’سابقہ ڈپٹی وزیرِاعظم تو اب حقیقی وزیرِاعظم کی طرح کام کرتے نظر آرہے ہیں‘

10 اکتوبر 2022

لکھاری صحافی اور مصنف ہیں
لکھاری صحافی اور مصنف ہیں

ایسا نظر آرہا ہے کہ ریاستی ادارے جس انہدام کا شکار ہیں اس کا پہلے کبھی تجربہ نہیں ہوا۔

آج کل ملک کے بڑے سیاسی دفاتر میں ہونے والی گفتگو کی آڈیو لیک ہونے کا ایک سلسلہ چل نکلا ہے جس نے ہماری ملکی سیاست میں تیزی سے نمایاں ہوتے جھوٹ اور فریب کی قلعی کھول دی ہے۔ ان آڈیو لیکس کا وقت بھی بہت غیر معمولی ہے۔ اس بات کا اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ یہ کام کس کا ہے۔ یہ جرم کی ایسی پُراسرار کہانی ہے جہاں مجرم کی سب کو تلاش ہے۔

وزیرِاعظم کے دفتر میں ہونے والی بگنگ اور اس کا یوں سامنے آجانا ہمارے سیکیورٹی نظام پر کئی سوالات اٹھاتا ہے۔

کیبل گیٹ کہلایا جانے والا یہ معاملہ بحران کا شکار ریاست کی طرف اشارہ ہے۔ یہ معاملہ ہمارے ملکی نظام کی اصلیت سب کے سامنے لے آیا ہے اور اس نے ملک کو افراتفری کا شکار کردیا ہے۔ ان آڈیو لیکس میں جو کچھ بھی سامنے آیا ہے، اس نے قومی سیاست کے اسٹیج پر ایک نئے تماشے کا اضافہ کردیا ہے۔ یہ تماشہ اپنے سیاسی مفادات کے لیے ہے اور عام آدمی کو اقتدار کے اس بے ہودہ کھیل میں پیادے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

اب تک جو کچھ بھی سامنے آیا ہے وہ صرف شروعات ہے، کھیل ابھی جاری ہے، اس لیے مزید حیران کن معلومات سامنے آنے کا انتظار کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ موجودہ اور نہ سابق وزیرِاعظم ان لیک آڈیوز میں ہونے والی گفتگو سے انکاری ہیں۔ اقتدار کے حصول کی کشمکش میں مصروف مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) دونوں ان آڈیو لیکس کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔

مزید پڑھیے: آڈیو لیکس: اصل سوال تو کچھ اور ہے

ان آڈیو لیکس میں وزیرِاعظم شہباز شریف کی اپنی بھتیجی مریم نواز سے پالیسی معاملات پر ہونے والی بات چیت اور اس کے بعد کابینہ اراکین سے ہونے والی گفتگو بھی شامل ہے۔ بہرحال ان لیکس سے اس معاملے پر ضرور روشنی پڑتی ہے کہ شریف خاندان میں سیاسی گرفت کس کے ہاتھ میں ہے۔

لیکن زیادہ سنسنی خیز آڈیو تو سابق وزیرِاعظم عمران خان، ان کے پرنسپل سیکریٹری اور وزرا کے درمیان ہونے والی گفتگو پر مبنی ہے جس میں سائفر کے مسئلے پر بھی بات چیت کی گئی۔ عمران خان نے انہیں وزارتِ عظمیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے لیے کی گئی مبیّنہ بیرونی سازش کے ثبوت کے طور پر وہ سائفر پیش کیا تھا۔ درحقیقت ان تمام لیک ہونے والی گفتگو سے اس دعوے کو تقویت ملتی ہے کہ سابق پاکستانی سفیر کے واشنگٹن سے بھیجے گئے سائفر میں رد وبدل کیا گیا اور عوامی حمایت کو متحرک کرنے کے لیے ایک سازشی بیانیہ تشکیل دیا گیا۔

اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ کس طرح اقتدار کی جنگ جیتنے کے لیے ملکی مفادات کو قربان کردیا جاتا ہے۔ اگرچہ ان سازشی بیانیوں اور قوم پرست بیانات نے ملک کو نقصان پہنچایا ہے مگر اس کے باوجود ان کے ذریعے عمران خان اپنے حامیوں کو جوش دلانے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔

اس میں کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ اب حکومت سائفر اسکینڈل کو سابق وزیرِاعظم کے خلاف استعمال کر رہی ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، وفاقی کابینہ نے آڈیو لیکس کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے اور ساتھ ہی حکومت سائفر کے حوالے سے عمران خان کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرنے پر غور کر رہی ہے جبکہ سائفر کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ وہ وزیرِاعظم ہاؤس سے غائب ہوچکا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے سفارتی سائفر کی ’گمشدہ‘ کاپی حاصل کرنے کے لیے عمران خان کی رہائش گاہ بنی گالہ پر چھاپہ مارنے کا مطالبہ بھی کیا اور پی ٹی آئی کے چیئرمین کو گرفتار نہ کرنے کی وجہ سے اپنی ہی جماعت کی حکومت پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔

مزید پڑھیے: دیواروں کے صرف کان ہی نہیں آنکھیں بھی ہوتی ہیں!

اس طرح کا کوئی بھی اقدام سیاسی حالات کو بھڑکا سکتا ہے اور ایک ایسی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے جس کے سنگین نتائج سامنے آسکتے ہیں۔ محدود اختیارات والی یہ کمزور اور مخلوط اتحادی حکومت ایسی کسی سیاسی مہم جوئی کی متحمل نہیں ہوسکتی۔

درحقیقت مسلم لیگ (ن) کے اندر شدید ہوتی ہوئی اقتدار کی جدوجہد نے کیبل گیٹ کی اہمیت کو کم کردیا ہے۔ دو اہم پیشرفت جن میں اسحٰق ڈار کی واپسی اور اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے مریم نواز کی ایون فیلڈ کیس میں بریت شامل ہیں، ان دونوں نے پارٹی اور حکومت کی طاقت کی حرکیات کو مکمل طور پر تبدیل کردیا ہے۔ مریم کی بریت کے ساتھ ہی ان کی حکومتی اور پارلیمانی مناصب سنبھالنے کی اہلیت بحال ہوگئی ہے اور اب وہ اگلے انتخابات میں حصہ لے سکتی ہیں۔ اس طرح شریف خاندان میں قوت کا توازن بھی یقینی طور پر تبدیل ہوگا۔

اسحٰق ڈار کی کابینہ کے ایک اہم عہدے پر تقرری کے ساتھ ہی ملک کی معاشی پالیسیاں اب ’معاشی زار‘ کے ہاتھوں میں چلی گئی ہیں جس نے ظاہری طور پر وزیرِاعظم شہباز شریف کی حیثیت کو کم کردیا ہے۔ اسحٰق ڈار جنہیں سابق وزیرِاعظم نواز شریف کی طرف سے مکمل حمایت حاصل ہے، وہ پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی حکومت میں گزشتہ 6 ماہ سے چلی آرہی معاشی اور مالیاتی پالیسیوں میں تبدیلی لارہے ہیں۔

اسحٰق ڈار نے پچھلے ہفتے اگلے 15 دن کے لیے تمام پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تقریباً 5 فیصد کمی کی تھی۔ اس عمل سے بنیادی طور پر انہوں نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے طے شدہ ماہانہ قیمتیں بڑھانے کی پالیسی کی نفی کی ہے جس کے تحت ہر ماہ لیوی عائد کرکے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا جانا تھا۔ اپنے اس اقدام کو درست قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ اس عوام پر مزید بوجھ نہیں ڈال سکتے جو پہلے ہی تباہ کن سیلاب سے نمٹنے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

شاید اس عوامی اقدام سے حکمران جماعت کو اپنے سیاسی نقصان کا ازالہ کرنے میں کچھ مدد مل جائے مگر یہ فیصلہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتا ہے اور معاشی بحران کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔ آئی ایم ایف کے نمائندے نے یہ بات واضح کردی ہے کہ پاکستانی حکام نے جو پالیسی وعدے کیے ہیں انہیں تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔ اس معاہدے کی خلاف ورزی پاکستان کے موجودہ معاشی حالات کو مزید پیچیدہ کرسکتی ہے۔

متوقع طور پر وزیرِ خزانہ اور معاشی پالیسی کی تبدیلی نے حکمران جماعت کی صفوں میں ایک نئے تنازعے کو جنم دے دیا ہے۔ سابق وزیرِ خزانہ کی جانب سے لیے گئے سخت فیصلوں جنہیں وزیرِاعظم اور کابینہ کی منظوری حاصل تھی، اس نے ملک کو ڈیفالٹ کی حالت سے نکلنے میں مدد کی۔ مگر اسحٰق ڈار کے فیصلے من مانے لگ رہے ہیں جنہیں مفتاح اسمٰعیل نے ’لاپروائی‘ قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیے: اسحٰق ڈار کی واپسی: کیا ’ڈارنامکس‘ معیشت کو سہارا دے سکے گی؟

اب سوال اٹھتا ہے کہ یہ پالیسی آخر ہے کس کی؟ لندن میں بیٹھے بڑے شریف صاحب کی یا ملک کے چیف ایگزیکٹو چھوٹے شریف صاحب کی؟ اسحٰق ڈار جو مسلم لیگ (ن) کی گزشتہ حکومت میں ڈپٹی وزیرِاعظم کے طور پر کام کرتے نظر آئے اس بار حقیقی وزیرِاعظم کے طور پر کام کر رہے ہیں جو صرف لندن میں بیٹھے بڑے شریف صاحب کو جوابدہ ہیں۔ گزشتہ ہفتے مریم نواز کے ساتھ اسحٰق ڈار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے ان کے چچا کی حکومت کو جس طرح آڑے ہاتھوں لیا اس کے بعد تو اب سب کچھ واضح ہوگیا ہے۔

مفتاح اسمٰعیل نے بہت تلخ انداز میں کہا کہ ’یہ ملک ایک فیصد اشرافیہ کے کنٹرول میں ہے‘۔ یہ سب خاندانی مفادات اور طاقت کا کھیل ہے۔ ملک کے طویل المدتی مفادات کے بارے میں کوئی نہیں سوچ رہا۔ یہ صرف کیبل گیٹ کے بے نقاب کردہ جھوٹ اور فریب کی کہانی نہیں بلکہ اقتدار کے حصول کی کوشش بھی ہے۔ وہ ملک جو متعدد بحرانوں کا شکار ہے اس کے لیے یہ ایک ناقابلِ برداشت صورتحال ہے۔


یہ مضمون 5 اکتوبر 2022ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔

تبصرے (0) بند ہیں