ہنی سنگھ اور شالنی تلوار کے درمیان طلاق ہوگئی، بھارتی میڈیا

دونوں نے 2011 میں شادی کی تھی—فائل فوٹو: فیس بک
دونوں نے 2011 میں شادی کی تھی—فائل فوٹو: فیس بک

بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ معروف پنجابی گلوکار یو یو ہنی سنگھ اور ان کی اہلیہ گلوکارہ و ماڈل شالنی تلوار کے درمیان طلاق ہوگئی، تاہم ان کا معاملہ اب بھی عدالت میں زیر سماعت رہے گا۔

بھارتی اخبار ’انڈیا ٹوڈے‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دونوں کے درمیان دارالحکومت نئی دہلی کی فیملی کورٹ ’سیکٹ‘ میں طلاق کا معاملہ طے پاگیا، تاہم اس باوجود دونوں کی جانب سے ایک دوسرے پر لگائے گئے الزامات کی وجہ سے ان کا معاملہ زیر سماعت رہے گا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہنی سنگھ نے شالنی تلوار کی جانب سے دائر کردہ دعوے کے تحت انہیں ایک کروڑ روپے کا چیک ادا کیا، جس کے بعد دونوں فریقین نے طلاق پر رضامندی ظاہر کی۔

شالنی تلوار نے شوہر پر سنگین الزامات عائد کیے تھے—فائل فوٹو: فیس بک
شالنی تلوار نے شوہر پر سنگین الزامات عائد کیے تھے—فائل فوٹو: فیس بک

دونوں کے درمیان ایک کروڑ روپے کے عوض طلاق کا تصفیہ عدالت کے سامنے ہوا اور انہوں نے شادی ختم کرنے سے متعلق رضامندی کے دستاویزات بھی عدالت میں جمع کروادیے۔

یہ بھی پڑھیں: ہنی سنگھ پر اہلیہ نے گھریلو تشدد و جنسی استحصال کا مقدمہ کردیا

دونوں کی جانب سے رضامندی کے کاغذات جمع کروائے جانے کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت آئندہ سال مارچ تک ملتوی کردی اور عدالت نے دونوں کی طلاق کی قانونی ڈگری جاری نہیں کی۔

ممکنہ طور پر دونوں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف لگائے گئے گھریلو تشدد، جنسی استحصال اور بلیک میلنگ کے الزامات سمیت دیگر الزامات پر سماعتیں ہونے کے بعد ان کی طلاق کی باضابطہ ڈگری جاری کی جائے گی۔

دوسری جانب ’ہندوستان ٹائمز‘ نے بھی اپنی رپورٹ میں ایک اور ویب سائٹ کی خبر کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ شالنی تلوار اور ہنی سنگھ کے درمیان طلاق ہوگئی اور گلوکار نے اہلیہ کو طلاق کے عوض ایک کروڑ روپے ادا کردیے۔

دونوں کے درمیان نئی دہلی کی فیملی کورٹ میں تقریبا ایک سال سے کیس زیر سماعت تھا۔

ہنی سنگھ نے شالنی کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا تھا—فائل فوٹو: فیس بک
ہنی سنگھ نے شالنی کے الزامات کو جھوٹا قرار دیا تھا—فائل فوٹو: فیس بک

ہنی سنگھ پر ان کی اہلیہ گلوکارہ و ماڈل شالنی تلوار نے گزشتہ برس جنسی استحصال، گھریلو تشدد، دوسری خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرنے اور انہیں دھوکہ دینے سمیت مختلف الزامات کے تحت 20 کروڑ روپے کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔

مزید پڑھیں: ہنی سنگھ نے بیوی کے الزامات پر وضاحت دے دی

شالنی تلوار نے ہنی سنگھ پر اگست 2021 میں ہرجانے کا دعویٰ دائر کرتے ہوئے درخواست میں دعویٰ کیا تھا کہ ان کے شوہر شراب نوشی کرنے سمیت متعدد خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات میں بھی ملوث رہے ہیں جب کہ وہ انہیں گالیاں بھی دیتے رہتے ہیں۔

شالنی تلوار نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی شادی کے بعد ہی ان کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور ہنی مون کے فوری بعد ہی ان میں تلخیاں پیدا ہوگئی تھیں، ساتھ ہی انہوں نے شوہر پر جنسی استحصال اور گھریلو تشدد کے الزامات بھی عائد کیے تھے۔

اگرچہ شالنی تلوار نے شوہر پر 20 کروڑ روپے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا، تاہم ایسی رپورٹس نہیں تھی کہ انہوں نے طلاق کی بھی درخواست دی ہو۔

اہلیہ کی جانب سے دعویٰ دائر کیے جانے کے بعد اگرچہ ہنی سنگھ نے الزامات کو مسترد کردیا تھا اور دونوں کا کیس عدالت میں زیر سماعت تھا جب کہ عدالت نے دونوں کو صلح کا مشورہ بھی دیا تھا۔

ہنی سنگھ اور شالنی تلوار نے جنوری 2011 میں شادی کی تھی اور حالیہ اختلافات سے قبل بظاہر ان کے درمیان کبھی تنازعات کی خبریں سامنے نہیں آئی تھیں۔

ہنی سنگھ نے طلاق کے تصفیے کے طور پر ایک کروڑ روپے ادا کیے، بھارتی میڈیا—فائل فوٹو: فیس بک
ہنی سنگھ نے طلاق کے تصفیے کے طور پر ایک کروڑ روپے ادا کیے، بھارتی میڈیا—فائل فوٹو: فیس بک

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں