ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم 96 برس کی عمر میں چل بسیں

اپ ڈیٹ 09 ستمبر 2022
<p>— فوٹو : رائٹرز</p>

— فوٹو : رائٹرز

برطانیہ میں طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والی ملکہ الزبتھ دوم 96 سال کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

بکنگھم پیلس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ملکہ برطانیہ آج سہ پہر اسکاٹ لینڈ میں واقع بالمورل میں انتقال کر گئیں۔

ان کے بڑے صاحبزادے 73 سالہ چارلس برطانیہ کے بادشاہ بن گئے ہیں، وہ آسٹریلیا، کینیڈا اور نیوزی لینڈ سمیت 14 ریاستوں کے سربراہ کی حیثیت سے ملک کی قیادت کریں گے۔

قبل ازیں، ملکہ برطانیہ الزبتھ دوم کو ڈاکٹروں نے طبی نگرانی میں رکھا تھا جبکہ شاہی خاندان اسکاٹ لینڈ پہنچ گیا تھا، جس پر برطانوی سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی تشویش میں اضافہ ہوا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ نے بتایا تھا کہ برطانیہ کی سب سے طویل عرصے تک خدمات انجام دینے والی 96 سالہ ملکہ گزشتہ برس اکتوبر سے صحت کے مسائل سے دوچار تھیں، انہیں چلنے اور کھڑے ہونے میں مشکلات کا سامنا تھا۔

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ان کے بچے پہلے سے ہی بالمورل کی طرف روانہ ہو چکے تھے، جن میں ولی عہد 73 سالہ شہزادہ چارلس، 72 سالہ شہزادی عینی، 72 سالہ شہزادہ اینڈریو اور 58 سالہ شہزادے ایڈورڈ شامل ہیں۔

ان کے ہمراہ شہزادہ چارلس کے بڑے صاحبزادے شہزادہ ولیم، چھوٹے بیٹے شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن بھی شامل ہیں، جو شاہی زندگی کو ترک کر کے امریکا جانے کے بعد غیر معمولی دورے پر برطانیہ آئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ملکہ برطانیہ کی طبیعت ناساز، سالوں بعد رات ہسپتال میں گزاری

ملکہ الزبتھ دوم کو طویل عرصے تک ریاست کا سربراہ رہنے کا اعزاز حاصل تھا، انہوں نے 6 فروری 1952 کو اپنے والد کنگ جارج ششم کے انتقال کے بعد صرف 25 برس کی عمر میں تخت پر براجمان ہوئی تھیں۔

انہیں اسی برس جون میں تاج پہنایا گیا تھا، جسے پہلی بار ٹی وی پر دکھایا گیا تھا۔

انہوں نے تاج پوشی کے دن خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں نے خلوص کے ساتھ آپ کی خدمت کا عہد کیا ہے، جیسا کہ آپ میں سے بہت سے لوگوں نے میرے ساتھ کیا ہے، اپنی پوری زندگی اور اپنے پورے دل سے میں آپ کے بھروسے پر پورا اترنے کی کوشش کروں گی۔

خیال رہے کہ ملکہ برطانیہ کو سب سے زیادہ عرصے تک حکمرانی کا اعزاز بھی اسی مہینے حاصل ہوا تھا اور اس سے قبل 6 فروری کو تخت نشینی کے 70 سال مکمل ہوئے تھے۔

سرکاری سوگ

ٹی وی اور ریڈیو اسٹیشنوں پر باقاعدہ پروگرام روک کر خبرنشر کی گئی، ان کی طویل زندگی اور حکومت کو یاد رکھنے کے لیے خصوصی شیڈول ترتیب دیے گئے۔

ٹی وی پر قومی ترانہ ‘گوڈ سیو دی کوئین’ چلایا گیا، جھنڈے کو سرنگوں کر دیا گیا، ان کی یاد میں چرچ میں گھنٹیاں بجائی گئیں۔

پاکستان کا اظہارِ تعزیت

انتقال کی خبریں آنے کے فوری بعد صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے شاہی خاندان، حکومت اور برطانیہ کے عوام سے گہرے رنج اور دکھ کا اظہار کیا۔

ایوان صدر سے جاری بیان میں عارف علوی کا کہنا تھا کہ ان کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پورا کیا جانا مشکل ہو گا۔

ڈاکٹرعارف علوی کا کہنا تھا کہ ملکہ برطانیہ نے بہت کم عمری میں ذمہ داریاں سنبھالی تھیں، تاہم انہوں نے پختگی، کردار، عزم اور اعلیٰ ترین عزم کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے وہ دنیا میں سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والوں میں شامل ہوئیں۔

صدر عارف علوی نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں شاہی خاندان کے اراکین اور برطانیہ کے لوگوں کے ساتھ ہمدردیاں ہیں۔

برطانوی وزیراعظم کی طرف سے پیشگی پریشانی کا اظہار

قبل ازیں، برطانوی وزیراعظم لز ٹرس کے اعلان سے چند لمحے قبل ہاؤس آف کامنز میں ان کے وزرا اور اپوزیشن رہنماؤں کو نوٹس بھیجے گئے تھے، جس سے انہیں چیمبر چھوڑنے کا اشارہ کیا گیا۔

نو منتخب برطانوی وزیراعظم لزٹرس نے ٹوئٹ کیا تھا کہ بکنگھم پیلس سے آنے والی خبروں سے پورا ملک سخت پریشان ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میرے خیالات، برطانیہ کے لوگوں کے خیالات اس وقت ملکہ برطانیہ اور ان کے خاندان کے ساتھ ہیں۔

منگل کو بالمورل میں وزیراعظم لزٹرس کو مبارکباد دینے والی ملکہ کی ایک تصویر نے پہلے ہی خطرے کی گھنٹی بجائی تھی، جس میں ملکہ برطانیہ کے دائیں ہاتھ پر جامنی رنگ کا ایک گہرا زخم دکھایا گیا تھا۔

ملکہ الزبتھ دوم کا قریبی خاندان جمعرات کو سکاٹ لینڈ پہنچ گیا تھا، جب ڈاکٹروں نے 96 سالہ ملکہ برطانیہ کو طبی نگرانی میں رکھا، جس سے برطانوی سیاسی اور مذہبی رہنماؤں کی تشویش میں اضافہ ہوا۔

مزید پڑھیں: ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم میں کووڈ 19 کی تشخیص

کینٹربری کے آرچ بشپ جسٹن ویلبی جو چرچ آف انگلینڈ میں ملکہ کی سربراہی میں اعلیٰ ترین پادری ہیں، انہوں نے کہا تھا کہ وہ ان کی دعاؤں میں ہیں۔

انہوں نے ٹوئٹ کی تھی کہ خدا ملکہ برطانیہ کو آرام دے، ان کے خاندان، اور بالمورل میں اس کی دیکھ بھال کرنے والوں کو مضبوط کرے اور تسلی دے۔

6 ستمبر کو بورس جانسن کے استعفے کے بعد کنزرویٹو پارٹی کی سربراہ منتخب ہونے والی سابق سیکریٹری خارجہ لز ٹرس نے ملکہ برطانیہ سے ملاقات کی تھی اور اس کے بعد وہ باقاعدہ طور پر برطانیہ کی نئی وزیراعظم بن گئیں۔

بکنگھم پیلس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ آج صبح مزید تشخیص کے بعد ملکہ برطانیہ کے ڈاکٹروں نے ان کی صحت کے لیے فکر مند ہیں، اور انہیں طبی نگرانی میں رکھنے کی تجویز دی ہے۔

خیال رہے کہ اکتوبر 2021 کو دنیا کی معمر ترین ملکہ کا اعزاز حاصل کرنے والی ملکہ برطانیہ 95 سالہ الزبتھ دوم نے ناسازی طبیعت کے باعث سالوں بعد پہلی رات ہسپتال میں گزاری تھی۔

بکھنگم پیلس کے مطابق 20 اکتوبر کو ملکہ کے طبی عملے کی جانب سے انہیں آرام کرنے کی تاکید کے بعد ان کا شمالی آئرلینڈ کا سرکاری دورہ منسوخ کر دیا گیا تھا لیکن ان کی بیماری کا تعلق کورونا وائرس سے نہیں تھا۔

بیان میں برطانوی شاہی محل نے کہا تھا کہ ‘کچھ دن آرام کرنے کے طبی مشورے کے بعد ملکہ الزبتھ دوم، کچھ ابتدائی معائنے کے لیے بدھ کی سہ پہر ہسپتال گئی تھی اور ، آج دوپہر کے کھانے کے وقت ونڈسر محل واپس آگئیں اور اب ان کی طبیعت ٹھیک ہے’۔

یاد رہے کہ ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم کو رواں برس فروری میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تھی۔

بکنگھم پیلس کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا تھا کہ برطانوی ملکہ کو عام نزلہ زکام جیسی معمولی شدت کی علامات کا سامنا ہے، مگر توقع ہے کہ وہ آنے والے ہفتے میں ‘ہلکے پھلکے فرائض’ سرانجام دینا جاری رکھیں گی۔

96 سالہ ملکہ میں کووڈ کی تشخیص اس وقت ہوئی جب ان کے سب سے بڑے بیٹے اور ولی عہد 73 سالہ شہزادہ چارلس گزشتہ ہفتے اس وبائی مرض سے دوسری بار متاثر ہوئے تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں