ملک کے کچھ حصوں میں غذائی تحفظ کی صورتحال بدتر ہونے کا اندیشہ

01 اکتوبر 2022
<p>سیلاب کے باعث  لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا ذریعہ معاش متاثر ہوا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

سیلاب کے باعث لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا ذریعہ معاش متاثر ہوا ہے—فائل فوٹو: اے ایف پی

اقوام متحدہ کی آرگنائزیشن برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب کے منفی اثرات اور بنیادی اشیائے خورونوش، توانائی اور ایندھن کی انتہائی بلند قیمتوں کی وجہ سے پاکستان کے کچھ حصوں میں خوراک کے شدید عدم تحفظ کا خدشہ ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ایف اے او کی جانب سے جاری کردہ فوڈ اینڈ ایگریکلچر رپورٹ پر گلوبل انفارمیشن اینڈ ارلی وارننگ سسٹم کے خصوصی الرٹ کے مطابق مقامی غذائی تحفظ کی صورتحال کو بگڑنے سے بچنے کے لیے بین الاقوامی خوراک اور زرعی امداد کی فوری ضرورت ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ جولائی کے پہلے ہفتے میں سیلاب سے قبل فوڈ سیکیورٹی مرحلے کی درجہ بندی کے تجزیے کے مطابق تقریباً 60 لاکھ افراد، جو دیہی آبادی کا 30 فیصد ہیں، جولائی اور نومبر 2022 کے درمیان بلوچستان، سندھ اور خیبرپختونخوا صوبوں کے 28 غیر محفوظ اضلاع میں شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کی تعداد دستیاب اعدادوشمار سے زیادہ ہونے کا انکشاف

تاہم شدید غذائی عدم تحفظ میں کافی حد تک اضافے کی توقع ہے کیونکہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد کا ذریعہ معاش متاثر ہوا ہے اور کمزور گھرانے اپنی بنیادی ضروریات کو حاصل کرنے کے لیے اپنے پیداواری اثاثوں کو ختم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اس کے علاوہ ابتدائی معلومات گھریلو اور گودام کی سطح پر خوراک کے ذخائر کو پہنچنے والے شدید نقصانات کی نشاندہی کرتی ہیں، بشمول گندم اور گندم کا آٹا، جو اوسطاً فی کس توانائی کی ضروریات کا تقریباً 35 فیصد فراہم کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ خوراک تک رسائی بدتر ہوتی جا رہی ہے کیونکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے گھرانوں کی قوت خرید کو کم کر دیا ہے اور اس میں سڑکوں کی بندش اور انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان کی وجہ سے مارکیٹ کی سپلائی میں رکاوٹ کی نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔

مزید پڑھیں: ’اقوامِ متحدہ پاکستان کیلئے مزید 60 کروڑ ڈالر کی امدادی اپیل کرے گا‘

سیلاب سے سڑک کے بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے وسیع نقصان کے پیش نظر کچھ علاقوں میں خوراک تک رسائی بہت مشکل ہو گئی ہے۔

تازہ ترین سرکاری تخمینوں سے پتا چلتا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقہ کل رقبے کا تقریباً 35 فیصد ہے جہاں 2022 کے خریف سیزن کے لیے اناج، گنا اور کپاس کی بوائی کی گئی تھی۔

کپاس اور چاول کی خریف کی فصل کو شدید نقصانات پہنچنے کی اطلاع ملی ہے جو کہ گنے کے ساتھ اہم فصلیں ہیں اور ملک کی برآمدی آمدنی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔

تبصرے (0) بند ہیں