سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سابق مشیر اسٹیو بینن کو پچھلے سال کیپیٹل ہل میں ہجوم کے حملے کی تحقیقات میں کانگریس سے تعاون کرنے سے انکار پر 4 ماہ کی سزا سنا دی۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر کو 6 جنوری 2021 کو کیپٹل ہل پر حملے کی تحقیقات کرنے والی کانگریس کمیٹی کے سامنے گواہی دینے سے انکار کے جرم میں ملوث پایا گیا، جس پر پراسیکیوٹر نے 6 مہینے کی سزا دینے کی درخواست کی تھی جبکہ بینن کے وکیل نے رہائی کی درخواست کی تھی۔

امریکا کے ڈسٹرکٹ جج کارل نکولس نے امریکی صدر کے سابق مشیر پر 6 ہزار 500 ڈالر کا جرمانہ بھی عائد کیا، جج نے سزا کے خلاف اپیل کی صورت میں بینن کو اجازت دی کہ وہ سزا کاٹنے کو مؤخر کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کیپٹل ہل پر حملہ: ٹرمپ کے مشیر پر فرد جرم عائد

پراسیکیوٹر جے پی کونی نے جمعے کو سماعت کے بعد کہا تھا کہ بینن نے واضح طور پر کانگریکس کی پرواہ نہیں کی تھی، وہ قانون سے بالاتر نہیں ہیں اور یہی اس مقدمے کو اہم بناتا ہے۔

یاد رہے کہ 13 نومبر 2021 کو امریکا کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر پر کیپٹل ہل پرحملے کی تحقیقاتی کانگریس کمیٹی کے سامنے گواہی دینے سے انکار پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

محکمہ انصاف کی جانب سے کہا گیا تھا کہ طویل عرصے تک ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر رہنے والے اسٹیوبینن کے خلاف فرد جرم عائد کی گئی۔

اسٹیو بینن پر پیشی کو نظر انداز اور کمیٹی کو دستاویزات فراہم نہ کرنے کے دو الزامات عائد کیے گئے تھے۔

خیال رہے کہ 6 جنوری2021 کو امریکی دارالحکومت واشنگٹن کی عمارت پر ہونے والے حملے میں نہ صرف امریکی جمہوریت کی تضحیک کی گئی بلکہ دو پولیس اہلکاروں سمیت 6 افراد ہلاک بھی ہوئے تھے۔  

حملے کے بعد کیپیٹل ہل کی عمارت کو مقفل کردیا گیا تھا اور نائب صدر مائیک پینس اور قانون سازوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے بعد پولیس مظاہرین کے سامنے آکھڑی ہوئی، نیشنل گارڈ کے دستے تعینات کردیے گئے تھے اور شام کے فوراً بعد ہی شہر بھر میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے جس کی خلاف ورزی پر 50 سے زائد افراد کو گرفتار بھی کیا تھا۔

شہر بھر میں کرفیو کے نفاذ سے افرا تفری پھیلانے والوں نے کئی گھنٹوں تک کانگریس کی نشست پر قبضہ کیے رکھا تھا۔

امریکا کے منتخب صدر نے پرتشدد ہجوم سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ پیچھے ہٹیں اور جمہوریت کو آگے بڑھنے دیں۔

مزید پڑھیں: کیپیٹل ہل میں فسادات ڈونلڈ ٹرمپ کی 'بغاوت کی کوشش' قرار

اپنے 10 منٹ کے خطاب میں جوبائیڈن نے مظاہرین کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا تھا کہ بے انتہائی تقسیم کے باوجود ملک اب بھی ایک ہو سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ میں تمام امریکیوں اور ان لوگوں کا بھی صدر ہوں جنہوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا۔

لیکن جو بائیڈن نے اس صورت حال پر غم اور غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہرگز مہذب رویہ نہیں بلکہ افراتفری ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں