ملائیشیا: اپوزیشن لیڈر انور ابراہیم نئے وزیراعظم منتخب

اپ ڈیٹ 24 نومبر 2022
<p>وزارت عظمیٰ پر آنے کے بعد انور ابراہیم کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی — فوٹو: اے ایف پی</p>

وزارت عظمیٰ پر آنے کے بعد انور ابراہیم کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی — فوٹو: اے ایف پی

ملائشیا کے طویل عرصے تک اپوزیشن رہنما رہنے والے مسلم جمہوریت پسند انور ابراہیم ملک کے نئے وزیر اعظم منتخب ہوگئے جس کے بعد کافی دنوں سے جاری سیاسی تعطل ختم ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق سابق وزیر اعظم کا تختہ الٹنا انور ابراہیم کے لیے ایک ہنگامہ خیز سیاسی زندگی کا احاطہ کرے گا جنہوں نے انور ابراہیم کو نہ صرف اقتدار سے دور رکھا بلکہ انہیں بدعنوانی جیسے الزامات کے تحت جیل بھی پہنچایا۔

ملائیشیا کے بادشاہ شاہ السلطان عبداللہ کے محل سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حکمران گھرانے کے افراد سے مشورے کے بعد بادشاہ نے انور ابراہیم کو ملائیشیا کے 10ویں وزیر اعظم کے طور پر مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے۔‘

وزارت عظمیٰ پر آنے کے بعد انور ابراہیم کے حامیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے جہاں کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ انور ابراہیم نے منصب پر آنے کے لیے سخت محنت کی ہے اور اب امید ہے کہ وہ بہتر کارکردگی دکھائیں گے اور اپنی قابلیت ثابت کریں گے۔

انور ابراہیم کے اتحاد نے انتخابات میں اکثریت سے نشستیں حاصل کیں مگر جہاں اکثریت کے لیے 112 نشستیں درکار ہوتی ہیں ان میں سے انور ابراہیم کے کثیرالسانی اتحاد نے صرف 82 نشتیں حاصل کیں جبکہ سابق وزیر اعظم کے اتحاد نے 73 نشستیں حاصل کی ہیں۔

ملائشیا کے بادشاہ نے انور ابراہیم اور سابق وزیر اعظم محی الدین یٰسین کو اپنے پاس طلب کیا تھا۔

’مشکلات اور الجھنوں کا سفر‘

انور ابراہیم کے لیے وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کا سفر 25 سال کی جدوجہد کا نتیجہ ہے جس میں مشکلات اور الجھنوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ماضی کے سرگرم طالب علم 1990 کی دہائی کے آخر میں مہاتیر محمد کے وزیر خزانہ اور نائب وزیر اعظم کے طور پر اقتدار کے قریب تھے، لیکن دونوں کے درمیان 1997-98 کے ایشیائی مالیاتی بحران سے نمٹنے کے طریقہ کار پر تلخ کلامی ہوئی جہاں سے دونوں الگ ہوگئے۔

انور ابراہیم کو 1999 میں بدعنوانی کے الزام میں 6 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور پھر اس میں 9 سال سزا کا اضافہ کیا گیا تھا۔

تاہم ملائیشیا کی سپریم کورٹ نے 2004 میں ان کی سزا سے ایک کیس ختم کرکے انہیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔

انور ابراہیم نے 2018 کے انتخابات میں پھر سے مہاتیر محمد کے ساتھ اتحاد کیا جس کے بعد ان کے اتحاد کو تاریخی برتری حاصل ہوئی، اسی طرح مہاتیر محمد دوسری مرتبہ وزیر اعظم منتخب ہوئے جہاں یہ معاہدہ کیا گیا تھا کہ بعد ازاں وہ وزارت عظمیٰ کا منصب انور ابراہیم کے حوالے کریں گے۔

مہاتیر محمد نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وزارت عظمیٰ کا منصب ان کے حوالے نہیں کیا جس کے بعد 22 ماہ میں ان کا اتحاد اختتام کو پہنچا۔

تسمانیہ یونیورسٹی میں ایشین اسٹڈیز کے پروفیسر جیمز چن نے بتایا کہ اس اعلان کا بین الاقوامی سطح پر خیر مقدم کیا جائے گا کیونکہ انور ابراہیم دنیا بھر میں ایک مسلم جمہوریت پسند کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

پروفیسر نے کہا کہ انور ابراہیم کے لیے سب سے بڑا چیلنج عالمی وبا کورونا وائرس کے بعد سکڑتی معیشت کو بہتر بنانا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں