مغربی کنارے میں اسرائیل فورسز کی فائرنگ سے 2 فلسطینی جاں بحق

04 اکتوبر 2022
واقعہ کے بعد شہریوں نے عام ہڑتال کی کال دی، سڑکوں پر ٹائر نذرآتش کیے— فوٹو: رائٹرز
واقعہ کے بعد شہریوں نے عام ہڑتال کی کال دی، سڑکوں پر ٹائر نذرآتش کیے— فوٹو: رائٹرز
جاں بحق خالد عنبر کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’مجھے یقین ہے کہ میرا بیٹا کسی حملے میں ملوث نہیں تھا‘— فوٹو: رائٹرز
جاں بحق خالد عنبر کی والدہ کا کہنا ہے کہ ’مجھے یقین ہے کہ میرا بیٹا کسی حملے میں ملوث نہیں تھا‘— فوٹو: رائٹرز

مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے 2 فلسطینی جاں بحق ہوگئے اور اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ دونوں مشتبہ افراد اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے کی کوشش کررہے تھے۔

ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شمالی مغربی کنارے میں رواں سال مارچ کے بعد سے تقریباً روزانہ بدامنی دیکھی جارہی ہے اور اسرائیلی فورسز کی جانب سے مغربی کنارے پر چھاپے مارے جارہے ہیں جس کے نیتجے میں کئی فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 2 فلسطینی جاں بحق

حالیہ ہلاکتیں رام اللہ کے شمال میں واقع جیزلون پناہ گزین کیمپ میں ہوئیں، اسرائیلی فورسز کا کہنا تھا کہ گاڑی میں سوار افراد میں سے ایک شخص کو دہشت گرد سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے شبے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اسرائیلی فورسز کا کہنا تھا کہ گاڑی میں بیٹھے 2 مشتبہ افراد اسرائیلی فوجیوں پر حملہ کرنے کی کوشش کررہے تھے، اسرائیلی فورسز نے جوابی فائرنگ کرتے ہوئے 2 مشتبہ افراد پر گولی چلائی جس کے بعد وہ جاں بحق ہو گئے۔

فلسطین کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ جاں بحق افراد میں ایک 19 سالہ باسل باسبوس اور 20 سالہ خالد عنبر شامل ہیں جبکہ 19 سالہ رفعت حبش شدید زخمی ہیں۔

مزید پڑھیں: فلسطین: مغربی کنارے میں اسرائیل فورسز کی فائرنگ سے 4 فلسطینی جاں بحق

جاں بحق خالد عنبر کی والدہ ام خالدہ دباس کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ میرا بیٹا کسی حملے میں ملوث نہیں تھا، وہ صرف گاڑی چلا رہے تھے، ان کے ہاتھوں میں کچھ نہیں تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسرائیل فورسز انہیں گرفتار بھی کرسکتی تھیں، انہوں نے گولی کیوں چلائی؟‘۔

واقعے کے بعد رام اللہ میں شہریوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور عام ہڑتال کی کال دی گئی، شہر کے بیشتر کاروباری مراکز بند کردیے گئے اور ٹائر بھی جلائے گئے، مظاہرین نے کاروباری مراکز مکمل طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

تبصرے (0) بند ہیں