• KHI: Zuhr 12:39pm Asr 5:20pm
  • LHR: Zuhr 12:09pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:14pm Asr 5:10pm
  • KHI: Zuhr 12:39pm Asr 5:20pm
  • LHR: Zuhr 12:09pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:14pm Asr 5:10pm

سینیئر مزاحیہ اداکار مسعود خواجہ انتقال کر گئے

شائع June 20, 2022
مسعود اختر گردوں کے مرض میں مبتلا تھے—فوٹو: ٹوئٹر
مسعود اختر گردوں کے مرض میں مبتلا تھے—فوٹو: ٹوئٹر

پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) سے کیریئر کا آغاز کرنے والے مزاحیہ اداکار مسعود خواجہ طویل عرصے تک علیل رہنے کے بعد 20 جون کو انتقال کر گئے۔

مسعود خواجہ نے پی ٹی وی سے کیریئر کا آغاز کیا تھا اور انہوں نے معروف ڈرامے ’گیسٹ ہاؤس‘ میں اہم کردار ادا کرنے کے بعد بطور کامیڈین شہرت حاصل کی۔

اپنے فنی کیریئر میں انہوں نے آغاز میں سنجیدہ کردار ادا کیے، تاہم انہوں نے معاون کرداروں سمیت منفی کردار بھی ادا کیے۔

انہوں نے اسٹیج سمیت ریڈیو پاکستان کے لیے بھی کام کیا اور بیرون ممالک بھی تھیٹرز میں پرفارمنس کی، تاہم انہیں شہرت بطور کامیڈین ملی۔

پی ٹی وی کے مشہور ڈراموں میں معاون اور مزاحیہ کردار ادا کرنے کے بعد انہوں نے متعدد نجی ٹی وی چینلز کے ڈراموں میں بھی خود کو بطور کامیڈین منوایا۔

مسعود خواجہ کچھ عرصے تک ٹی وی چینلز کے مزاحیہ ریئلٹی ٹاک شوز میں بھی بطور کامیڈین شرکت کرتے رہے اور انہوں نے مداحوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیریں۔

مسعود خواجہ طویل عرصے سے گردوں کی بیماری میں مبتلا تھے اور ان کا علاج جاری تھا، تاہم 20 جون کو خالق حقیقی سے جا ملے۔

انہوں نے متعدد ٹی وی شوز کی میزبانی بھی کی—فوٹو: فیس بک
انہوں نے متعدد ٹی وی شوز کی میزبانی بھی کی—فوٹو: فیس بک

ڈان نیوز کے مطابق مسعود خواجہ راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے وارڈ (آئی سی یو) میں تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مسعود خواجہ کے علاج کے لیے ان کے اہل خانہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ پنجاب اور وزیر اعظم سے بھی اپیل کی گئی تھی، جب کہ وہ طویل عرصے گردوں کی بیماری میں مبتلا تھے۔

مسعود خواجہ کافی عرصے سے ڈائلاسز پر تھے اور ان کے گردے تقریبا ختم ہو چکے تھے۔

ان کے انتقال پر شوبز شخصیات کے علاوہ سیاسی، و سماجی شخصیات نے گہرے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ان کے انتقال کو کامیڈی کے ایک دور کا اختتام قرار دیا ہے۔

مسعود خواجہ کے انتقال پر شوبز شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا—فوٹو: فیس بک
مسعود خواجہ کے انتقال پر شوبز شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کیا—فوٹو: فیس بک

کارٹون

کارٹون : 23 جولائی 2024
کارٹون : 22 جولائی 2024