ڈاکٹر شہباز گِل پر جیل میں تشدد نہیں ہوا، وہ بالکل ٹھیک ہیں، وزیر داخلہ پنجاب

اپ ڈیٹ 16 اگست 2022
<p>ان کا کہنا تھا کہ کسی کی مجال نہیں ہے کہ جیل میں کسی بھی قیدی کو کوئی انگلی بھی لگائے— فوٹو: ڈان نیوز</p>

ان کا کہنا تھا کہ کسی کی مجال نہیں ہے کہ جیل میں کسی بھی قیدی کو کوئی انگلی بھی لگائے— فوٹو: ڈان نیوز

پنجاب کے وزیر داخلہ ہاشم ڈوگر نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر شہباز گلِ پر جیل میں تشدد کی خبروں کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان پر کوئی تشدد نہیں ہوا اور ان کے جسم پر زخم کے کوئی نشانات نہیں ہیں، وہ بالکل ٹھیک اور محفوظ ہیں۔

اس سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی اور سابق وزیراعظم عمران خان نے گزشتہ روز ایک انٹرویو میں الزام عائد کیا تھا کہ جیل میں ڈاکٹر شہباز گِل پر تشدد کیا جا رہا ہے۔

پنجاب کے وزیر داخلہ و جیل خانہ جات کرنل ریٹائرڈ ہاشم ڈوگر نے اڈیالہ جیل میں شہباز گل سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شہباز گِل سمیت کافی تعداد میں قیدیوں سے ملاقات کی ہے، وہ بالکل ٹھیک اور محفوظ ہیں، ان کو کسی قسم کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام قیدی ہمارے لیے مہمان کا درجہ رکھتے ہیں، کسی کی مجال نہیں ہے کہ جیل کے اندر موجود کسی بھی قیدی کو کوئی انگلی بھی لگائے، اگر کوئی لگائے گا تو میں براہ راست اس کے خلاف ایکشن لوں گا۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ میں عمران خان سے ملوں گا اور ان کو شہباز گِل کے حوالے سے اصل صورت حال سے آگاہ کروں گا۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے شہباز گِل کے متنازع بیان کو 'غلط' قرار دے دیا

ان کا کہنا تھا کہ مجھے امید ہے کہ ایک نہ ایک دن شہباز گِل رہا ہوں گے، آپ لوگ ان سے پوچھ لیجے گا کہ کرنل ہاشم ڈوگر نے باہر آکر ان کے حوالے سے کوئی غلط بات تو نہیں کی۔

پنجاب کے وزیرداخلہ و جیل خانہ جات ہاشم ڈوگر نے کہا کہ صرف شہباز گل نہیں 50 ہزار قیدیوں میں سے کسی ایک پر بھی تشدد ہوگا تو میں اس افسر کو نہیں چھوڑوں گا۔

شہباز گل سے ملاقات سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز بھی جیل میں متعدد ملاقاتیں ہوئی ہیں، ہم نے وقت کو بھی دیکھنا ہوتا ہے، میں باربار اس کی یقین دہانی کروا رہا ہوں، جو لوگ یہاں پر ملاقات کے لیے آئیں گے، وہ ان کی فلاح و بہبود کے لیے کچھ بھی نہیں کرسکتے، صرف مل کر چلے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ میں حلفیہ یہ کہتا ہوں کہ اس جیل میں بند تمام قیدی میرے لیے ایک جیسے ہیں۔

25 مئی کو تحریک انصاف کے مارچ پر پولیس کی جانب سے مبینہ تشدد کے حوالے سے ان کہنا تھا کہ جن افسران نے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے 'ریڈ لائن' کراس کیا، ان کو بالکل بھی نہیں چھوڑیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پنجاب پولیس کا عطا تارڑ کے گھر چھاپہ، تحقیقات میں تعاون کرنے کیلئے نوٹس لگا دیا

وزیرداخلہ پنجاب نے کہا کہ اگر مجھے اطلاع ملے گی کہ راجن پور کی کسی جیل میں کسی قیدی پر تشدد ہوا ہے، تو میں وہاں بھی جاؤں گا، اس کی انکوائری کروں گا، میں بڑے وثوق سے کہتا ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا، آپ لوگ افواہیں نہ پھیلائیں، آپ لوگ نان ایشو کو ایشو نہ بنائیں، ہم ان کو آئین اور قانون کے مطابق ڈیل کر رہے ہیں۔

'شہباز گِل کا میڈیکل کروانے کی ضرورت نہیں ہے'

شہباز گِل کے میڈیکل کروانے سے متعلق سوال کے جواب میں ہاشم ڈوگر کا کہنا تھا کہ وہ تین یا چار دن قبل جب عدالت میں پیش ہوئے تھے تو اس وقت انہوں نے شکایت کی تھی کہ مجھ پر تشدد ہوا ہے، اُس وقت ان کا میڈیکل ہونا چاہیے تھا، ان پر جیل میں کوئی تشدد نہیں ہوا، ان کے جسم پر کوئی نشانات نہیں ہیں اس لیے میڈیکل کروانے کی ضرورت نہیں ہے جبکہ ڈاکٹر شہباز گِل نے لکھ کر دیا ہے کہ میں میڈیکل نہیں کروانا چاہتا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان نے نجی ٹی وی چینل 'جی این این نیوز' پر صحافی فریحہ ادریس کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ کہ جیل میں ڈاکٹر شہباز گِل کے ساتھ کیا گیا سلوک انتہائی پریشان کن اور تکلیف دہ ہے، مجھے معلوم نہیں تھا، ہمارے وکلا نے بتایا کہ اس کے کپڑے اتار کر ان کو مارا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہرسوال شہباز گل کو مار کر پوچھا جاتا ہے، سوال کیا جاتا ہے کہ عمران خان کھاتا کیا ہے، شہباز گل کے ساتھ ایسا سلوک کر کے لوگوں کو ڈرا رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الہٰی کی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں

سابق وزیراعظم نے الزام عائد کیا تھا کہ وہ تشدد کر رہے ہیں اور شہباز گِل کو ذہنی طور پر توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں اور وہ انہیں میرے خلاف بیانات دینے پر مجبور کر رہے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں