بحیرہ جنوبی چین میں طوفان کے دوران جہاز دو ٹکڑے ہوگیا، متعدد افراد لاپتا

اپ ڈیٹ 03 جولائ 2022
زندہ بچ جانے والے افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ دیگر ارکان لہروں میں بہہ گئے ہوں گے — فوٹو: اے ایف پی
زندہ بچ جانے والے افراد نے خدشہ ظاہر کیا کہ دیگر ارکان لہروں میں بہہ گئے ہوں گے — فوٹو: اے ایف پی

بحیرہ جنوبی چین میں سمندری طوفان کے دوران جہاز کے دو ٹکڑے ہونے کے بعد عملے کے 2 درجن سے زائد ارکان لاپتا ہوگئے جنہیں تلاش کرنے کے لیے امدادی کارکنان سرگرداں اور متحرک ہیں۔

ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق چین میں رواں سال آنے والے پہلے طوفان کے دوران جنوبی ساحلوں پر شدید آندھی چلی اور خوب بارش ہوئی جبکہ پیش گوئی کرنے والوں نے ملک کے سب سے زیادہ آبادی والے گوانگ ڈونگ سمیت دیگر صوبوں میں ریکارڈ بارشوں اور ان کے نتیجے میں تباہی کے انتہائی خطرے سے متنبہ کیا ہے۔

قومی موسمیاتی مرکز نے بیان میں بتایا کہ سمندری طوفان، جسے چابا کا نام دیا گیا ہے، ہفتے کی دوپہر گوانگ ڈونگ کے ماومنگ شہر سے ٹکرانے کے بعد شمال مغرب کی جانب بڑھ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چین: شدید بارشوں، سیلاب نے تباہی مچادی

ہانگ کانگ گورنمنٹ فلائنگ سروس کے مطابق طوفان سے انجینئرنگ جہاز جو ہانگ کانگ سے 160 ناٹیکل میل جنوب مغرب میں موجود تھا اسے کافی نقصان پہنچا اور وہ دو ٹکڑے ہو گیا جبکہ جہاز پر موجود 30 رکنی عملہ اس سے اتر گیا تھا۔

حکام نے بتایا کہ 3 افراد کو بچا لیا گیا اور علاج کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا۔

حکام کی جانب سے فراہم کردہ فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کرنے کے بعد لے جایا جارہا ہے جبکہ لہریں نیچے آدھے ڈوبے ہوئے جہاز سے ٹکرا رہی ہیں۔

جاری کردہ سرکاری بیان کے مطابق جہاز کے عملے میں سے 3 زندہ بچ جانے والوں نے بتایا کہ جہاز کے عملے کے دیگر ارکان پہلے ہیلی کاپٹر کے پہنچنے سے قبل ہی شاید لہروں میں بہہ گئے ہوں گے۔

مزید پڑھین: چین کا بی بی سی پر سیلاب سے متعلق 'جعلی خبریں نشر' کرنے کا الزام

سمندری طوفان ’چابا‘ اس سے قبل بحیرہ جنوبی چین کے وسطی حصے میں بننا شروع ہوا تھا جو ہفتے کی دوپہر کو جنوبی چین کے صوبے گوانگ ڈونگ سے ٹکرایا۔

امدادی کارکنوں نے جہاز کو سمندی طوفان کے مرکز کے قریب پایا جہاں سخت موسمی حالات اور انتہائی تیز ہواؤں نے ریسکیو آپریشن کو مزید مشکل اور خطرناک بنا دیا۔

طوفان کی شدت سے متعلق حکام نے بتایا کہ جہاز کے مقام پر ہوا کی رفتار 144 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی جبکہ لہروں کی اونچائی 10 میٹر تھی۔

گورنمنٹ فلائنگ سروس نے امدادی کارروائیوں میں تیزی کرتے ہوئے 2 فکسڈ ونگ ہوائی جہاز اور چار ہیلی کاپٹر روانہ کیے ہیں جبکہ چینی حکام نے بھی امدادی کشتی روانہ کی۔

امدادی کارروائیوں میں شریک حکام نے بتایا کہ وہ بڑی تعداد میں لوگوں کے لاپتا ہونے کی وجہ سے تلاش کا دائرہ بڑھا رہے ہیں اور اگر حالات نے اجازت دی تو سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کو رات کے اوقات میں بھی جاری رکھا جائے گا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں