• KHI: Zuhr 12:39pm Asr 5:20pm
  • LHR: Zuhr 12:09pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:14pm Asr 5:10pm
  • KHI: Zuhr 12:39pm Asr 5:20pm
  • LHR: Zuhr 12:09pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:14pm Asr 5:10pm

نواز شریف کا حکومت پر عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر زور

شائع August 3, 2022
نواز شریف نے کہ عمران خان ملک کے سب سے بڑےچور ہیں---فوٹو: اسکرین گریب
نواز شریف نے کہ عمران خان ملک کے سب سے بڑےچور ہیں---فوٹو: اسکرین گریب

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف نے حکومت پر زور دیا ہے کہ الیکشن کمیشن (ای سی پی) کی جانب ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنانے کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان کے خلاف کارروائی کی جائے۔

لندن میں اپنی رہائش گاہ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ 'آج ثابت ہوگیا ہے اور اب پوری قوم جانتی ہے کہ عمران خان ملکی تاریخ کا سب سے بڑا چور ہے'۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈنگ ثابت، الیکشن کمیشن نے فیصلہ سنادیا

انہوں نے کہا کہ عمران خان 'لوگوں کو دیانت داری پر لیکچر دیا کرتا تھا، آج الیکشن کمیشن کے فیصلے سے واضح ہوگیا کہ دراصل تاریخ کا سب سے بڑا چور وہ خود ہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وہ جانتے تھے کہ وہ سب سے بڑی منی لانڈرنگ کر چکے ہیں، یہی وجہ تھی کہ وہ چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے'۔

نواز شریف نے کہا کہ 'عمران خان نے جس طرح غیرملکیوں سے پیسے لیے ہیں اس سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ ملک میں بیرونی ایجنڈا لانے والے آدمی ہیں'۔

اپنی گزشتہ حکومت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) ملک کو ترقی کی طرف لے کر جا رہی تھی لیکن عمران خان کی وجہ سے تمام کوششیں ختم ہوگئیں۔

عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ 'انہوں نے معیشت تباہ کردی اور ملک کی کمر توڑ دی ہے اور انہوں نے یہ سب کچھ بیرونی ایجنڈے کے تحت کیا'۔

قائد مسلم لیگ (ن) نے زور دیتے ہوئے کہا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار جیسے لوگ جنہوں نے عمران خان کو صادق اور امین قرار دیا اور مسلم لیگ (ن) کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) میں کارروائی شروع کی، انہیں سزا ملنی چاہیے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی کو ممنوعہ فنڈنگ کس نے کی؟

نواز شریف نے کہا کہ 'یہ تمام چیزیں ریکارڈ پر ہیں اور وقت آئے گا کہ ان تمام سوالوں کے جواب دینے ہوں گے'۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ عمران خان سمیت یہ لوگ پاکستان کو اس جگہ پر پہنچانے کے ذمہ دار ہیں جہاں آج ملک موجود ہے اور تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ ان کے خلاف کارروائی کریں۔

انہوں نے کہا کہ 'یہ آدمی عمران خان پاکستان کے لیے انتہائی خطرناک ہے' اور انہیں جلدی سزا ملنی چاہیے۔

دوسر جانب وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا تھا کہ حکومت الیکشن کمیشن کے فیصلے پر قانون کے مطابق عمل کرے گی۔

انہوں نے کہا تھا کہ 'جعلی اور جھوٹے بیان حلفی جمع کرائے، 13 غیرقانونی بینک اکاؤنٹس عمران خان خود چلاتا رہا اور الیکشن کمشن سے چھپاتا رہا، عالمی فراڈیوں سے خیرات کے نام پر پیسے بٹورے اور جعل سازی کی، جان بوجھ کر اپنے 4 ملازمین کے نام پر پیسے منگوائے'۔

مریم اورنگزیب نے کہا کہ 'چوروں اور منی لانڈرز نے 9 وکیل بدلے، 50 الیکشن کمیشن سے بھاگے اور 9 دفعہ کیس روکنے کی درخواستیں دیں'۔

انہوں نے کہا کہ 'عمران خان عالمی منی لانڈرر ثابت ہو چکا ہے، وفاقی حکومت قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کے فیصلے پر عمل درآمد کرے گی، عمران خان اس چوری کی وجہ سے الیکشن کمیشن پر حملے کر رہا ہے'۔

پی ٹی آئی ممنوعہ فنڈنگ کا فیصلہ

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کے خلاف 2014 سے زیر التوا ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ثابت ہوگیا کہ تحریک انصاف نے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔

چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں نثار احمد اور شاہ محمد جتوئی پر مشتمل 3 رکنی بینچ نے 20 جون کو محفوظ کیا گیا فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کو امریکا، کینیڈا اور ووٹن کرکٹ سے ملنے والی فنڈنگ ممنوعہ قرار دی گئی ہے، اس میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی نے دانستہ طور پر ووٹن کرکٹ لمیٹڈ سے ممنوعہ فنڈنگ حاصل کی۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی پر ممنوعہ فنڈنگ ثابت، قانونی نتائج کیا ہوسکتے ہیں ؟

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ تحریک انصاف نے عارف نقوی سمیت 34 غیر ملکیوں سے فنڈز لیے، ابراج گروپ، آئی پی آئی اور یوایس آئی سے بھی فنڈنگ حاصل کی، یو ایس اے ایل ایل سی سے حاصل کردہ فنڈنگ بھی ممنوعہ ثابت ہوگئی۔

فیصلے میں رومیتا سیٹھی سمیت دیگر غیر ملکی شہریوں اور غیر ملکی کمپنیوں کی جانب سے پی ٹی آئی کو ملنے والی فنڈنگ بھی غیر قانونی قرار دے دی گئی۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ تحریک انصاف نے 8 اکاؤنٹس ظاہر کیے جبکہ 13 اکاؤنٹس پوشیدہ رکھے، یہ 13 نامعلوم اکاؤنٹس سامنے آئے ہیں جن کا تحریک انصاف ریکارڈ نہ دے سکی، پی ٹی آئی نے جن اکاؤنٹس سے لاتعلقی ظاہر کی وہ اس کی سینئر قیادت نے کھلوائے تھے۔

فیصلے میں الیکشن کمیشن کی جانب سے مزید کہا گیا کہ عمران خان نے الیکشن کمیشن کے پاس سال 2008 سے 2013 تک غلط ڈیکلریشن جمع کروائے، چیئرمین پی ٹی آئی کے فنڈنگ درست ہونے کے سرٹیفکیٹ درست نہیں تھے۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے اکاؤنٹس چھپائے، بینک اکاؤنٹس چھپانا آرٹیکل 17 کی خلاف ورزی ہے۔

الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو شوکاز نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ یہ بتایا جائے کہ پارٹی کو ملنے والے فنڈز الیکشن کمیشن کی جانب سے کیوں نہ ضبط کیے جائیں۔

فیصلے میں پی ٹی آئی کو ملنے والی ممنوعہ فنڈنگ ضبط کرنے کے لیے نوٹس جاری کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو قانون کے مطابق اقدامات کرنے کا حکم دے دیا گیا، فیصلے کی کاپی وفاقی حکومت کو بھی بھجوانے کی ہدایت کردی گئی۔

تبصرے (1) بند ہیں

Moaz Aug 03, 2022 12:48am
PML Imranophobia ki marz mai mubtla ho gaye ha.

کارٹون

کارٹون : 22 جولائی 2024
کارٹون : 21 جولائی 2024