پنجاب حکومت نے کچرا اور فصلوں کی باقیات جلانے پر پابندی عائد کردی

22 ستمبر 2022
<p>محکمہ تحفظ ماحولیات کے سیکریٹری نے کہا کہ رواں سال آلودگی پھیلانے پر 883 مقدمات درج کیے گئے—فوٹو: اے ایف پی</p>

محکمہ تحفظ ماحولیات کے سیکریٹری نے کہا کہ رواں سال آلودگی پھیلانے پر 883 مقدمات درج کیے گئے—فوٹو: اے ایف پی

پنجاب حکومت نے اسموگ سے بچنے کے لیے صوبے میں دفعہ 144 کے نفاذ کا فیصلہ کرتے ہوئے فصلوں کی باقیات اور کوڑا کرکٹ کو جلانے پر پابندی عائد کردی ہے۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ پنجاب سول سیکریٹریٹ میں ہونے والے اجلاس میں کیا گیا، اجلاس کی صدارت چیف سیکریٹری عبداللہ خان سنبل نے کی، اجلاس میں لوکل گورنمنٹ، ہاؤسنگ اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف محکموں کے انتظامی سیکریٹریز، صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل اور متعلقہ افسران نے شرکت کی۔

یہ بھی پڑھیں: ’لاہور میں اسموگ ڈینگی اور کورونا سے بڑا معاملہ ہے‘

عبداللہ خان سنبل نے افسران کو ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا کہ صنعتی یونٹ اور ماحولیاتی آلودگی کا باعث بننے والی گاڑیوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کو تیز کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ اسموگ کے خلاف احتیاطی اقدامات کرنا بہت ضروری ہیں، انہوں نے کہا کہ تمام متعلقہ محکمے آلودگی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔

انہوں نے محکمہ تحفظ ماحولیات(ای پی ڈی) کے سیکریٹری کو اسموگ کی روک تھام کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے کے احکامات بھی جاری کیے۔

مزید پڑھیں: لاہور اسموگ:فضائی آلودگی کا سبب بننے والی فیکٹریوں کےخلاف کارروائی

چیف سیکریٹری کا کہنا تھا کہ اسٹیل مل اور فیکٹریوں میں غیرمعیاری ایندھن کے استعمال پر پابندی کا نفاذ عمل میں لایا جائے گا، انتظامی اور پولیس افسران انسداد اسموگ آپریشن کی حمایت کرتے ہیں، چیف سیکریٹری نے محکمہ زراعت سے کہا کہ وہ فصلوں کی باقیات کو جلانے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشینری کے استعمال کو فروغ دیں۔

محکمہ تحفظ ماحولیات کے سیکریٹری نے تفصیلی بریفنگ میں بتایا کہ تمام اضلاع میں اینٹی اسموگ اسکواڈ تشکیل دے دیے گئے ہیں اور فضائی آلودگی کا باعث بننے والی صنعتوں اور گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے۔

یہ بھی پڑھیں: لاہور میں آلودگی پر قابو پانے کیلئے 5 اینٹی اسموگ اسکواڈز تشکیل

سیکریٹری نے تفصیلات بتاتےہوئے کہا کہ رواں سال حکام نے 19 ہزار انسپیکشن اور 44 کروڑ روپے کے جرمانے عائد کیے ہیں، اس کے علاوہ آلودگی پھیلانے پر 883 مقدمات درج کیے گئے اور 664 یونٹ کو سیل کردیا گیا۔

انہوں نےمزید بتایا کہ انسداد اسموگ اقدامات کی نگرانی کے لیے محکمہ تحفظ ماحولیات میں ایک کنٹرول روم بھی قائم کیا گیا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں