گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل مستعفی

اپ ڈیٹ 11 اپريل 2022
گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے اپنے عہدوں سے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا — فائل فوٹو: اے پی پی
گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے اپنے عہدوں سے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا — فائل فوٹو: اے پی پی

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے خاتمے اور شہباز شریف کی جانب سے وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان اور گورنر سندھ عمران اسمٰعیل مستعفی ہوگئے۔

گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان نےاپنا استعفی صدرمملکت ڈاکٹرعارف علوی کو بھجوا دیا ہے۔

واضح رہے کہ گورنرشاہ فرمان نے صوبے کے 32ویں گورنرکی حیثیت سے 5 ستمبر 2018 کو حلف اٹھایا تھا۔

شاہ فرمان 3 سال 7 ماہ اور 6 دن خیبرپختونخوا کے گورنر رہے۔

یہ بھی پڑھیں:گورنر خیبر پختونخوا کا مستعفی ہونے کا فیصلہ، عمران اسماعیل بھی پیروی کیلئے تیار

شاہ فرمان 5 ستمبر 2018 سے خیبر پختونخوا کے 32 ویں گورنر بنے، وہ 2013 کے عام انتخابات اور2018 کے عام انتخابات میں پی کے 10 اور پشاور کے حلقے پی کے 71 سے دوبار رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

شاہ فرمان اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور خیبر لا کالج پشاور سے فارغ التحصیل ہیں۔

انہیں صوبائی حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اراکین میں شمار کیا جاتا ہے اور 1995 سے پی ٹی آئی کے سرگرم رکن رہے ہیں۔

اس سے قبل وہ پرویز خٹک کی کابینہ میں 2013 سے 2018 تک پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور محکمہ اطلاعات وتعلقات عامہ کے صوبائی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

عمران اسمٰعیل بھی مستعفی

دوسری جانب گورنر سندھ عمران اسمٰعیل نے بھی عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔

مزید پڑھیں:گورنر پنجاب نے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کا استعفیٰ منظور کرلیا

عمران اسمٰعیل نے اس سے قبل ایک بیان میں کہنا تھا کہ کہ جیسے ہی شہباز شریف حلف اٹھائیں گے تو میں استعفیٰ دوں گا، نہیں چاہتا ایک لمحے کے لیے بھی شہباز شریف کو سر کہنا پڑے، یہ شخص نااہل ہے، مقصود چپراسی کے اکاؤنٹ سے اربوں روپے نکلے۔

عمران اسمٰعیل کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف کو وزیراعظم نہیں مانتا۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف 174 ووٹ لے کر پاکستان کے 23ویں وزیر اعظم منتخب ہو چکے ہیں۔

یاد رہے کہ 10 اپریل کو ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں میں سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد 174 ووٹوں کے ساتھ کامیاب ہوگئی تھی جس کے بعد وہ ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔

جس کے بعد عمران خان سمیت ان کے وفاقی وزرا، مشیران اور معاونین خصوصی کو باقاعدہ ڈی نوٹیفائی کردیا گیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں