سندھ پولیس کی عدالت سے دعا زہرہ اغوا کیس کو کالعدم قرار دینے کی سفارش

17 جون 2022
واضح رہے کہ دعا زہرہ  کراچی سے لاپتہ ہو گئی تھی جو بعد میں  پنجاب میں پائی گئی تھی—فائل فوٹو:ڈان نیوز
واضح رہے کہ دعا زہرہ کراچی سے لاپتہ ہو گئی تھی جو بعد میں پنجاب میں پائی گئی تھی—فائل فوٹو:ڈان نیوز

سندھ پولیس نے مقامی عدالت کو دعا زہرہ کے والدین کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے کو ختم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ لڑکی کے اغوا اور کم عمری میں شادی کے الزامات ثابت نہیں ہوئے۔

واضح رہے کہ دعا زہرہ کراچی سے لاپتہ ہو گئی تھی جو بعد میں پنجاب میں پائی گئی تھی۔

7 جون کو سندھ ہائی کورٹ نے دعا زہرہ کی جانب سے اپنے اغوا سے متعلق بیان حلفی دینے کے بعد کیس کو نمٹاتے ہوئے اسے شوہر کے ساتھ رہنے یا والدین کے ساتھ جانے سے متعلق اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت دی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائی کورٹ کی دعا زہرہ کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت

پولیس نے دعا زہرہ کے والد سید مہدی علی کاظمی کی شکایت پر کراچی کے الفلاح پولیس اسٹیشن میں سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 کی سیکشنز 2018 اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت ظہیر احمد، مولوی حافظ غلام مصطفی، جس نے مبینہ طور پر ان کا کم عمری میں نکاح پڑھایا تھا اور شادی کے گواہ علی اصغر کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

جمعرات کو جوڈیشل مجسٹریٹ (ایسٹ) آفتاب احمد بگھیو نے کرمنل پروسیجر کوڈ (سی آر پی سی) کی دفعہ 173 کے تحت دائر چالان پر فریقین کے دلائل سننے کے لیے معاملے کی مزید ساعت 20 جون تک ملتوی کردی۔

اس سے قبل تفتیشی افسر ڈی ایس پی شوکت علی شاہانی نے حتمی چالان جمع کرایا جس میں کہا گیا کہ دوران تفتیش پتا چلا ہے کہ دعا زہرہ اپنی مرضی سے کراچی سے پنجاب گئی اور اسے اغوا نہیں کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ ہائیکورٹ: عمر کے تعین کیلئے دعا زہرہ کا میڈیکل ٹیسٹ کروانے کا حکم

انہوں نے کہا کہ میڈیکو لیگل آفیسر کے ٹیسٹ سرٹیفکیٹ میں دعا زہرہ کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان بتائی گئی ہے، اس لیے اغوا کا جرم نہیں ہوا کیونکہ پی پی سی کے سیکشن 364-اے کے تحت مغوی کی عمر 14 سال سے کم ہونی چاہیے۔

تفتیشی افسر کا مزید کہنا تھا کہ یہ شادی لاہور میں ہوئی اور ہر صوبے میں شادی کی مختلف روایات اور قوانین ہیں، اس لیے سندھ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ ایکٹ 2013 کی متعلقہ شقیں بھی موجودہ کیس پر لاگو نہیں ہوتیں۔

ڈی ایس پی شوکت علی شاہانی کا کہنا تھا کہ لڑکی نے مجسٹریٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے سامنے اپنے اغوا سے انکار کیا تھا، اس لیے دولہا کے رشتہ داروں کے خلاف پی پی سی سیکشن 216 بھی لاگو نہیں ہوتا جس کی بنیاد پر عدالت نے سی آر پی سی کے سیکشن 63 کے تحت انہیں پہلے ہین کیس سے بری کر دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی سے لاپتا دعا زہرہ کو بہاولنگر سے بازیاب کرا لیا گیا

ڈی ایس پی کا کہنا تھا کہ زیر حراست باقی ماندہ ملزمان مصطفیٰ اور علی بھی بے گناہ پائے گئے اس لیے ان کو مزید حراست میں رکھان ناانصافی ہوگی۔

انہوں نے عدالت سے سفارش کی کہ ثبوت کی کمی پر انہیں سی آر پی سی کی دفعہ 169 کے تحت کیس سے بھی بری کر دیا جائے۔

اپنی رپورٹ میں تفتیشی افسر نے مجسٹریٹ کو کیس کا چلان سی کلاس (منسوخ) میں قبول کرنے اور ایف آئی آر کو منسوخ کرنے کا حکم دینے کی سفارش کی۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں