اشیائے خورونوش، توانائی کا درآمدی بل 24 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا

اپ ڈیٹ 15 مئ 2022
پام آئل کا درآمدی 44.64 فیصد اضافے کے بعد 3.09 ارب ڈالر ہو گیا—فائل فوٹو: ڈان
پام آئل کا درآمدی 44.64 فیصد اضافے کے بعد 3.09 ارب ڈالر ہو گیا—فائل فوٹو: ڈان

پاکستان کا تیل اور کھانے پینے کی اشیا کا درآمدی بل جولائی تا اپریل کے دوران 58.98 فیصد اضافے کے بعد 24 ارب 77 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا، جو گزشتہ سال کے اسی دورانیے میں 15 ارب 58 کروڑ ڈالر تھا، یہ اضافہ عالمی منڈی میں بُلند قیمتوں اور روپے کی شدید بے قدری کے نتیجے میں ہوا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ملک کا مجموعی درآمدی بل مالی سال 2022 کے ابتدائی 10 مہینے میں 46.51 فیصد اضافے کے بعد 65 ارب 53 کروڑ ڈالر ہوگیا، جبکہ پچھلے سال کے اسی عرصے میں مجموعی درآمدی بل 44 ارب کروڑ ڈالر تھا۔

مذکورہ مصنوعات کا حصہ بھی مجموعی درآمدی بل میں مالی سال 2022 کے 10 ماہ کے دوران بڑھ کر 37.79 فیصد ہو گیا، ان دو شعبوں کے درآمدی بل میں اضافہ تجارتی خسارے کی وجہ بن رہا ہے اور بیرونی محاذ پر حکومت پر دباؤ بڑھا رہا ہے۔

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کیے گیے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2022 کے 10 ماہ میں تیل کی درآمدات 95.84 فیصد بڑھ کر 17 ارب 30 کروڑ ڈالر ہوگئیں جو پچھلے سال کے اسی عرصے میں 8 ارب 69 کروڑ ڈالر تھیں۔

اسی عرصے کے دوران مقامی صارفین کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: رواں مالی سال کے 10 ماہ میں 39 ارب 26 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کا ریکارڈ تجارتی خسارہ

مزید تفصیل سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 2022 کے ابتدائی 10 ماہ میں پٹرولیم مصنوعات کے درآمدی بل میں 121.15 فیصد اور مقدار میں 24.17 فیصد کا اضافہ ہوا۔

خام تیل کی درآمدات کی قدر میں 75.34 فیصد اور مقدار میں 1.36 فیصد اضافہ ہوا۔

اسی طرح ایل این جی کی درآمدات میں قدر کے حساب سے 82.90 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ رواں مالی سال کے 10 ماہ کے دوران ایل پی جی گیس کی درآمد میں قدر کے لحاظ سے 39.86 فیصد کا اضافہ ہوا۔

خوراک کی پیداوار میں فرق ختم کرنے کے لیے خوراک کا درآمدی بل مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ میں 12.30 فیصد اضافے کے بعد 7 ارب 74 کروڑ ہو گیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے دوران 6 ارب 89 کروڑ ڈالر تھا۔

خوراک کی بڑھتی ہوئی درآمدات کے نتیجے میں بڑھنے والا تجارتی خسارہ حکومت کے لیے پریشانی کا ایک اور ذریعہ ہے، پاکستان نے کھانے پینے کی اشیا کی درآمدات پر پچھلے پورے مالی سال میں 8 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے۔

مزید پڑھیں: اشیائے خورونوش کے درآمدی بل میں 52فیصد اضافے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

آنے والے مہینوں میں درآمدی بل میں مزید اضافہ ہوگا کیونکہ حکومت نے 6 لاکھ ٹن چینی اور 40 لاکھ ٹن گندم کی درآمدات کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ذخائر کو محفوظ سطح تک لے جایا جاسکے۔

فوڈ گروپ کی درآمدات میں اہم حصہ گندم، چینی، خوردنی تیل، مصالحے، چائے اور دالوں کا رہا ہے جبکہ خوردنی تیل کی درآمدات میں قدر اور مقدار دونوں میں بڑا اضافہ دیکھا گیا۔

عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافے کے سبب پام آئل کا درآمدی بل بالحاظ قدر 44.64 فیصد اضافے کے بعد مالی سال 2022 کے 10 ماہ میں 3 ارب 90 کروڑ ڈالر ہو گیا ہے جو کہ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 2 ارب 14 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا تھا۔

نتیجتاً گھی اور خوردنی تیل کی مقامی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022 کے ابتدائی 10 ماہ میں سویابین تیل کی درآمدات میں قدر کے لحاظ سے 101.96 فیصد اور مقدار کے لحاظ سے 9.30 فیصد اضافہ ہوا۔

گندم کی درآمدات 19.12 فیصد کمی کے بعد 22 لاکھ 6 ہزار ٹن ہوگئی جس کی درآمدات مالی سال 2021 کے ابتدائی 10 ماہ میں 36 لاکھ 10 ٹن تھی۔

اپریل کے مہینے میں گندم درآمد نہیں کی گئی۔

مزید پڑھیں: تیل کی درآمد کا بل پہلی سہ ماہی میں 97 فیصد بڑھ گیا

مالی سال 2022 کے ابتدائی 10 مہینے میں چینی کی درآمدات 49.52 فیصد اضافے کے بعد 3 لاکھ 11 ہزار 851 ٹن ہوگئی، پچھلے سال 10 ماہ میں 2 لاکھ 80 ہزار 377 ٹن کی درآمدات کی گئی تھی۔

اسی عرصے کے دوران دالوں، چائے اور مصالحہ جات کے درآمدی بل میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا۔

مشینوں کی آمد میں اضافہ

مشینوں کے درآمدی بل میں 20.49 فیصد کا اضافہ ہوا جس کی درآمدات مالی سال کے ابتدائی 10 مہینے میں 9 ارب 55 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں، جو پچھلے سال 7 ارب 92 کروڑ ڈالر تھی۔

مالی سال 2022 کے ابتدائی 10 مہینے میں موبائل فون کی درآمدات 7.43 فیصد اضافے کے بعد ایک ارب 81 کروڑ ڈالر، موبائل فون سے متعلق آلات کی درآمد 39.87 فیصد اضافے کے بعد 60 کروڑ 35 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔

ٹرانسپورٹ سیکٹر کا درآمدی بل 60.04 فیصد بڑھ کر 3 ارب 73 کروڑ ڈالر ہو گیا، جو کہ پچھلے سال 2 ارب 33 کروڑ ڈالر کا تھا، یہ اضافہ بڑی مقدار میں گاڑیوں کی درآمدات کے نیتجے میں ہوا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں