این اے 240 ضمنی انتخاب: مصطفیٰ کمال، سعد رضوی پر قتل اور دہشت گردی کے مقدمات درج

اپ ڈیٹ 17 جون 2022
لانڈھی پولیس نے ایک ایف آئی آر 65 سالہ سیف الدین کے قتل اور دیگر زخمیوں کے حوالے سے  پی ایس پی اور ٹی ایل پی کے سربراہوں کے خلاف درج کی ہے— فوٹو: اے ایف پی / پی ایس پی ٹوئٹر
لانڈھی پولیس نے ایک ایف آئی آر 65 سالہ سیف الدین کے قتل اور دیگر زخمیوں کے حوالے سے پی ایس پی اور ٹی ایل پی کے سربراہوں کے خلاف درج کی ہے— فوٹو: اے ایف پی / پی ایس پی ٹوئٹر

پولیس نے پاک سر زمین پارٹی (پی ایس پی) کے چیئرمین مصطفیٰ کمال، تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد رضوی اور سیکڑوں کارکنوں کے خلاف لانڈھی اور کورنگی میں ضمنی انتخاب کے دوران دہشت گردی، قتل اور پُرتشدد جھڑپوں پر 4 مقدمات درج کیے ہیں۔

سرکاری حکام کے مطابق ان واقعات میں ایک راہگیر ہلاک اور دیگر افراد زخمی ہوئے تھے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے نجی گارڈز سمیت 250 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ ٹی ایل پی اور پی ایس پی سربراہان کے خلاف ایف آئی آرز میں دفعات 147، 148، 149، 302، 452، 427، 337 اے (ا)، 324 اور 7 اے ٹی اے شامل کی گئی ہیں۔

پولیس کے ترجمان نے جاری بیان میں بتایا کہ فائرنگ اور پُرتشدد واقعات پر چار مقدمات درج کیے گئے ہیں، الیکشن کمیشن کے پریزائڈنگ افسران (پی او) کی شکایت پر دو مقدمات درج کیے ہیں جبکہ لانڈھی اور کورنگی پولیس کی جانب سے سرکاری مدعیت میں دو مقدمات درج کیے گئے ہیں۔

مزید پڑھیں: این اے 240 ضمنی انتخاب: سعد رضوی کی سربراہی میں ہم پر حملہ ہوا، مصطفیٰ کمال کا دعویٰ

ترجمان نے بتایا کہ پولیس نے 258 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جس میں ہنگامے کے دوران موجود نجی سیکیورٹی گارڈز بھی شامل ہیں۔

لانڈھی پولیس نے ایک فرسٹ انفارمشین رپورٹ (ایف آئی آر) 65 سالہ راہگیر سیف الدین کے قتل اور دیگر زخمیوں کے حوالے سے پی ایس پی اور ٹی ایل پی کے سربراہوں کے خلاف رجسٹر کی ہے۔

ایس ایچ او محمد امین مغل کی پیٹرولنگ کے دوران پی ایس پی اور ٹی ایل پی کے کارکنوں کے درمیان مسلسل جھگڑے جاری تھے تاہم 5 بجے ٹی ایل پی کے مسلح کارکنان سعد رضوی کی سربراہی میں متعدد گاڑیوں میں لانڈھی 4 سے لانڈھی 6 پر پہنچے جہاں پر پی ایس پی کے کارکنان موجود تھے۔

ٹی ایل پی کے کارکنان نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک راہگیر جاں بحق جبکہ متعدد دیگر زخمی ہوگئے جبکہ فائرنگ سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

دوسری طرف، پی ایس پی کارکنان نے بھی مصطفیٰ کمال کی سربراہی میں فائرنگ کی جس کے نتیجے میں متعدد لوگ زخمی ہوئی جنہیں مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا۔

لانڈھی پولیس نے پی او شاہد علی کی شکایت پر ایک اور ایف آئی ار پی ایس پی سربراہ مصطفیٰ کمال اور 50 سے 60 دیگر لوگوں کے خلاف دہشت گردی اور دیگر دفعات کے تحت درج کی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: این اے 240 کے ضمنی انتخاب کے دوران پرتشدد واقعات، ایک شخص جاں بحق، 8 زخمی

ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ تقریباً 50 سے 60 لوگ مصطفیٰ کمال کی سربراہی میں لانڈھی 6 پر پولنگ اسٹیشن پر پہنچے، جنہوں نے الیکشن کے عملے کو مارا اور انہیں گالیاں بھی دیں۔

مزید بتایا گیا کہ انہوں نے الیکشن میٹریل کو بھی پھاڑ دیا، انہوں نے پولنگ اسٹیشن کے باہر کھڑے لوگوں کو بھی مارا اور فائرنگ بھی کی جس سے عملے میں خوف و ہراس پھیل گیا، پولیس انتخابی عمل کی رکاوٹ کی اطلاع پر فوری طور پر پہنچ گئی اور انہیں منتشر کیا۔

تیسری ایف آئی آر بھی لانڈھی میں پی او غلام ہاشم کی شکایت پر درج کی گئی، جس میں پی ایس پی کے تقریباً 400 سے 500 کارکنان پر دہشت گردی اور دیگر مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔

شکایت کنندہ پی او نے بتایا کہ وہ لانڈھی پی ایس 51 میں اپنی ڈیوٹی کررہے تھے کہ 4 بج کر 30 منٹ پر پی ایس پی کے 400 سے 500 کارکنان آئے۔

چوتھی ایف آئی آر کورنگی پولیس اسٹیشن میں سرکاری مدعیت میں دفعہ 147، 149 اور دیگر متعلقہ قوانین کے تحت درج کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی: این اے 240 ضمنی انتخاب، ایم کیو ایم پاکستان کے محمد ابوبکر سب سے آگے

ایف آئی آر میں بتایا گیا کہ تقریباً 20 سے 25 مسلح اور ڈنڈے تھامے افراد کورنگی نمبر ڈھائی کے پولنگ اسٹیشن پر پہنچے، واقع کی اطلاع ملنے پر پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور 5 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ دیگر بھاگ گئے۔

مقتول سیف الدین کلیم کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

دوسری طرف سیف الدین کلیم جو پُرتشدد واقعے میں مارے گئے تھے ان کی نماز جنازہ بابر مارکیٹ لانڈھی میں ادا کی گئی جس میں سیاسی رہنماؤں سمیت عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ترجمان نے بتایا کہ مقتول کی نعش کورنگی ساڑھے 5 پر مردہ خانے میں رکھی گئی جسے وہاں سے بابر مارکیٹ ان کے گھر لے جایا گیا جس کے بعد مقامی قبرستان میں ان کی تدفین کردی گئی۔

خیال رہےکہ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا تھا جب کراچی میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 240 میں ضمنی انتخاب کے لیے پولنگ جاری تھی۔

حلقہ این اے 240 کی یہ نشست ایم کیو ایم پاکستان کے اقبال محمد علی خان کے انتقال سے خالی ہوئی تھی۔

حلقے میں مجموعی طور پر 25 امیدوار مدمقابل تھے جن میں ایم کیو ایم پاکستان کے محمد ابوبکر، ٹی ایل پی کے شہزادہ شہباز، پیپلز پارٹی کے ناصر رحیم، پی ایس پی کے شبیر احمد قائمخانی اور ایم کیو ایم کے سید رفیع الدین سمیت آزاد امیدوار شامل ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز مسلم لیگ (ن) نے حلقے میں پیپلز پارٹی کے حق میں انتخابی عمل سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا۔

ضرور پڑھیں

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

’اٹھو کاروانِ سحر آگیا‘

پاکستان ’قراردادِ پاکستان‘ کے بعد طلوعِ آزادی کی جس منزل سے ہم کنار ہوا اس کی داستان نسلِ نو کو سنانی ضروری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں