وزارت دفاع نے سابق فوجیوں کی دو تنظیموں سے لاتعلقی کا اعلان کردیا

اپ ڈیٹ 03 ستمبر 2022
سابق فوجیوں کی سوسائٹیوں کے کام کرنے اور انہیں چلانے کے لیے جامع پالیسی موجود ہے،وزارت دفاع—تصاویر: آئی ایس پی آر ویب سائٹ
سابق فوجیوں کی سوسائٹیوں کے کام کرنے اور انہیں چلانے کے لیے جامع پالیسی موجود ہے،وزارت دفاع—تصاویر: آئی ایس پی آر ویب سائٹ

وزارت دفاع نے سابق فوجیوں کی کچھ تنظیموں پر سابق فوجیوں کی نمائندگی کی آڑ لے کر کام کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ان کے خلاف تادیبی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ڈان اخبارمیں شائع رپورٹ کے مطابق وزارت دفاع نے اپنے بیان میں کہا کہ ہم سابق فوجیوں کی سوسائٹیوں جیسے پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی (پی ای ایس ایس ) اور ویٹرنز آف پاکستان ( وی او پی) جیسی تنظیموں کی سرگرمیوں کو تسلیم یا ان کی توثیق نہیں کرتے۔

یہ بھی پڑھیں: وزارت دفاع کو سینئر عسکری افسران کی آمدنی، اثاثوں کی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت

بیان میں مزیدکہا گیا کہ نا تھا کہ یہ تنطیمیں خیراتی مقاصد، سیلاب ،متاثرین کی امداد، عوامی خدمات یا اپنے خیالات کی ترویج کے لیے حمایت یا فنڈز کی درخواست کرتی ہیں۔

وزارت دفاع کی جانب سے کہا گیا کہ ’پاکستان کی مسلح افواج کے نام پر بنائی گئی سابق فوجیوں کی ایسی نام نہاد سوسائٹیاں جو پاکستان کی مسلح افواج یا اس کی اکائیوں کے ساتھ وابستگی کا غیر قانونی دعویٰ کرتی ہیں، ان کو تسلیم کیا گیا ہے نہ ایسی سرگرمیوں کی اجازت ہے۔‘

بیان میں کہا گیا کہ سابق فوجیوں کی سوسائٹیوں کے کام کرنے اور انہیں چلانے کے لیے جامع پالیسی موجود ہے، اِن اصولوں کی تعمیل نہ کرنے والے افراد کی کوئی بھی تنظیم مجرم ہو گی اور ایسے افراد اور تنظیم کو تادیبی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بیان عام طور پر جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹرز، جی ایچ کیو اور دیگر سروسز ہیڈ کوارٹرز کی جانب سے بیانات جاری کرنے والے انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے بجائے وزارت دفاع کی جانب سے جاری کیا گیا۔

مزیدپڑھیں: کیا آپ جانتے ہیں معلومات تک رسائی آپ کا حق ہے؟

پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب ہیں جبکہ ویٹرنز آف پاکستان کی سربراہی لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ علی قلی خان کر رہے ہیں۔

پاکستان ایکس سروس مین سوسائٹی کی ویب سائٹ کے مطابق یہ ادارہ ریٹائرڈ فوجیوں کی فلاح و بہبود کے لیے بنایا گیا تھا اور یہ سابق فوجیوں کا سب سے بڑا ادارہ ہے۔

وی او پی دوسرا بڑا ادارہ ہے جو سیاسی عزائم کی حمایت کرتا ہے۔

سابق فوجیوں کی تنیظیوں سے لاتعلقی کا اعلان وزارت دفاع کی جانب سے ان تنظیوں کے خلاف اب تک کی سب سے سخت کارروائی ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (1) بند ہیں

Abida Sep 03, 2022 02:28pm
کیونکہ یہ دونوں ادارے رجیم چینچ کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں اور محب وطن سابق فوجی افسران پر مشتمل ہیں۔ان کی آواز رجییم چینچ میں شامل لوگوں سے برداشت نہیں ہو رہی کیونکہ یہ سچ بول رہے ہیں