کرنا بھی مشکل ہے، اس ویکسین کو بہت احتیاط سے لگانا پڑتا ہے، یہ وائرس ایک جانور سے دوسرے میں منتقل ہو رہا ہے، یہ بیماری جنوبی افریقہ سے شروع ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: عید قرباں پر کانگو وائرس پھیلنے کا خطرہ

انہوں نے بتایا کہ یہ بیماری اب تک تقریباً 20 ہزار جانوروں میں پھیل چکی ہے، تقریباً 15 ہزار جانور کراچی میں بیمار ہوئے ہیں، جتنے جانور بیمار ہوئے ان میں سے 30 فیصد صحتیاب ہو رہے ہیں۔

صوبائی وزیر نے کہا کہ جانوروں میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے جبکہ ہماری قیادت نے اس کا نوٹس لیا ہے اور ہم سب اس کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

انہوں نے احتیاطی تدابیر متعلق بات کرتے ہوئے بتایا کہ مچھر مار اسپرے زیادہ سے زیادہ کریں گے، اس سلسلے میں ہم نے میونسپل کمشنر کو خط لکھا دیا ہے، باڑوں میں زیادہ سے زیادہ اسپرے کیا جائے گا، وفاقی حکومت سے کہا ہے کہ ہمیں ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دے، اس سلسلے میں ڈریپ سے بھی ہماری بات چیت چل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے کسان پریشان نہ ہوں، ابھی تک صوبے میں 67 جانور مرے ہیں جبکہ ہماری پوری حکومت اس بیماری کے خاتمے کے لیے سنجیدہ ہے اور جلد ازجلد اس کی ویکسین درآمد کرلیں گے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں کانگو وائرس کے 2 کیسز رپورٹ

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ چیف سیکریٹری ممتاز علی شاہ کی صدارت میں اہم اجلاس ہوا جس میں محکمہ لائیو اسٹاک کے سیکریٹری اور ڈائریکٹر جنرل نے شرکت کی۔

سیکریٹری لائیو اسٹاک کا کہنا تھا کہ پنجاب اور سندھ میں جانوروں میں جلد کی گانٹھ کی بیماری ظاہر ہوئی ہے۔

ایل ایس ڈی کی وجہ سے اب تک 54 جانور ہلاک ہوچکے ہیں، اس بیماری سے اب تک 20 ہزار سے زیادہ جانور متاثر ہوچکے ہیں، سندھ بھر میں بیمار جانوروں میں سے صرف کراچی میں 15 ہزار سے زائد جانور شامل ہیں۔

صوبے میں اب تک 20 ہزار 250 جانوروں میں یہ بیماری پائی گئی ہے جن میں کراچی میں 15 ہزار ایک سو، ٹھٹہ میں 3 ہزار 781، حیدر آباد میں 149، بدین میں 656، جامشورو میں 85، خیرپور میں 121، سجاول میں 91، مٹیاری میں 64، شہید بے نظیر آباد میں 35، سانگھڑ میں 124، تھانہ بولا خان میں 36، قمبر شہداد کوٹ میں 4 اور ٹنڈو محمد خان اور دادو میں 2، 2 جانور شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ سندھ کا مویشیوں میں وبائی بیماری پھیلنے کا نوٹس

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ صوبے میں اب تک 54 جانور وائرس کی وجہ سے جاں بحق ہو چکے ہیں جبکہ صوبے بھر میں وائرس سے متاثر ہونے والے 4751 جانور صحت یاب ہو چکے ہیں۔

اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ یہ بیماری 2012 سے دنیا کے مختلف ممالک میں موجود تھی اور اس سال یہ بھارت، ایران اور اب پاکستان میں نمودار ہوئی ہے۔

اجلاس کے دوران چیف سیکریٹری نے بیماری سے متاثرہ علاقوں میں ویکسی نیشن مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا اور محکمہ لائیو اسٹاک کو ہدایت کی کہ وہ بیماری سے متاثرہ جانوروں کو ویکسین لگائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ جانوروں کی ویکسی نیشن کے ساتھ ساتھ جلد کی دیگر ادویات بھی مویشیوں کو دی جائیں اور متاثرہ علاقوں سے جانوروں کی نقل و حمل بھی بند کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی سمیت سندھ کے کئی اضلاع کے مویشی باڑوں میں وبائی مرض پھوٹ پڑا

چیف سیکریٹری نے لائیو اسٹاک حکام کو ہدایت کی کہ وہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے مویشی کھیتوں میں اور اس کے آس پاس مچھر مار اسپرے کریں اور مویشی مالکان کو بیماری سے متعلق آگاہی بھی فراہم کریں۔

اجلاس میں موجود حکام کا کہنا تھا کہ یہ بیماری جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے کا امکان نہیں ہے۔

محکمہ لائیو اسٹاک نے حیدر آباد میں ایک ہیلپ لائن ڈیسک (0229201913) بھی قائم کی ہے۔

گزشتہ ہفتے بیماری کے پھیلاؤ سے مویشیوں کے فارمرز خاص طور پر کراچی کی بڑی مویشی منڈی میں موجود باڑوں کے مالکان میں بے چینی اور افراتفری پھیل گئی تھی۔

ڈیری فارمرز کے مطابق بیماری سے متاثرہ جانوروں کی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے جس سے بعض صورتوں میں جانوروں کی اموات بھی ہو رہی ہیں۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں