حکومت کا وزارتوں پر اتحادیوں کے تحفظات دور کرنے کا دعویٰ

19 اپريل 2022
کچھ حکومتی اتحادیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وزارتوں اور دیگر منافع بخش عہدوں کی تقسیم غیرمطمئن ہیں— فائل فوٹو: اے پی پی
کچھ حکومتی اتحادیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وزارتوں اور دیگر منافع بخش عہدوں کی تقسیم غیرمطمئن ہیں— فائل فوٹو: اے پی پی

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے حکمراں اتحاد میں اتحادیوں کے ’تحفظات‘ کو دور کرنے کا دعویٰ کیا ہے جس کے بعد 34 رکنی کابینہ آج تشکیل دی جائے گی۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دریں اثنا کابینہ کے ارکان کی حلف برداری کی تقریب پیر کو ہونی تھی تاہم معلوم ہوا ہے کہ صدر عارف علوی نے اراکین اسمبلی سے حلف لینے سے انکار کردیا تھا جس کے باعث حکومت کو تقریب منگل کی صبح 11 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔

مزید پڑھیں: وفاقی کابینہ میں کس کو کتنی وزارتیں ملیں گی؟

اب توقع ہے کہ چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کم از کم 29 وفاقی وزرا اور چار وزرائے مملکت سے حلف لیں گے۔

مسلم لیگ (ق) کے چوہدری طارق بشیر چیمہ کی کابینہ میں شمولیت متوقع ہے لیکن وہ آج حلف نہیں اٹھائیں گے۔

حکومتی ذرائع نے بتایا کہ صدر عارف علوی بھی منگل کی تقریب میں شرکت نہیں کریں گے اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی ارکان سے حلف لیں گے۔

ذرائع نے بتایا کہ صدر علوی بیماری کا بہانہ بنا کر منگل کو دوبارہ چھٹی پر جائیں گے تاکہ صادق سنجرانی ڈیوٹی سرانجام دے سکیں۔

یہ بھی پڑھیں: سابق وزیراعظم عمران خان سمیت کابینہ کو ڈی نوٹیفائی کر دیا گیا

دوسری طرف کچھ حکومتی اتحادیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ وزارتوں اور دیگر منافع بخش عہدوں کی تقسیم کے حوالے سے حکومت کے سامنے رکھے گئے مطالبات سے ’غیر مطمئن‘ ہیں۔

معلوم ہوا ہے کہ بلوچستان نیشنل پارٹی(بی این پی) اور جمعیت علمائے اسلام (ف) منگل کو کابینہ میں شمولیت اختیار نہیں کریں گے کیونکہ بی این پی نے حکومت پر صوبے میں چاغی میں مظاہرین پر فائرنگ جیسے پرتشدد واقعات کی روک تھام نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

تاہم حکومت کی ترجمان محترمہ مریم اورنگزیب نے کہا کہ کابینہ کے ارکان کی فہرست کو حتمی شکل دینا ابھی باقی ہے اور عندیا دیا کہ حلف برداری کی تقریب سے قبل آخری لمحات میں تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں۔

اسی طرح جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے وزارتوں کی تقسیم اور صدر اور سینیٹ چیئرمین جیسے کچھ آئینی عہدوں کے حوالے سے اپنے مطالبات پورے نہ ہونے پر ناراض ہو کر فوری عام انتخابات کا مطالبہ کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں: ہمیں فوری طور پر الیکشن چاہئیں، مولانا فضل الرحمٰن

حکمران مسلم لیگ(ن) کے رہنما خواجہ آصف نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں دعویٰ کیا کہ اتحادی جماعتوں کے تمام تحفظات دور کر دیے گئے ہیں اور تقریب حلف برداری منگل کو ہو گی۔

انہوں نے نئی کابینہ میں وزارتیں حاصل کرنے والے مسلم لیگ(ن) کے کچھ رہنماؤں کے نام بھی افشا کیے جن میں احسن اقبال کو پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ، اعظم نذیر تارڑ قانون، شاہد خاقان عباسی کو توانائی، جبکہ ایاز صادق کو اقتصادی امور کی وزارت ملے گی۔

اس سے قبل حکمراں مسلم لیگ (ن) کے اندر مخالفت کے باوجود مریم اورنگزیب کو وزیر اطلاعات اور رانا ثنااللہ کو وزیر داخلہ کا قلمدان دینے کا غیر رسمی اعلان کیا گیا تھا اور کہا جاتا تھا کہ مفتاح اسماعیل کو وزیر خزانہ یا مشیر بنایا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: آصف زرداری کا نئی حکومت میں وزارتیں نہ لینے کا اشارہ

خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو وزارت خارجہ دی جائے گی تاہم پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے ڈان کو بتایا کہ پارٹی چیئرمین منگل کو اعلان کیے جانے والی کابینہ کا پہلے مرحلے میں حصہ نہیں بن رہے اور وہ کچھ دنوں بعد وزارت کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں