کراچی: پولیس اہلکار کے قتل میں نامزد مبینہ ملزم بیرون ملک فرار

اپ ڈیٹ 23 نومبر 2022
<p>پولیس نے بتایا کہ اہلکاروں کے مطابق مبینہ ملزم لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہا تھا— فوٹو: امتیاز علی</p>

پولیس نے بتایا کہ اہلکاروں کے مطابق مبینہ ملزم لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کر رہا تھا— فوٹو: امتیاز علی

کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پولیس اہلکار کے قتل میں نامزد مبینہ ملزم خرم نثار بیرون ملک فرار ہوگیا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق ڈی آئی جی جنوبی عرفان بلوچ نے بتایا کہ پولیس نے پہلے ہی تمام ائیرپورٹ انتظامیہ کو مطلع کردیا تھا لیکن انہیں یہ نہیں معلوم تھا کہ نامزد ملزم کے پاس سوئیڈش پاسپورٹ بھی موجود ہے، جس کی مدد سے وہ ترکیہ کی فلائٹ سے فرار ہوگیا۔

ایس ایس پی جنوبی سید اسد رضا نے بتایا کہ مبینہ ملزم گزشتہ روز 22 نومبر کو سوئیڈش پاسپورٹ کے ذریعے فرار ہوگیا ہے لیکن ہم اسے جلد پاکستان واپس لائیں گے۔

قبل ازیں کلفٹن پولیس نے 34 سالہ اہلکار عبدالرحمٰن کے قتل کا مقدمہ مشتبہ ملزم خرم نثار کے خلاف درج کرلیا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز ایس ایس سید اسد رضا نے ڈان کو بتایا تھا کہ پولیس کانسٹیبل امین الحق اور مقتول پولیس اہلکار عبدالرحمٰن کلفٹن بلاک نمبر 5 میں موٹر سائیکل پر گشت کررہے تھے کہ انہوں نے کالے رنگ کی گاڑی کو روکنے کا اشارہ کیا، اہلکاروں کے مطابق کار سوار شخص مبینہ طور پر لڑکی کو اغوا کرنے کی کوشش کررہا تھا۔

ایس ایس پی نے بتایا کہ واقعے کے دوران دونوں اہلکار مشتبہ شخص کی گاڑی کو پولیس اسٹیشن لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ گاڑی روکنے کے دوران اہلکار اور مشتبہ ملزم کے درمیان کافی دیرتک تلخ کلامی ہوئی جس کے بعد نامزد ملزم نے پستول نکالی۔

ان کا کہنا تھا کہ اہلکاروں اور مشتبہ شخص کے درمیان تلخ کلامی کے بعد کار سوار نے پولیس اسٹیشن جانے سے انکار کردیا اورایک اہلکار پر فائرنگ کردی جس کے بعد وہ موقع پر ہی جاں بحق ہوگیا۔

ایس ایس پی نے مزید بتایا کہ شہید پولیس اہلکار نے اپنے دفاع کے لیے کار پر جوابی فائرنگ کی، تاہم مشتبہ شخص گاڑی کے ساتھ فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا۔

اسد رضا نے بتایا کہ مبینہ ملزم سوئیڈن میں رہتا ہے اور 5 نومبر کو پاکستان واپس آیا تھا جہاں وہ ڈی ایچ اے میں رہائش پذیر تھا، پولیس نے گاڑی اور اسلحہ برآمد کرلیا ہے۔

ایف آئی آر کے مطابق جس روز واقعہ پیش آیا اس رات 11 بجکر 30 منٹ پر جب گاڑی خیابان شمشیر میں 26ویں اسٹریٹ سگنل کے قریب پہنچی تو پولیس اہلکاروں نے ایک خاتون کی رونے کی آوازیں سنی تھیں، اہلکار عبدالرحمٰن نے گاڑی کا پیچھا کیا اور عبداللہ شاہ غازی کے مزار پر گاڑی کو روکا جہاں وہ جلدی سے گاڑی کی اگلی سیٹ پر بیٹھ گیا لیکن خاتون گاڑی سے نکل کر غائب ہوگئی تھی۔

بعد ازاں ڈرائیور نے بلڈر آفس کے سامنے فیز 5 ایکسٹنشن ای اسٹریٹ پر گاڑی روکی جہاں اہلکار عبدالرحمٰن اور مبینہ ملزم کے درمیان تلخ کلامی ہوئی، مبینہ ملزم نے اہلکار عبدالرحمٰن کو سر پر گولی ماری جس سے وہ موقع پر جاں بحق ہوگیا تھا۔

تبصرے (0) بند ہیں