الیکشن کمیشن میں منحرف اراکین سے متعلق درخواست دائر

09 اپريل 2022
پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں کیس اسد محمود ایڈووکیٹ نے دائر کیا ہے— فائل فوٹو: ریڈیو
پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں کیس اسد محمود ایڈووکیٹ نے دائر کیا ہے— فائل فوٹو: ریڈیو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں منحرف اراکین سے متعلق درخواست دائر کردی گئی ہے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے الیکشن کمیشن میں درخواست اسد محمود ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے۔

منحرف اراکین کے خلاف درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے جلسے میں قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ حکومت کے خلاف غیر ملکی سازش ہوئی ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بیس سے زائد پی ٹی آئی کے ممبران پارلیمنٹ منحرف ہوئے، منحرف اراکین کی وجہ سے اتحادیوں نے حکومت کا ساتھ چھوڑا۔

درخواست میں استدعا کی گئی کہ حکومت جانے سے ناقابل تلافی نقصان ہو گا، الیکشن کمیشن ان منحرف اراکین کو ووٹ کاسٹ کرنے سے روکے۔

اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس ریفرنس جمع

دریں اثنا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اپنے منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس اسپیکر قومی اسمبلی کے پاس جمع کروا دیا ہے۔

منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس پارٹی چئیرمین عمران خان کی جانب سے اسپیکر کو بھجوایا گیا ہے۔

منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس پارٹی چئیرمین عمران خان کی جانب سے اسپیکر کو بھجوایا گیا—فوٹو : فہد چوہدری
منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس پارٹی چئیرمین عمران خان کی جانب سے اسپیکر کو بھجوایا گیا—فوٹو : فہد چوہدری

پی ٹی آئی کے 20 منحرف اراکین کے خلاف ریفرنس آرٹیکل 63 اے کے تحت جمع کروایا گیا ہے جو پی ٹی آئی کے چیف وہپ عامر ڈوگر نے اسپیکر کے حوالے کر دیا ہے۔

ریفرنس کے متن میں کہا گیا کہ منحرف اراکین پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے، میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ اراکین نے پی ٹی آئی چھوڑ کر اپوزیشن جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لی۔

یہ بھی پڑھیں: تحریک انصاف کے منحرف اراکین اسمبلی کو فائنل شوکاز نوٹس جاری

ریفرنس میں کہا گیا کہ منحرف اراکین کو شوزکاز نوٹس بھی جاری کیے گئے، شوزکاز نوٹس کا خاطر خواہ جواب نہیں دیا گیا۔

ریفرنس میں استدعا کی گئی کہ منحرف اراکین کو ڈی سیٹ کرنے کی کارروائی کا آغاز کیا جائے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیے جانے کے بعد قومی اسمبلی کا اہم اجلاس آج ہورہا ہے۔

یاد رہے کہ 3 اپریل کو ہونے والے اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر نے اپوزیشن کی جانب سے وزیراعظم کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد بغیر ووٹنگ کرائے آئین و قانون کے منافی قرار دے کر مسترد کردی تھی۔

مزید پڑھیں: عدم اعتماد پر ووٹنگ کے روز اسمبلی نہ آئیں، وزیراعظم کا پارٹی اراکین اسمبلی کو خط

قبل ازیں 8 مارچ کو اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد پیش کیے جانے سے قبل ہی پی ٹی آئی کے کچھ اراکین کے اپوزیشن کیمپ میں جانے کا بھی معاملہ سامنے آیا اور محرف اراکین سندھ ہاؤس میں پائے گئے تھے جن کی تعداد سے متعلق مختلف دعوے سامنے آئے۔

پی ٹی آئی کے اراکین نے یہ خبر سننے کے بعد سندھ ہاؤس اسلام آباد پر دھاوا بول دیا تھا اور مرکزی دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوگئے تھے۔

منحرف اراکین کے سامنے آنے کے بعد سے صورتحال ڈرامائی طور پر تبدیل ہوئی اور حکومتی کیمپ میں ہلچل مچ گئی، انحراف کرنے والے اراکین کو اپوزیشن کے حق میں ووٹ دینے پر سخت انتباہات بھی کیے گئے اور باضابطہ طور پر اظہارِ وجوہ کے نوٹس بھی جاری کیے گئے۔

منحرف اراکین کے سامنے آنے پر پارٹی پالیسی سے انحراف کی صورت میں تاحیات نااہلی کی کوشش کر کے دباؤ ڈالا گیا اور اس مقصد کے لیے آئین کی دفعہ 63 اے کے تشریح کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کیا گیا جو تاحال عدالت میں زیرسماعت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: منحرف اراکین کی وضاحت نامناسب قرار، پی ٹی آئی کا ریفرنس اسپیکر کو بھیجنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کی ہدایات کے بعد 31 مارچ کو تحریک انصاف کے منحرف اراکین اسمبلی کو حتمی شوکاز نوٹس جاری کیے گئے اور ان سے کہا گیا تھا کہ وہ یکم اپریل تک اپنی پوزیشن کی وضاحت کریں۔

بعد ازاں پارٹی کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے تحریک انصاف کے چیئرمین کی حیثیت سے منحرف اراکین اسمبلی کی وضاحتوں کو غیرمعقول اور نامناسب قرار دیا اور ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دے دی تھی، جس کے بعد پی ٹی آئی نے اپنے 20 منحرف اراکین اسمبلی کی نااہلی کے لیے ریفرنسز تیار کر لیے تھے۔

دوسری جانب اپوزیشن اراکین اور قانونی ماہرین کا خیال ہے کہ قانون کے تحت ریفرنسز اسپیکر کو نہیں بلکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو بھیجے جانے چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں