سیلاب کے باوجود ربیع سیزن کے لیے 20 فیصد تک پانی کی کمی کا اندیشہ

اپ ڈیٹ 27 ستمبر 2022
<p>ربیع  سیزن یکم اکتوبر سے شروع ہو کر 31 مارچ کو ختم ہوتا ہے— فائل فوٹو: ایشیائی ترقیاتی بینک</p>

ربیع سیزن یکم اکتوبر سے شروع ہو کر 31 مارچ کو ختم ہوتا ہے— فائل فوٹو: ایشیائی ترقیاتی بینک

ملک بھر اور خاص طور پر سندھ اور بلوچستان میں تباہی مچانے والے سیلاب اور غیر معمولی موسلا دھار بارشوں کے باعث زمینوں کے تاحال زیر آب ہونے کے باوجود ملک کو آئندہ ربیع سیزن کی فصل کے لیے 15 سے 20 فیصد پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یکم اکتوبر سے شروع ہونے والے ربیع سیزن کے لیے پانی کی متوقع کمی سے خاص طور پر گندم کی فصل کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ڈائریکٹر ریگولیشنز خالد ادریس رانا کی زیر صدارت انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) کی ٹیکنیکل کمیٹی کے اجلاس میں فصل کے سیزن کے لیے کل پانی کی دستیابی کا تخمینہ 30.5-33.5 ملین ایکڑ فٹ (ایم اے ایف) لگایا گیا جس میں 21-24 ایم اے ایف بھی شامل ہے جو دریا کے بہاؤ کے تحت رم اسٹیشنوں تک پہنچ رہا ہے اور اور آبی ذخائر میں موجود تقریباً 9.5 ایم اے ایف پانی بھی شامل ہے جب کہ اس دوران ربیع سیزن کے لیے پانی کی ضرورت تقریباً 37-38 ایم اے ایف ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کو پانی کی کمی سے نمٹنے کے لیے جامع طرز حکمرانی کی ضرورت ہے، ایشیائی ترقیاتی بینک

تکنیکی کمیٹی کے اجلاس میں نوٹ کیا گیا کہ تربیلا ڈیم صلاحیت سے بھر گیا ہے جب کہ منگلا ڈیم میں ذخیرہ کرنے کی سطح اس کی صلاحیت کی سطح کا تقریباً 50 فیصد ہے۔

تکنیکی کمیٹی کے اجلاس میں صوبوں، واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) اور میٹ آفس کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

ان تخمینوں کی بنیاد پر کمیٹی نے ربیع سیزن کے لیے پانی کی مجموعی قلت کو 15 سے 20 فیصد کے درمیان قرار دیا۔

تاہم، کمیٹی پانی کی دستیابی سے متعلق کوئی حتمی اعلان نہیں کر سکی جب کہ پنجاب اور سندھ پانی کے ضیاع کے اندازوں سے متفق نہیں تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان اور بھارت میں سوا 2 ارب سے زائد افراد پانی کی قلت کا شکار

تخمینوں کے مطابق، جہلم-چناب ریجن میں جذب ہونے یا بخارات کی وجہ سے ضائع ہونے والے پانی کا تخمینہ صفر جب کہ سندھ کے لیے 8 فیصد اور پنجاب کی جانب سے صفر فیصد لگایا گیا۔

پنجاب کے نمائندوں کی رائے تھی کہ سیلاب کے سال میں نقصانات ہمیشہ پانی کے جذب کے لحاظ سے نہ ہونے کے برابر رہے، اس کے برعکس، سندھ کی رائے یہ تھی کہ زیادہ تر بارشیں ندی نالوں والے علاقوں میں ہوئیں، ان بارشوں کا پانی دریا تک نہیں پہنچا، اس لیے یہ عام سیلاب کا سال نہیں تھا، مزید یہ کہ ڈیموں کے کیچمنٹ ایریاز میں بارش ماضی کی اوسط سے بھی 10 سے 13 فیصد کم ہوئی۔

صوبوں کے درمیان عدم اتفاق کے پیش نظر کمیٹی نے حتمی فیصلے کے لیے معاملہ ایڈوائزری کمیٹی کو بھجوا دیا، چیئرمین ارسا کی سربراہی میں موجود مشاورتی کمیٹی سندھ یا پنجاب کی رائے سے اتفاق کرنے کا فیصلہ بھی کرے گی۔

کمیٹی کے 29 ستمبر کو ہونے والے اجلاس کے بعد پانی کی دستیابی کا تخمینہ اور صوبوں کو اس کی تقسیم کے منصوبے کو حتمی شکل دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: جسم میں پانی کی کمی کے بارے میں جاننا بہت آسان

ربیع سیزن کے لیے پانی کی قلت کا یہ خدشہ ایسے وقت میں ظاہر کیا گیا ہے جب کہ سندھ میں زمین کا بڑا حصہ تاحال زیر آب ہے یا زرعی زمین پر گندم کی بوائی کے لیے ضرورت سے زیادہ پانی موجود ہے۔

اس صورتحال کے باعث گندم کی فصل کی بوائی دباؤ کا شکار رہے گی جب کہ اس کے فصل پر اثرات کے بارے میں کسی حتمی رائے تک پہنچنا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

واٹر ایکارڈ 1991 کے تحت ارسا سال میں 2 مرتبہ خریف اور ربیع سیزن کے لیے ملک میں پانی کی دستیابی اور صوبوں کے حصے کا تعین کرتا ہے۔

ملک میں ربیع کا سیزن یکم اکتوبر سے شروع ہو کر 31 مارچ کو ختم ہوتا ہے جب کہ خریف سیزن یکم اپریل سے شروع ہو کر 30 ستمبر تک جاری رہتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں