نصیرآباد میں محکمہ انسداد دہشت گردی کی کارروائی، چار دہشت گرد ہلاک

03 اکتوبر 2022
<p>کارروائی بلوچ ریپبلکن گارڈز کے کمانڈر غلام نبی عرف غلامی اور اس کے تین ساتھیوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کی گئی۔—آن لائن/فائل</p>

کارروائی بلوچ ریپبلکن گارڈز کے کمانڈر غلام نبی عرف غلامی اور اس کے تین ساتھیوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کی گئی۔—آن لائن/فائل

بلوچستان پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی(سی ٹی ڈی) نے دعویٰ کیا ہے کہ نصیر آباد کے علاقے میں انٹیلی جنس آپریشن کے دوران کالعدم تنظیم کے چار مشتبہ دہشت گرد مارے گئے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق سی ٹی ڈی کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ یہ کارروائی بلوچ ریپبلکن گارڈز کے کمانڈر غلام نبی عرف غلامی اور اس کے تین ساتھیوں کی موجودگی کی خفیہ اطلاع پر کی گئی۔

مزید پڑھیں: گلشن معمار میں داعش-خراسان کے دہشت گرد مارے گئے، محکمہ انسداد دہشت گردی

انہوں نے بتایا کہ عسکریت پسند ایک عمارت میں چھپے ہوئے تھے اور جیسے ہی پولیس اہلکاروں نے زیر تعمیر عمارت کو گھیرے میں لی، انہوں نے اہلکاروں پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس سے ایک اہلکار زخمی ہوگیا۔

حکام نے بتایا کہ ڈیڑھ گھنٹے سے زائد جاری رہنے والی فائرنگ کے تبادلے میں چار دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک دہشت گرد اندھیرے کی آڑ میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے سے ایک ایس ایم جی، دو نائن ایم ایم پستول، تین دستی بم، 8 کلو بارودی مواد، ڈیٹونیٹنگ کورڈ، 2 کلو گرام نٹ بولٹ، ایک ریموٹ کنٹرول، تین ڈیٹونیٹرز، بیٹریاں سمیت بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود اور دو موٹر سائیکلیں برآمد کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیں: ستمبر کے دوران دہشت گرد حملوں میں اضافہ ریکارڈ

سی ٹی ڈی اہلکار کو فوری طور پر ڈیرہ مراد جمالی ڈسٹرکٹ ہسپتال لے جایا گیا اور وہاں اسے داخل کر دیا گیا، بعد ازاں لاشوں کو بھی ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

سرکاری بیان کے مطابق بی آر جی کے مبینہ دہشت گرد نصیر آباد اور گردونواح میں متعدد حملوں اور بھتہ خوری کے لیے اغوا کی وارداتوں میں ملوث تھے۔

تبصرے (0) بند ہیں