خیبرپختونخوا کے ضلع جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں سیکڑوں افراد سڑکوں پر نکلے اور دہشت گردی کی حالیہ لہر کے خلاف مظاہرہ کرتے ہوئے سول انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور علاقے میں امن و امان بحال کرے۔

وانا سیاسی اتحاد کی جانب سے ‘امن مارچ’ کے عنوان سے بڑا احتجاج کیا گیا، شرکا نے وانا بازار سے ریلی نکالی اور جاوید سلطان کیمپس کے قریب جمع ہوئے، جنہوں نے کالے جھنڈے تھامے ہوئے تھے۔

مظاہرے میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، جماعت اسلامی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین نے بھی شرکت کی۔

مظاہرین نے ضلعے میں مسلح گروپس پر پابندی، بڑھتی دہشت گردی پر قابو پانے، تاوان کے لیے اغوا کرنے والوں سے چھٹکارا اور رکن اسمبلی علی وزیر کی رہائی کا مطالبہ کیا، جو گزشتہ دو برسوں سے جیل میں قید ہیں، اس کے ساتھ ساتھ تاجروں، کنٹریکٹرز اور لوگوں کی حفاظت کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: شمالی وزیرستان: سیکیورٹی فورسز پر میر علی میں خودکش حملہ، پانچ اہلکار زخمی

وانا سیاسی اتحاد کے رکن سعید وزیر نے ڈان ڈاٹ کام کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے وانا کی مارکیٹ سے طارق وزیر نامی کنٹریکٹر کو اغوا کیا تھا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ طارق وزیر کو فوری طور پر بازیاب کروایا جائے۔

سعید وزیر نے سول انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کریں، ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے نظام کو مضبوط اور اس کی طاقت کو بڑھانا چاہیے۔

انہوں نے ڈان ڈاٹ کام کو مزید بتایا کہ حکومت کے نمائندوں نے اب تک مظاہرین سے مذاکرات کرنے کی کوشش نہیں کی، انہوں نے حکام کو خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہیں کیے تو 20 نومبر کو دوبارہ احتجاج کریں گے۔

مزید پڑھیں: سوات میں اسکول وین پر فائرنگ سے ڈرائیور جاں بحق، 2 طلبہ زخمی

خیال رہے کہ گزشتہ مہینے، چار باغ میں اسکول وین پر فائرنگ کے بعد دہشت گردی کے مسئلے کو حل کرانے کے لیے خیبرپختونخوا کے ہزاروں لوگ سڑکوں پر نکل آئے تھے، جس میں دو بچے اور ایک ڈرائیور جاں بحق ہوا تھا۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں