پاکستان میں پابندی کا شکار ’جاوید اقبال‘ کے لیے برطانیہ میں دو ایوارڈز

فلم پر پاکستان میں پابندی عائد ہے—اسکرین شاٹ
فلم پر پاکستان میں پابندی عائد ہے—اسکرین شاٹ

پاکستان میں پابندی کا شکار یاسر حسین اور عائشہ عمر کی فلم ’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر' کو برطانیہ میں ہونے والے ’یو کے ایشین فلم فسیٹیول‘ میں دو اعلیٰ ایوارڈز سے نواز دیا گیا۔

’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر' کو یوکے ایشین فلم فیسٹیول میں دکھایا بھی گیا اور انہیں دیگر ایشیائی فلموں کی طرح ایوارڈز کے لیے بھی منتخب کیا گیا۔

پاکستانی فلم کو دو بڑے ایوارڈز ’بہترین ہدایت کار‘ اور ’بہترین اداکار‘ کے ایوارڈز بھی دیے گئے اور دونوں ایوارڈز یاسر حسین نے وصول کیے۔

یاسر حسین نے انسٹاگرام پر دونوں ایوارڈز وصول کرنے کی پوسٹس شیئئر کرتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا اور اس بات پر افسوس کیا کہ جو فلم بیرونی ممالک سے ایوارڈز وصول کر رہی ہے، اسے پاکستان میں پابندی کا سامنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں پابندی کی شکار فلم ’جاوید اقبال' برطانیہ میں پیش ہوگی

انہوں نے ایوارڈز ملنے پر فلم کی ٹیم، ساتھی اداکاروں اور اہلیہ اقرا عزیز کا شکریہ بھی ادا کیا۔

’جاوید اقبال: دی اَن ٹولڈ اسٹوری آف آ سیریل کلر' کو رواں برس جنوری میں پاکستان میں ریلیز کیا جانا تھا مگر اس کی نمائش سے دو دن قبل اس پر پابندی لگا دی گئی تھی۔

مذکورہ فلم پر ابتدائی طور پر پنجاب حکومت نے پابندی لگائی تھی، جس کے بعد فلم کی ٹیم نے اس کی نمائش موخر کردی تھی تھی۔

فلم کی کہانی پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے بدنام سیریل کلر ’جاوید اقبال مغل‘ کے جرائم اور ان کے قانونی ٹرائل کے گرد گھومتی ہے۔ جاوید اقبال مغل‘ 100 بچوں کے قتل اور ان کے ’ریپ‘کا مجرم تھا۔

1999 میں جاوید اقبال نے پولیس کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے 100 بچوں کے قتل کا اعتراف کیا تھا جن کی عمریں 6 سے 16 سال کے درمیان تھیں، اس نے ساتھ میں یہ بھی اعتراف کیا تھا کہ اس نے زیادہ تر بچوں بچوں کو گلا گھونٹ کر مارا اور ان کے جسم کے کئی ٹکڑے بھی کیے۔

جاوید اقبال مغل نے 2001 اکتوبر میں لاہور کی جیل میں خودکشی کرلی تھی۔

تبصرے (0) بند ہیں