سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں خاتون ڈاکٹروں کی اشد ضرورت ہے، صوبائی وزیر صحت

اپ ڈیٹ 07 ستمبر 2022
— فوٹو: ڈان نیوز
— فوٹو: ڈان نیوز

سندھ کی وزیر صحت ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں حکومت کو درپیش مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہزاروں خواتین اور بچے ایسے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے خواتین ڈاکٹروں کی اشد ضرورت ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سندھ اسمبلی کے کمیٹی روم میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے وزیر صحت عذرا فضل پیچوہو نے نشان دہی کی کہ سیلاب متاثرہ علاقوں تک رسائی ابھی تک ایک بڑا چیلنج ہے، جس سے امدادی کارروائیاں بُرے طریقے سے متاثر ہو رہی ہیں۔

مزید پڑھیں: پانی سے پھیلنے والی ’واٹر بورن ڈیزیز‘ کیا ہے؟

صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ یہ سیلاب سوچ سے بھی زیادہ ہے، جس میں ہمارا صحت کا بنیادی ڈھانچہ، فصلیں، نظام آبپاشی، آئی ٹی کی سہولیات اور سڑکیں شدید متاثر ہوئی ہیں اور لاتعداد لوگ بے گھر ہوچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس ضرورت سے زیادہ ادویات ہیں مگر مسئلہ سیلاب متاثرہ علاقوں تک رسائی ہے اور اسی مسئلہ کا سامنا امدادی سرگرمیوں میں مشغول تمام سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کو بھی ہے۔

انہوں نے کہا کہ لوگ آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں جبکہ وہ پانی بیماریوں کا اہم ذریعہ بن چکا ہے۔

امدادی سرگرمیوں میں مشغول فلاحی اداروں کے درمیان عدم تعاون کے حوالے سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر صحت نے کہا کہ اس وقت اشتراک کے ساتھ کام کرنا ممکن نہیں، سب کو آگے آنا ہوگا اور ہر ممکن طریقے سے مدد کرنی ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: سندھ: سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار

ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو کے مطابق کورونا وائرس کے دوران فرائض سرانجام دینے والے ڈاکٹروں کو سیلاب متاثرین کی طبی امداد کے لیے متحرک کیا گیا ہے جبکہ پنجاب حکومت نے بھی ہیلتھ کیئر ماہرین کی 7 ٹیمیں بھیجی ہیں، جس میں مرد اور خواتین ڈاکٹروں سمیت پیرامیڈکس اور نرسز بھی شامل ہیں۔

انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں کریمین کانگو ہیمرجک فیور (سی سی ایچ ایف) کی وبا بھی پھیل سکتی ہے کیونکہ مویشیوں کی بڑی تعداد بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے سندھ پہنچی ہے۔

اندرونی طور پر بے گھر افراد کی تفصیلات سے آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق بے گھر ہونے والے افراد میں خواتین کی تعداد 25 لاکھ 83 ہزار ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ سیلاب کی وجہ سے بے گھر ہونے والی خواتین میں حاملہ خواتین کی تعداد ایک لاکھ 2 ہزار 520 ہے جن میں 891 حاملہ خواتین خیموں میں ہیں۔

مزید پڑھین: سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ایک ارب روپے مالیت سے زائد ادویات کی فوری ضرورت

وزیر صحت سندھ نے کہا کہ خیمہ بستیوں میں روزانہ کی بنیاد پر 70 ہزار مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جولائی سے اب تک طبی عملہ 8 لاکھ سیلاب متاثرین کا علاج کر چکا ہے جہاں سانس کی شدید بیماری، ڈائریا، ملیریا، جلد کے امراض، سانپ اور کتے کے کاٹنے کے کیسز عام ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں