اسلام آباد: شکرپڑیاں میں یوم آزادی پر خواتین کو ہراساں کرنے والے 4 ملزمان گرفتار

اپ ڈیٹ 17 اگست 2022
<p>اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے کہا کہ ملزمان کی شناخت نادرا کے ذریعے کی گئی— فوٹو: اسلام آباد پولیس</p>

اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے کہا کہ ملزمان کی شناخت نادرا کے ذریعے کی گئی— فوٹو: اسلام آباد پولیس

اسلام آباد پولیس نے 14 اگست کے موقع پر وفاقی دارالحکومت کے علاقے شکرپڑیاں نیشنل پارک میں خواتین کو ہراساں کرنے کے الزام میں 4 مرکزی ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر وائرل ہونے کے بعد یہ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، اس ویڈیو میں 2 خواتین نظر آرہی ہیں، جو غیر ملکی سیاح لگ رہی ہیں، ان کو مردوں نے گھیرا ہوا ہے اور وہ خواتین اس ہجوم سے باہر نکلنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ویڈیو میں مردوں کو تبصرے کرتے سنا جا سکتا ہے، جو بظاہر خواتین کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، چند افراد کو موبائل فون سے خواتین کی ویڈیو بناتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خواتین کو ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ بل منظور

ڈان ڈاٹ کام کے پاس دستیاب فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) پیر 15 اگست کو سب انسپکٹر آصف علی کی مدعیت میں تھانہ آبپارہ میں درج کی گئی، اس میں بتایا گیا کہ مردوں کے ایک گروپ نے یوم آزادی کے موقع پر غیر ملکی خواتین کو ہراساں کیا اور ان کی بے عزتی کی۔

ایف آئی آر میں نامعلوم افراد کے خلاف پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 354 (عورت پر حملہ یا زبردستی اس کی عزت مجروح کرنے کا ارادہ)، دفعہ 509 (عورت کی عزت مجروح کرنے کے لیے لفظ یا اشارہ کرنا)، دفعہ 147 (فساد کی سزا) اور 149 (غیرقانونی طور پر جمع لوگوں کا ہر فرد جرم میں قصوروار) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔

اسلام آباد پولیس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق گرفتار ملزمان میں سجاد احمد، عدیل کریم، ریاض خان اور ذاکراللہ شامل ہیں، ملزمان ٹیکسلا کے رہائشی ہیں جن سے تفتیش جاری ہے۔

اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے ڈان ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ویڈیوز میں نظر آنے والے تمام ملزمان کی شناخت نادرا کے ذریعے کی گئی جبکہ ملزمان کے قبضے سے واقعے کی ویڈیوز بھی برآمد کرلی ہیں۔

گزشتہ روز اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی) ڈاکٹر اکبر ناصر خاں نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیا، جس کے بعد مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی گئی۔

مزید پڑھیں: ڈراموں میں لڑکیوں کو ہراساں کرنے والے لڑکوں سے محبت ہوتے ہوئے دکھایا جا رہا ہے، عروہ حسین

ایک ٹوئٹ میں پولیس نے اس واقعے کو افسوس ناک اور مجرمانہ فعل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہر طبقہ فکر کے لوگوں کو اس کی بھرپور مذمت کرنے کی ضرورت ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں