وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ عالمی برادری کو آج ہمارے ساتھ کھڑے ہونا چاہیے، جوامداد ہمیں موصول ہورہی ہے اور جتنی کی ہمیں ضرورت ہے اس میں بہت زیادہ فرق ہے، ہمیں عالمی برادری سے زیادہ امداد کی ضرورت ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف کا اسلام آباد میں بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ 11-2010 میں جس صورتحال کا سامنا تھا، اپنے تجربے کو آپ لوگوں کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں، وہ بہت مشکل ٹاسک تھا، تاہم اُس وقت وفاقی حکومت اور دیگر اداروں سمیت عالمی برادری کی بھرپور سپورٹ حاصل تھی، دوست ممالک نے گھروں کی تعمیر میں مدد دی، خوارک، ادویات اور موبائل ہسپتال وغیرہ فراہم کیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ رواں سال جون کے مہینے میں مخصوص علاقوں کا دورہ کرنا شروع کیا، میں سیلاب کی اس شدت کا اندازہ 2010 کی صورتحال سے کیا، ابتدائی طور پر مجھے لگا تھا کہ رواں سال سیلاب کم شدت کا ہے، تاہم میں نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ دورہ کیا تو مجھے لگا کہ یہ بالکل مختلف صورتحال ہے، میں نے سندھ اور بلوچستان کا دورہ کیا، گزشتہ روز خیبرپختونخوا گیا تھا، میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ملک میں سیلاب کی موجودہ صورتحال پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ بدترین ہے۔

'سیلاب کی وجہ سے کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں'

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیلاب کی وجہ سے لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، 1 ہزار سے زائد لوگ جاں بحق ہو چکے ہیں جس میں 300 بچے بھی شامل ہیں، ہزاروں لوگ زخمی ہیں، 10 لاکھ کے قریب جانور ہلاک ہو چکے ہیں، کھڑی فصلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں، سندھ میں کھجور کے درخت، کپاس اور چاول کی تمام فصلیں ختم ہو گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم کا سندھ حکومت کو 15 ارب روپے گرانٹ دینے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بھی لوگ بے گھر ہوچکے ہیں، ان کو خوارک، طبی امداد، پینے کے پانی کی ضرورت ہے، حکومت پاکستان، صوبائی حکومتوں اور ریسکیو اداروں مثلا نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، پاکستانی افواج لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں، ان اداروں نے ہزاروں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا ہے، گزشتہ روز ہیلی کاپٹر کے ذریعے ایک نوجوان کو ریسکیو کیا گیا۔

'تباہ کن صورتحال نے معاشی صورتحال کو بھی سنگین بنا دیا'

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آپ لوگ بھی فیلڈ میں موجود ہیں، آپ لوگوں نے خود صورتحال کو دیکھا ہے، میں روزانہ جائزہ لے رہا ہوں، صورتحال بہت خراب ہے، تباہ کن صورتحال نے معاشی صورتحال کو بھی سنگین بنا دیا ہے، میں سیاست پر بات نہیں کررہا، موجودہ صورتحال پر گفتگو کررہا ہوں، سیلاب نے ہمارے بوجھ میں مزید اضافہ کیا ہے جس کی وجہ سے صورتحال پیچدہ ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پورے پاکستان میں انفرااسٹرکچر تباہ ہوا ہے، تقریبا 3 ہزار 500 کلو میٹر سڑکوں کو نقصان پہنچا ہے، سیکڑوں پل اور انڈر پاسز تباہ ہو گئے، متعدد شہروں میں بجلی نہیں ہے، ہمارے وزرا، سیکریٹریز، پاکستان آرمی اور انجینئرنگ کا عملہ فیلڈ میں ہے تاکہ تمام کیبلوں، روڈ اور پلوں کی مرمت کرسکیں، تین دن قبل کوئٹہ کا سکھر شہر سے زمینی رابطہ مکمل طورپر منقطع ہو گیا تھا، صرف 36 گھنٹوں میں افسران نے بڑی محنت سے رابطہ بحال کیا۔

'متاثرین کو خیمے، مچھر دانیاں، پینے کا پانی اور طبی سہولیات فراہم کرر ہے ہیں'

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس کی وجہ سے زندگی کی بنیادی ضرورت تک رسائی میں دشواری کا سامنا ہے، ہمیں ایسی صورتحال کا سامنا ہے جسے میں نے اپنی پوری سیاسی زندگی میں نہیں دیکھا، ہم ریلیف اور ریسکیو کے لیے تمام تر وسائل کو برائے کار لا رہے ہیں، بحالی کا مرحلہ بہت مشکل ہے، اس وقت ہم متاثرین کو خیمے، مچھر دانیاں، پینے کا پانی اور علاج و معالجے کی سہولیات فراہم کرر ہےہیں۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا ڈپارٹمنٹل اسپورٹس پر پابندی ختم کرنے کا اعلان

انہوں نے کہا کہ ہم نے دنیا بھر میں اپنے بھائیوں اور بہنوں سے اپیل کی ہے، میں تمام ممالک کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ہمارے مدد کی اپیل پر بھرپور ساتھ دیا، امدادی سامان لے کر طیارے کراچی، اسلام آباد اور دیگر جگہوں پر آر ہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ کچھ ملکوں نے بذریعہ ریل امدادی سامان براستہ استنبول۔تہران۔اسلام آباد بھیجنا شروع کیا ہے، آج پہلی ٹرین استنبول سے روانہ ہو چکی ہے، دیگر ممالک نقد رقم بھی فراہم کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں ہنگامی بنیادوں پر عالمی برادری سے امداد کی ضرورت ہے، مجھے توقع ہے کہ جس طرح میڈیا تباہ کن مناظر دکھا رہا ہے، ردعمل تیز ہورہا ہے، آج ہم نے آپ کو یہاں آنے کی زحمت دی ہے کہ آپ لوگوں کو صورتحال کے بارے میں بتا سکیں، ہم آج پریزنٹیشن دیں گے کہ چاروں صوبوں میں کیا صورتحال ہے۔

انہوں نے کہا کہ درجنوں ہیلی کاپٹر امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں، بچوں، خواتین اور دیگر متاثرین کو محفوظ مقامات پر منتقل کرہے ہیں اور انہیں خوراک، دودھ، ادویات مہیا کررہے ہیں لیکن اسے بہت بڑے پیمانے پر کرنے کی ضرورت ہے اگر ایسا نہ کیا تو یہ چیلنج آخری متاثرہ شخص تک پہنچنے تک برقرار رہے گا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ گزشتہ روز ہم نے فیصلہ کیا کہ نیشنل فلڈ رسپانس اینڈ کوآرڈینشن سینٹر ہمارے تمام فیصلوں کو تیز رفتاری سے عملدرآمد کرنے کو یقینی بنائے گا، یہ صوبائی ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹیز کے ساتھ رابطے رکھے گا، اور امدادی کارروائیوں میں کوآرڈینیٹ کرے گا، اس کے ساتھ ساتھ بحالی کے پروگرام کی منصوبہ بندی کرے گا، اسی طرح یہ ڈونر ایجنسیز کے ساتھ بھی رابطہ رکھے گا۔

ایک ایک پیسہ شفاف طریقے سے استعمال کیا جائے گا

ان کا کہنا تھا کہ میں پختہ عہد کرتا ہوں کہ میری نگرانی میں امدادی رقم کا ایک ایک پیسہ شفاف طریقے سے استعمال کیا جائے گا اور ایک ایک پیسہ ضرورت مندوں کو جائے گا، اس کو کسی صورت ضائع نہیں ہونے دیں گے، کوئی بھی سیاسی اثر و رسوخ کام نہیں کرے گا، یہ ہماری ٹیم پاکستان کے لوگوں، امداد کرنے والوں اور حمایت کرنے والوں سے عزم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خیبرپختونخوا میں بارشوں کے بعد بدترین سیلاب، کئی اضلاع میں ایمرجنسی نافذ

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہم ترقیاتی منصوبوں کے پیسوں کو سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے خرچ کریں گے، ہم یقینا اپنے تجربے سے سیکھیں گے لیکن عالمی برادری کو آج ہمارے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، جوامداد ہمیں موصول ہورہی ہے اور جتنی کی ہمیں ضرورت ہے اس میں بہت زیادہ فرق ہے، ہمیں عالمی برادری سے زیادہ امداد کی ضرورت ہے، انہوں نے کہا کہ میں تمام ترقیاتی دنیا سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ آگے بڑھ کر ہمارا ساتھ دیں۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں