فیفا ورلڈ کپ 2022ء: دوسرا دن دلچسپ مقابلوں سے بھرپور رہا

اپ ڈیٹ 22 نومبر 2022

فیفا ورلڈ کپ 2022ء کا دوسرا دن سنسنی خیز رہا۔ گروپ مراحل کی اہم ٹیمیں مدِمقابل آئیں اور جیسے عمدہ کھیل کی توقع کی جا رہی تھی ویسا ہی کھیل پیش کیا گیا۔ دن کے اختتام پر انگلینڈ اور نیدرلینڈز نے اپنے اپنے میچ جیتے جبکہ امریکا اور ویلز کے درمیان مقابلہ برابر رہا۔

واضح رہے کہ یہ پہلا عالمی کپ ہے جہاں ٹیمیں 5 متبادل کھلاڑی میدان میں بھیج سکتی ہیں جبکہ ایکسٹرا ٹائم میں بھی ایک تبادلے کی اجازت ہوگی۔

گروپ بی: انگلینڈ بمقابلہ ایران

سب سے پہلے ذکر کرتے ہیں ایران اور انگلینڈ کے درمیان ہونے والے پہلے میچ کا، جہاں سیٹی بجتے ہی انگلینڈ کی ٹیم حاوی نظر آئی۔ ایران کو دھچکا تب لگا جب میچ کے 9ویں منٹ میں ایران کے گول کیپر کا انگلینڈ کے کھلاڑی سے تصادم ہوگیا۔ یہ تصادم دیکھنے والے ہر شخص پر لرزا طاری ہوگیا۔ گول کیپر علی رضا شدید زخمی ہوگئے اور اس دوران میچ تقریباً 15 منٹ رکا رہا۔

متبادل گول کیپر کا یہ پہلا عالمی کپ میچ تھا، لیکن انگلینڈ کی ٹیم کسی رحم کرنے کی نیت سے میدان میں نہیں اتری تھی۔ پہلے ہاف میں ہی انگلینڈ نے 3 گولز اسکور کیے جن میں اسٹرلنگ، ساکا اور بیلنگہم کے گول شامل تھے جبکہ دوسرے ہاف میں ایران مزاحمت کرتی نظر آئی لیکن انگلینڈ نے مزید 3 بار بال نیٹ میں ڈالی۔ دوسرے ہاف میں ریشفورڈ کا بطور متبادل میدان میں آتے ہی ایک منٹ میں گول اسکور کرنا نمایاں رہا۔ دوسرے متبادل کھلاڑی گریلش نے بھی گول اسکور کیا۔

اس دوران ایران نے بھی گول اسکور کیا جبکہ اہم لمحہ وہ تھا کہ جب آخری لمحات میں ایران کو پینلٹی دے دی گئی جسے مار کے ایران نے 2-6 پر مقابلے کا اختتام کیا۔ 2 گول اسکور کرنے والے ساکا کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔

اس میچ میں ایک اور غیر معمولی بات 25 منٹ کا ایکسٹرا ٹائم تھا جو انجری میں ضائع ہونے والے وقت کی وجہ سے دیا گیا۔ میچ کے دوران ایران کے کھلاڑی بار بار پھسلتے ہوئے نظر آئے، شاید اس کے پیچھے وہی عنصر تھا جس کا تذکرہ ہم نے اپنی ایک تحریر میں موسمی صورتحال کے حوالے سے کیا تھا۔

اس میچ کے دوران ایرانی شائقین نے ایران میں خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کے خلاف بینرز بھی اٹھائے ہوئے تھے۔ یہی نہیں بلکہ ایرانی ٹیم نے بھی ایرانی حکومت سے احتجاج کے طور پر ملک کا ترانہ بھی نہیں پڑھا۔

گروپ اے: سنیگال بمقابلہ نیدرلینڈز

سادیو مانے کی عدم موجودگی کے باوجود سنیگال نے ورلڈ کپ فیوریٹ تصور کی جانے والی نیدرلینڈز کی ٹیم سے ٹکر کا مقابلہ کیا۔ سنیگال کے اٹیک کا نیدرلینڈز کے ڈیفینڈر اور کپتان وین ڈائک کامیابی سے دفاع کرتے نظر آئے۔

یہ میچ کافی تیز اور دلچسپ رہا اور دونوں ہی حریف جلد سے جلد بال نیٹ میں ڈالنے کی جستجو میں نظر آئے اور بلآخر 84ویں منٹ میں نیدرلینڈرز نے اپنا پہلا گول اسکور کیا اور پھر ایکسٹرا ٹائم کے 9ویں منٹ میں دوسرا گول اسکور کیا۔ میچ کا اسکور 0-2 رہا اور یوں نیدرلینڈز نے اپنے گروپ مراحل کا کامیاب آغاز کرتے ہوئے، اپنی فارم کو برقرار رکھا۔

گروپ بی: امریکا بمقابلہ ویلز

گروپ بی کا یہ میچ ٹورنامنٹ سے قبل ہی کافی دلچسپ تصور کیا جارہا تھا۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی فٹبال ٹیم سے ایک دن قبل رابطہ کرکے ان کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔ میچ کے آغاز سے ہی امریکا کا کھیل منفرد رہا اور متواتر کوششوں کے بعد ٹم ویاہ نے امریکا کے لیے 36ویں منٹ میں گول اسکور کر ہی دیا جس پر امریکی شائقین کے شور سے میدان گونج اٹھا۔

دوسرے ہاف میں ویلز حاوی نظر آئی اور بار بار گول کرنے کی کوشش کرتی رہی لیکن یہاں امریکا کے دفاع کی تعریف بنتی ہے جس نے انہیں کامیابی سے روکے رکھا۔ لیکن شاید 80ویں منٹ میں گیرتھ بیل کو پینلٹی ایریا میں گرانا ان کی سب سے بڑی غلطی تھی کیونکہ اس کے سبب ویلز کو پینلٹی مل گئی اور یوں امریکا نے اپنی برتری کو کھو دیا۔

گیرتھ بیل نے عالمی کپ میں ویلز کے لیے اپنا پہلا گول پینلٹی پر اسکور کیا اور یوں مقابلے کا اختتام 1-1 گول سے برابر رہا۔ گیرتھ بیل کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔ یہاں ایک اور اہم بات یہ کہ 64 سال میں پہلی مرتبہ ویلز کی جانب سے فیفا ورلڈ کپ میں کوئی گول اسکور کیا گیا ہے۔

یوں دوسرے دن ہمیں اچھے اور دلچسپ میچ دیکھنے کو ملے، پھر چاہے وہ انگلینڈ کا غلبہ ہو، سنیگال اور نیدرلینڈز کا سبقت کے لیے جدوجہد کا مقابلہ یا پھر امریکا اور ویلز کا مقابلہ ہو جس نے شائقین کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ اس عالمی کپ کا آغاز تو توقعات کے مطابق ہوا ہے، دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں