— فوٹو: ایف اے ٹی ایف / ٹوئٹر

پاکستان کی ایف اے ٹی ایف ’گرے لسٹ‘ میں شامل ہونے اور نکلنے کی تاریخ

2018 سے قبل 2008 اور 2012 میں بھی پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیا گیا تھا۔
اپ ڈیٹ 22 اکتوبر 2022 01:10am

پاکستان کا نام فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی گرے لسٹ میں شامل کیے جانے اور اس لسٹ سے نکلنے کے لیے وطن عزیز کے حالیہ برسوں میں کیے گئے اقدامات کی طویل تاریخ ہے۔

پاکستان کا نام پہلی بار 2008 میں ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ میں شامل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان مبینہ طور پر دہشت گردی کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھانے میں ناکام رہا تھا۔

کسی ملک کو ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں شامل کیے جانے کا مطلب ہے کہ اس ملک پر طے شدہ مدت کے اندر نشان دہی کی گئی اسٹریٹجک خامیوں کو تیزی سے قابو پانا لازم ہے اور اس کی نگرانی میں اضافہ کیا جائے گا۔

2008 کے بعد 2012 اور 2018 میں بھی پاکستان کو مزید 2 بار اس فہرست میں شامل کیا گیا، دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستان کا نام ہمیشہ ایسے وقت میں گرے لسٹ میں ڈالا گیا جب ملک انتخابات کی جانب گامزن تھا یا اقتدار کی تازہ منتقلی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان 4 سال بعد ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے خارج

ایف اے ٹی ایف کی فہرست میں تینوں بار پاکستان کا نام شامل کیے جانے اور اس سے نکلنے کے لیے پاکستان کے حالیہ برسوں میں کیے گئے اقدامات کی ٹائم لائن درج ذیل ہے:

28 فروری 2008 کو پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں پہلی بار شامل کیا گیا تھا کیونکہ پاکستان مبینہ طور پر بین الاقوامی انسداد منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) اور دہشت گردی کی مالی معاونت کا مقابلہ کرنے (سی ایف ٹی) کے معیارات پورا کرنے میں ناکام رہا تھا، ان اہداف کے حصول کے لیے پاکستان کو ایشیا پیسیفک گروپ کے ساتھ مل کر کام کرنے کو کہا گیا تھا۔

جون 2010 میں پاکستان کا نام ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے اس وقت نکال دیا گیا تھا جب پاکستان نے ایک مستقل اینٹی منی لانڈرنگ قانون نافذ کرنے سمیت اے ایم ایل اور سی ایف ٹی نظام بہتر بنانے میں پیش رفت ظاہر کی تھی۔

16 فروری 2012 کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کے خطرات سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے طے شدہ معیارات کی مکمل تعمیل نہ کرنے پر پاکستان کو دوبارہ ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا تھا۔

26 فروری 2015 کو پاکستان کو گرے لسٹ سے نکال دیا گیا تھا، ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کی جانب سے اپنا اے ایم ایل اور سی ایف ٹی نظام بہتر بنانے میں نمایاں پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان نے اپنے ایکشن پلان میں وعدوں کو پورا کرنے کے لیے قانونی اور ریگولیٹری فریم ورک قائم کیا ہے۔

28 جون 2018 کو پاکستان کو تیسری بار گرے لسٹ میں ڈال دیا گیا، ایف اے ٹی ایف کا یہ مؤقف تھا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر دہشت گردی کی مالی معاونت کے خلاف کارروائی میں ناکام رہا ہے۔

16 اگست 2018 کو ایف اے ٹی ایف نے 12 روز کے معائنے کے بعد پاکستان کی جانب سے ایکشن پلان عمل درآمد میں خامیاں پائیں۔

8 مارچ 2019 کو ایف اے ٹی ایف کی شرائط پورا کرنے کے لیے کالعدم تنظیموں کو ہائی رسک قرار دے دیا گیا۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف سے متعلق 11 میں سے 10 نکات پر پاکستان کے اقدامات 'کم مؤثر' قرار

11 مئی 2019 کو پاکستان کسٹمز نے دہشت گردی کی مالی معاونت روکنے کے لیے پالیسی متعارف کرائی۔

25 جولائی 2019 کو دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں ایف اے ٹی ایف سیل قائم کیا گیا۔

25 اگست 2019 کو اس وقت کے وزیراعظم نے ایف اے ٹی ایف کے اہداف پورا کرنے میں معاونت کے لیے ایک باڈی تشکیل دی۔

18 اکتوبر 2019 کو ٹاسک فورس نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے پاکستان پر زور دیا کہ وہ فروری 2020 تک اپنے تمام ایکشن پلان کی تیزی سے تکمیل کرے۔

29 اکتوبر 2019 کو ایکشن پلان پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے وزارت داخلہ میں ایک ایف اے ٹی ایف سیل قائم کیا گیا۔

21 فروری 2020 کو ایف اے ٹی ایف نے ایکشن پلان مکمل کرنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے پاکستان کو جون 2020 تک گرے لسٹ میں رکھنے کا اعلان کیا۔

24 فروری 2020 کو ایف بی آر نے اعلان کیا کہ وہ ایف اے ٹی ایف کی تعمیل کے لیے ریئل اسٹیٹ، جیولری کی تجارت پر نظر رکھے گا۔

24 جون 2020 کو ایف اے ٹی ایف کے ورچوئل اجلاس میں پاکستان کا معاملہ نہیں اٹھایا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: دفتر خارجہ نے ایف اے ٹی ایف کی ٹیم کا حالیہ دورۂ پاکستان کامیاب قرار دے دیا

17 اگست 2020 کو سینیٹ نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 5 میں سے ایک بل منظور کیا۔

18 اگست 2020 کو پارلیمنٹ کے ایوان بالا نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق مزید 2 بل منظور کر لیے۔

16 ستمبر 2020 کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق 3 بل منظور ہوئے۔

6 اکتوبر 2020 کو چیئرمین سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کہا کہ ایس ای سی پی نے ایف اے ٹی ایف کی تمام شرائط پوری کر لی ہیں۔

23 اکتوبر 2020 کو ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ پاکستان نے 27 میں سے 21 نکات کی کامیابی سے تعمیل کی ہے، تاہم ایف اے ٹی ایف نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کو فروری 2021 تک 'گرے لسٹ' میں رکھا جائے گا جب تک کہ تمام شرائط پر مکمل عمل درآمد نہ ہو جائے۔

19 نومبر 2020 کو جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے ایک اور مقدمے میں ساڑھے 5 سال قید کی سزا سنائی گئی۔

8 جنوری 2021 کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کی تعمیل کے لیے اینٹی منی لانڈرنگ کے قوانین میں ترمیم کی۔

8 جنوری 2021 کو ہی لاہور کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم تنظیم لشکر طیبہ (ایل ای ٹی) کے ذکی الرحمٰن لکھوی کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں 5 سال قید کی سزا سنائی۔

25 فروری 2021 کو پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا، ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت سے نمٹنے کے لیے ایکشن پلان کے 27 میں سے 3 اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔

25 مارچ 2021 کو حکومت نے یکطرفہ طور پر ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والے تمام ریئل اسٹیٹ ڈیلرز کو نامزد غیر مالیاتی کاروبار اور پیشہ ور (ڈی این ایف بی پیز) کے طور پر رجسٹر کیا اور انہیں ہدایت کی کہ وہ اپنے صارفین اور جائیداد کے لین دین کی مکمل تفصیلات فراہم کریں۔

مزید پڑھیں: ایف اے ٹی ایف کا دورہ ستمبر میں متوقع

22 اپریل 2021 کو ریگولیٹرز نے انسداد منی لانڈرنگ کا دائرہ مزید سخت کردیا۔

19 مئی 2021 کو وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے خصوصی اسکواڈ تشکیل دیا۔

25 جون 2021 کو ایف اے ٹی ایف کے ایکشن پلان کے ایک واحد نامکمل ہدف کے باعث پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

4 جولائی 2021 کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے دہشت گردی کی مالی معاونت، منی لانڈرنگ کے انسداد کے لیے ایک سیل قائم کیا۔

16 اگست 2021 کو بینکوں نے 'سیاسی سرگرمیوں میں ملوث افراد' کا ڈیٹا بیس کا استعمال شروع کر دیا۔

21 اکتوبر 2021 کو ایف اے ٹی ایف نے کہا کہ پاکستان کا نام گرے لسٹ میں برقرار رہے گا کیونکہ اس نے تاحال ایف اے ٹی ایف کی جانب سے دیے گئے ایکشن پلان پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کیا۔

4 مارچ 2022 کو ایف اے ٹی ایف نے پاکستان کو گرے لسٹ میں برقرار رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے مالیاتی نظام میں باقی رہ جانے والی خامیاں دور کرے۔

8 اپریل 2022 کو لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے کالعدم جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کو غیر قانونی فنڈنگ کے 2 مقدمات میں مجموعی طور پر 31 برس قید کی سزا سنا دی۔

14 سے 17 جون 2022 تک جرمنی کے دارالحکومت برلن میں ایف اے ٹی ایف کا 4 روزہ اجلاس منعقد ہوا، جس کے بعد ایف اے ٹی ایف کے صدر مارکس پلیئر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے 34 نکات پر مشتمل 2 علیحدہ ایکشن پلانز کی تمام شرائط پوری کرلی ہیں تاہم پاکستان کو آج گرے لسٹ سے نہیں نکالا جا رہا ہے۔

17 جولائی 2022 اسلام آباد میں سفارتی حلقے ملک کے لیے ایف اے ٹی ایف سے نکلنے کے عمل کے طور پر دیکھ رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کا رواں ہفتے ایف اے ٹی ایف کی ’گرے لسٹ‘ سے نکلنے کا امکان

17 اگست 2022 کو پاکستان سول ایوی ایشن اتھارٹی نے حکومت کی ہدایات کی روشنی میں فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے معیارات پر عمل درآمد شروع کیا، جس کے تحت بین الاقوامی پروازوں کے ذریعے آنے اور جانے والے تمام مسافروں کو اپنی کرنسی، سونے کے زیورات، قیمتی پتھر اور ممنوعہ سامان جیسے منشیات، ہتھیار، سیٹیلائٹ فون وغیرہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کسٹم کا ڈیکلئیریشن فارم جمع کرانے کو لازمی قرار دیا گیا۔

29 اگست سے 2 ستمبر 2022 ایف اے ٹی ایف اور اے پی جی کے 15 رکنی مشترکہ وفد نے 29 اگست سے 2 ستمبر تک پاکستان کا آن سائٹ دورہ کیا تھا۔

2 ستمبر 2022 ایشیا پیسیفک گروپ آن منی لانڈرنگ (اے پی جی) نے انسداد منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت (اے ایم ایل/سی ایف ٹی) کے خلاف 11 میں سے 10 عالمی اہداف اور نکات کے حصول کے لیے پاکستانی اقدامات 'کم مؤثر' قرار دیے جب کہ ملک نے واچ ڈاگ کی 40 میں سے 38 تکنیکی سفارشات اور نکات پر عمل درآمد مکمل کیا۔

14 ستمبر 2022 دفتر خارجہ نے ایف اے ٹی ایف کی تکنیکی ٹیم کے دورہ پاکستان پر کہا تھا کہ متعلقہ ایجنسیوں کے ساتھ تفصیلی بات چیت کی، ہمارے نکتہ نظر سے یہ ایک بہتر اور کامیاب دورہ تھا، پاکستان جانچ کے جاری عمل کو منطقی انجام تک پہنچانے کا منتظر ہے۔

21 اکتوبر 2022 منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے لیے ہونے والی فنڈنگ پر نظر رکھنے والے عالمی ادارے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) نے پاکستان کو گرے لسٹ سے خارج کردیا۔