پاکستان میں رواں سال کا 14واں پولیو کیس رپورٹ

28 جولائ 2022
وائرس کے تمام 14 متاثرین کی عمریں دو سال سے کم ہیں—تصویر: پاک فائٹ پولیو ٹوئٹر
وائرس کے تمام 14 متاثرین کی عمریں دو سال سے کم ہیں—تصویر: پاک فائٹ پولیو ٹوئٹر

قومی ادارہ صحت کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ پاکستان میں رواں سال کا 14 واں وائلڈ پولیو وائرس کیس رپورٹ ہوا ہے، جس کا تازہ ترین شکار ضلع شمالی وزیرستان کی تحصیل میرام شاہ کی 8 ماہ کی بچی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق عہدیدار نے بتایا کہ 'میرام شاہ سے پولیو وائرس کا یہ تیسرا اور شمالی وزیرستان سے اس سال کا 13واں کیس ہے'۔

وائرس کے تمام 14 متاثرین کی عمریں دو سال سے کم ہیں، جب کہ شمالی وزیرستان سے باہر واحد کیس گزشتہ ہفتے لکی مروت سے رپورٹ ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: افسوسناک ہے کہ ہم اب تک پولیو کو ختم نہیں کرسکے، شہباز شریف

وزارت صحت نے ایک بیان میں کہا کہ انسداد پولیو مہم پوری دنیا میں کامیاب ثابت ہوئی ہے اور اب 99 فیصد سے زیادہ دنیا پولیو سے پاک ہوچکی ہے۔

البتہ دو بچ جانے پولیو والے ممالک، پاکستان اور افغانستان ہیں، جن میں اس سال 15 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، ان میں سے اپریل اور جون کے درمیان پاکستان سے 14 کیسز اور جنوری میں افغانستان سے ایک کیس سامنے آیا ہے۔

وزارت صحت نے کہا کہ 'افغانستان اور پاکستان کے قومی ہنگامی آپریشن کے مراکز سرحد پار سے رابطہ کاری کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔'

بیان میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے مئی اور جون میں انسداد پولیو کی دو مہموں کو ہم آہنگ کیا ہے اور بین الاقوامی سرحدوں پر تمام عمر کے بچوں کو قطرے پلانے کے ساتھ ساتھ تمام اہم ٹرانزٹ پوائنٹس پر 10 سال سے کم عمر کے بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنا رہے ہیں۔'

مزید پڑھیں: شمالی وزیرستان: پولیو وائرس سے 8 ماہ کا بچہ معذور ہوگیا

خیال رہے کہ تقریباً 15 ماہ تک پولیو سے پاک رہنے کے بعد پاکستان میں اپریل میں پولیو کا ایک کیس رپورٹ ہوا جبکہ ملک میں گزشتہ سال صرف ایک کیس سامنے آیا تھا۔

پولیو ایک انتہائی متعدی بیماری ہے جو پولیو وائرس کی وجہ سے ہوتی ہے اور بنیادی طور پر 5 سال سے کم عمر کے بچوں کو متاثر کرتی ہے۔

یہ وائرس اعصابی نظام میں داخل ہو کر فالج اور موت کا سبب بنتا ہے، اگرچہ اس کا کوئی علاج نہیں ہے، لیکن بچوں کو معذور کردینے والی اس بیماری سے بچانے کا سب سے مؤثر طریقہ ویکسینیشن ہے۔

منکی پاکس سے متعلق اجلاس

عالمی ادارہ صحت کی جانب سے منکی پوکس کی وبا کو 'بین الاقوامی تشویش کی عوامی صحت ایمرجنسی' قرار دیا گیا ہے، اس سلسلے میں ملک کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے وفاقی وزیر برائے صحت عبدالقادر پٹیل کی ہدایت پر ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔

اجلاس میں وفاقی اسپیشل سیکریٹری، وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل اور وزارت داخلہ، سی اے اے، سینٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ اور ایف آئی اے کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: پولیو ویکسین کی کہانی: اس میں ایسا کیا ہے جو ہر سال 30 لاکھ زندگیاں بچاتی ہے

ایک بیان کے مطابق، شرکا کو مطلع کیا گیا کہ صورتحال اس وقت 'اچھی طرح سے کنٹرول' میں ہے اور وبائی امراض کے لحاظ سے قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر اس کی کڑی نگرانی کی جا رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ 'تمام قومی اور صوبائی صحت کے حکام اور دیگر اسٹیک ہولڈرز، خاص طور پر سینٹرل ہیلتھ اسٹیبلشمنٹ (داخلے کے مانیٹرنگ پوائنٹس) کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ چوکس رہیں اور کسی بھی مشتبہ کیس کے لیے ہائی الرٹ رہیں'۔

بیان کے مطابق تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں پر زور دیا گیا ہے کہ 'منکی پاکس کی آئیسولیشن اور علاج کے لیے تیاری کو یقینی بنائیں'۔

ضرور پڑھیں

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی کی بہتری کے لیے کیا چیز ضروری ہے؟

کراچی میں اگر امن وامان، دیانت داری، فرض شناسی اور ذمہ داری کا احساس کرنے والی قیادت منتخب ہو جائے تو عوام کو اچھی سڑکیں، اسپتال، اسکول اور پانی تو نصیب ہوگا۔

تبصرے (0) بند ہیں