بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت سیلاب متاثرین میں 19.8 ارب روپے تقسیم

06 ستمبر 2022
فلڈ ریلیف ایمرجنسی کیش اسسٹنس پروگرام کے تحت 7 لاکھ 93 ہزار 701 متاثرہ خاندانوں نے مالی امداد حاصل کی—فوٹو : رائٹرز
فلڈ ریلیف ایمرجنسی کیش اسسٹنس پروگرام کے تحت 7 لاکھ 93 ہزار 701 متاثرہ خاندانوں نے مالی امداد حاصل کی—فوٹو : رائٹرز

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) نے کہا ہے کہ ملک کے سیلاب زدہ علاقوں میں ہر خاندان کو 25 ہزار روپے فراہم کیے جا رہے ہیں اور اب تک اس پروگرام کے تحت 19 ارب 80 کروڑ روپے سے زائد رقم تقسیم کی جا چکی ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں بتایا گیا کہ بی آئی ایس پی کے فلڈ ریلیف ایمرجنسی کیش اسسٹنس پروگرام کے تحت 7 لاکھ 93 ہزار 701 متاثرہ خاندانوں نے انسانی بنیادوں پر مالی امداد حاصل کی۔

بلوچستان میں 90 ہزار 396 خاندانوں کو سوا 2 ارب روپے دیے گئے، سندھ میں 4 لاکھ 66 ہزار 45 خاندانوں کو 11 ارب 60 کروڑ روپے دیے گئے، خیبرپختونخوا کے 98 ہزار 677 خاندانوں کو 2 ارب 40 کروڑ روپے ملے اور پنجاب میں ایک لاکھ 38 ہزار 583 خاندانوں کو 3 ارب 40 کروڑ روپے ملے۔

مزید پڑھیں: سیلاب متاثرین کی تعداد سوا 3 کروڑ سے زائد ہونے کا خدشہ

متاثرہ خاندانوں کو اس امدادی رقم کی ادائیگی کے لیے تعطیلات کے دوران بھی تمام ادائیگی مراکز کھلے رکھے گئے ہیں۔

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی انتظامیہ نے کیمپ سائٹس پر متعلقہ عملے کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں متاثرہ افراد کو سہولت فراہم کریں۔

متاثرہ خاندانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فلڈ ریلیف کیش اسسٹنس پروگرام میں رجسٹریشن کے لیے اپنے سی این آئی سی نمبر 8171 پر بھیجیں اور ادائیگی کا پیغام موصول ہونے کے بعد نقد ادائیگی حاصل کرنے کے لیے اپنے قریبی کیمپ سائٹ پر جائیں۔

سیلاب متاثرین کو نقد رقم کی آسان ادائیگی یقینی بنانے کے لیے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ہیڈ کوارٹر میں ایک کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اقوام متحدہ کی پاکستان میں سیلاب متاثرین کیلئے16کروڑ ڈالر کی ہنگامی امداد کی اپیل

ملین مِیلز پروگرام

دریں اثنا ’پیپسی کو پاکستان‘ نے خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں متاثرین کو 50 لاکھ کھانوں کی ہنگامی امداد فراہم کرنے کے لیے ملک گیر ’ملینز آف مِیلز پروگرام‘ کا اعلان کیا ہے۔

’ملینز آف میلز پروگرام‘ کمیونٹیز کے لیے کھانے کو مزید قابل رسائی بنانے کے لیے عالمی فوڈ سیکیورٹی پلیٹ فارم ’فوڈ فار گڈ‘ کا حصہ ہے۔

مزید پڑھیں: چین، برطانیہ کا سیلاب متاثرین کیلئے مزید امداد کا وعدہ

یونیسیف کی جانب سے امداد

اقوام متحدہ کا انٹرنیشنل چلڈرن ایمرجنسی فنڈ (یونیسیف) نے سیلاب سے متاثرہ بچوں اور خواتین کی مدد کے لیے گزشتہ روز طبی اور دیگر ہنگامی ضررویات پر مبنی 32 میٹرک ٹن سامان پہنچایا ہے۔

ایک بیان کے مطابق اس کھیپ میں ادویات، طبی سامان، پانی صاف کرنے والی گولیاں، ڈیلیوری کٹس اور غذائی سپلیمنٹس شامل ہیں، مزید امداد کے لیے 34 میٹرک ٹن کی دوسری کھیپ آج پہنچنے کی توقع ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کی مدد کرنا ہم پر فرض ہے، 9999 پر میسیج کرکے 10 روپے عطیہ دیں، وزیر خزانہ

جرمنی کی جانب سے خوراک کی امداد

جرمنی کے دفتر خارجہ نے اعلان کیا کہ وہ کراچی میں قونصلیٹ جنرل کے توسط سے بلوچستان میں سیلاب سے متاثرہ ایک ہزار خاندانوں کو اگلے 2 ماہ کے لیے خوراک فراہم کر رہے ہیں۔

جرمن حکومت کے ایک اعلان میں کہا گیا کہ ’ہم جرمن ریڈ کراس کے ذریعے مزید 60 ہزار افراد کے لیے خوراک اور طبی سامان بھی فراہم کر رہے ہیں‘۔

ضرور پڑھیں

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزیراعظم کا انتخاب کس طرح ہوتا ہے؟

وزارت عظمیٰ کے لیے اگر کوئی بھی امیدوار ووٹ کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے میں ناکام رہا تو ایوان زیریں کی تمام کارروائی دوبارہ سے شروع کی جائے گی۔

تبصرے (0) بند ہیں