ولی عہد محمد بن سلمان سعودی عرب کے وزیراعظم مقرر

اپ ڈیٹ 28 ستمبر 2022
<p>— فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

— فائل فوٹو: اے ایف پی

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان نے طاقت ور ولی عہد محمد بن سلمان کو مملکت کا وزیراعظم مقرر کر دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق محمد بن سلمان گزشتہ کئی برسوں سے مملکت کے حقیقی حکمران ہیں، وہ اس سے قبل سعودی بادشاہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے ماتحت نائب وزیر اعظم کے ساتھ ساتھ وزیر دفاع کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ محمد بن سلمان کی جگہ ان کے چھوٹے بھائی خالد بن سلمان کو وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے، جو اس سے قبل نائب وزیر دفاع تھے۔

سرکاری سعودی ایجنسی کے مطابق خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے شاہی فرمان جاری کردیا ہے، جس کے تحت دیگر اہم وزرا کو برقرار رکھا گیا ہے جس میں داخلہ، خارجہ اور توانائی کے وزرا شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی بادشاہ طبی معائنے کیلئے ہسپتال منتقل

شہزادہ محمد بن سلمان نے گزشتہ ماہ اپنی 37 ویں سالگرہ منائی تھی جبکہ انہیں 2017 میں ولی عہد بنایا گیا تھا اور اس سے قبل وہ 2015 میں وزیر دفاع بنے تھے ۔

سعودی عرب کے 86 سالہ فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صحت کے حوالے سے کئی برسوں سے قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں، وہ دنیا میں تیل برآمد کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کے 2015 میں بادشاہ بنے تھے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2017 میں ان خبروں اور بڑھتی ہوئی قیاس آرائیوں کو مسترد کیا گیا تھا کہ بادشاہ شہزادہ محمد بن سلمان کے حق میں دستبردار ہونے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔

سرکاری میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مئی 2022 میں سعوی عرب کے بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز کو طبی معائنے کے لیے بحیرہ احمر کے نزدیک واقع شہر جدہ کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں ’اے ایف پی‘ اور ’رائٹرز‘ نے ’سعودی پریس ایجنسی‘ کے حوالے سے کہا تھا کہ شاہی محل سے جاری بیان میں شاہ سلمان کی طبیعت کے حوالے سے مزید تفصیلات بتانے سے گریز کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ’ان کے شاہ سلمان اسپیشلسٹ ہسپتال میں ٹیسٹ کیے جارہے ہیں‘۔

یاد رہے کہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق دسمبر 2021 میں سعودی عرب کے فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز کے علیل ہونے کے سبب ولی عہد محمد بن سلمان نے باضابطہ طور پر بادشاہت کا منصب سنبھالنے سے قبل ہی مکمل طور پر اقتدار کی باگ ڈور سنبھال لی تھی۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا تھا کہ 2017 میں ولی عہد بنائے جانے کے بعد سے محمد بن سلمان کو ہی سعودی عرب کا اصل بااختیار سربراہ تصور کیا جاتا ہے اور دسمبر کے اوائل میں فرانسیسی صدر ایمانوئیل میکرون سے ملاقات سے قبل وہ کبھی بھی حکومتی امور میں اتنے نمایاں نظر نہیں آئے تھے اور خلیجی تعاون کونسل کے سربراہی اجلاس کی صدارت بھی کی تھی۔

مزید پڑھیں: 'بے تاج بادشاہ': سعودی ولی عہدمحمد بن سلمان کے وسیع اختیارات

مزید کہا گیا تھا کہ سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز عموماً سربراہان مملکت اور وفود کا استقبال اور ان سے مصافحہ کرنے کے بعد سالانہ اجلاس کی سربراہی کرتے ہیں لیکن اس مرتبہ خلیجی کونسل کے اجلاس میں ایسا نہیں تھا۔

کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس سے منسلک یاسمین فاروق نے 'اے ایف پی' کو بتایا تھا کہ سعودی فرماں روا کی طبیعت کی خرابی کے بعد ہی محمد بن سلمان نے غیرملکی صدور سے ملاقاتیں کیں اور سربراہی اجلاس کی صدارت شروع کی جس کے بعد یہ گمان کیا جانے لگا تھا کہ ولی عہد ہی ملک کے اصل حکمران ہیں۔

یاد رہے کہ سعودی عرب کے ڈی فیکٹو حکمران اور تخت کے اگلے جانشین ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان ہیں، جنہیں عام طور پر ’ایم بی ایس‘ کہا جاتا ہے اور انہوں نے مملکت کی معیشت کو تبدیل کرنے اور اس کا انحصار تیل سے ختم کرنے کے لیے اصلاحات کا آغاز کیا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں