نوجوان ماڈلز کو ’ان پڑھ‘ کہنے پر نادیہ حسین کو تنقید کا سامنا

نادیہ خان نے ٹاک شو میں ماڈلز کے خلاف باتیں کی تھیں—اسکرین شاٹ
نادیہ خان نے ٹاک شو میں ماڈلز کے خلاف باتیں کی تھیں—اسکرین شاٹ

سابق سپر ماڈل، اداکارہ اور میک اپ آرٹسٹ نادیہ حسین کو نئے نسل کی ماڈلز کو ’ان پڑھ‘ اور اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھنے کا طعنہ دیے جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

نادیہ حسین حال ہی میں فیشن ڈیزائنر دیپک پروانی کے ہمراہ ’ٹائم آؤٹ ود احسن‘ میں شریک ہوئیں، جہاں دونوں نے فیشن اور ماڈلنگ کی دنیا پر کھل کر باتیں کیں۔

پروگرام میں نادیہ حسین نے اعتراف کیا کہ اگرچہ وہ پہلے ہی ماڈلنگ شروع کر چکی تھیں، تاہم انہیں شہرت دیپک پروانی کے فوٹوشوٹ کے بعد ملی۔

پروگرام کے دوران دیپک پروانی نے بتایا کہ انہوں نے نادیہ حسین کے چہرے اور ان کی جسامت کو دیکھتے ہوئے اپنی تشہیری مہم کے لیے منتخب کیا تھا اور اتفاق سے ان کا فوٹوشوٹ بہتر ہوا اور نادیہ حسین راتوں رات سپر ماڈل بن گئیں۔

ایک سوال کے جواب میں دیپک پروانی اور نادیہ حسین نے کہا کہ سال 2000 ماڈلنگ اور فیشن کے لیے بلکل مختلف تھا اور اب بہت ساری چیزیں تبدیل ہو چکی ہیں، اب سوشل میڈیا کا دور ہے، جہاں اخلاقیات سکھانے والی فوج بیٹھی ہے جو تھوڑی تھوڑی باتوں پر اخلاقیات کا درس دیتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں نادیہ حسین نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر مختصر لباس پہننے کی عادی نہیں ہیں اور نہ ہی اس کے حق میں ہیں مگر چوں کہ بعض فیشن شوز میں تخلیقیت کا عنصر بھی رہا ہے، اس لیے انہوں نے ایسے لباس بھی پہنے۔

بعد ازاں انہوں نے ماضی کی فیشن انڈسٹری اور ماڈلنگ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کوئی بھی فیشن ڈیزائنر مشکل سے اپنی مہم کے لیے 20 ماڈلز اکٹھی کرلیتا تھا مگر اب تو ہر شو میں چالیس چالیس لڑکیاں موجود ہوتی ہیں۔

نادیہ حسین نے کہا کہ ماضی میں ماڈلنگ کی دنیا میں آنے والی لڑکیاں پڑھی لکھی، اعلیٰ کلاس اور پراثر شخصیت کی مالک ہوتی تھیں مگر اب ایسا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اب ماڈلنگ میں طرح طرح کی لڑکیاں آ چکی ہیں، جو نہ تو تعلیم یافتہ ہیں، نہ تو ان کی کلاس ہے اور نہ ہی ان کی شخصیت ہوتی ہے۔

نادیہ حسین کے مطابق اب ماڈلنگ کے لیے کوئی معیار ہی نہیں، جس وجہ سے بہت ساری اور طرح طرح کی لڑکیاں آگئی ہیں، جن کی ماڈل بننے کی شخصیت ہی نہیں اور نہ ہی ان کے پاس تعلیم ہوتی ہے۔

انہوں نے گفتگو میں سپر ماڈل مشک کلیم کو ہی تعلیم یافتہ، پر اثر شخصیت اور اعلیٰ کلاس کی مالک قرار دیا اور میزبان احسن خان اور دیپک پروانی سے سوال کیا کہ وہ انہیں باقی ماڈلز کے نام بتائیں؟

نادیہ حسین کی جانب سے نئے نسل کی ماڈلز کو ’ان پڑھ‘ کہنے اور انہیں ’کلاس اور شخصیت‘ کا طعنہ دیے جانے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور لوگ انہیں اپنے کام سے کام رکھنے اور نوجوان ماڈلز سے خوف زدہ نہ ہونے کا مشورہ بھی دیتے دکھائی دیے۔

ان کے بیان پر سابق سپر ماڈلز اور فیشن ڈیزائنر فریحہ الطاف نے بھی ٹوئٹ کی اور ان سے محبت کا اظہار بھی کیا، تاہم ساتھ ہی لکھا کہ وہ نادیہ حسین کےبیان سے اتفاق نہیں کرتیں۔

فریحہ الطاف نے اپنی ٹوئٹ میں لکھا کہ انہوں نے نوجوان ماڈلز کے ساتھ کام کیا ہے جو نہ صرف اعلیٰ اخلاق کی مالک ہیں بلکہ وہ تعلیم یافتہ اور سخت محنت کرنے والی بھی ہیں۔

انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر نئے نسل کی ماڈلز کو سخت محنت کرنے والی قرار دیتے ہوئے لکھا کہ ان کی اپنی ہی ’کلاس‘ ہے۔

ان کی طرح دیگر ماڈلز نے بھی نادیہ حسین پر تنقید کی اور انہیں دوسرے سے خوف زدہ نہ ہونے کا مشورہ دیا اور لکھا کہ نوجوان ماڈلز نہ صرف تعلیم یافتہ ہیں بلکہ انہیں ماڈلنگ کی تمام سمجھ بوجھ بھی ہے۔

نمرہ جیکب نے بھی نادیہ حسین پر نام لیے بغیر تنقید کی—اسکرین شاٹ
نمرہ جیکب نے بھی نادیہ حسین پر نام لیے بغیر تنقید کی—اسکرین شاٹ

ماڈل سارہ ذوالفقار نے بھی نادیہ حسین کے بیان پر رد عمل دیتے ہوئے ان پر تنقید کی اور انہیں مشورہ دیا کہ وہ دوسروں پر انگلیاں اٹھانے کے بجائے محنت سے اپنا کام کریں۔

سارہ ذوالفقار نے اپنی انسٹاگرام پوسٹ میں لکھا کہ انہوں نے خود سے کم مواقع ملنے والی نوجوان ماڈلز کے ساتھ بھی کام کیا ہے اور تمام ماڈلز اعلیٰ کردار اور اخلاق کی مالک ہیں اور محنت اور جذبے سے کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ انہوں نے ایسے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ اور گھرانے بھی دیکھے ہیں جنہیں کسی چیز کا علم نہیں ہوتا اور وہ دوسروں پر تنقید کرتے رہتے ہیں۔

ان کی طرح ماڈل نمرہ جیکب نے بھی نادیہ حسین کو دوسروں سے خوفزدہ ہونے کے بجائے محنت سے اپنا کام جاری رکھنے کا مشورہ دیا۔

نمرہ جیکب نے بھی لکھا کہ وہ نئے نسل کی ماڈلز کے ساتھ بے حد محبت کرتی ہیں اور انہیں نوجوان ماڈلز کی محنت، تعلیم اور جستجو کا بخوبی علم ہے۔

انہوں نے نادیہ حسین کا نام لیے بغیر لکھا کہ اب بھی فیشن اور ماڈل انڈسٹری میں کچھ ایسے سینیئرز لوگ موجود ہیں جو کہ نئے نسل کی ماڈلز کو اہمیت نہیں دیتیں اور انہیں کم درجے کا سمجھتی ہیں۔

نادیہ حسین کے ساتھ دیپک پروانی بھی پروگرام میں شریک ہوئے—اسکرین شاٹ
نادیہ حسین کے ساتھ دیپک پروانی بھی پروگرام میں شریک ہوئے—اسکرین شاٹ

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں