ٹی ٹی پی جیسے خطرات سے نمٹنا امریکا، پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے، محکمہ خارجہ

اپ ڈیٹ 30 نومبر 2022
<p>ترجمان نے کہا ہم انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری چاہتے ہیں — فائل فوٹو</p>

ترجمان نے کہا ہم انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری چاہتے ہیں — فائل فوٹو

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان جیسے علاقائی سلامتی کو لاحق خطرات سے نمٹنا امریکا اور پاکستان دونوں کے مفاد میں ہے اور امریکا ہر قسم کی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق پیر کے روز کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں عسکریت پسندوں کے خلاف سیکیورٹی فورسز کی مبینہ ’مسلسل‘ کارروائیوں کی وجہ سے اپنے جنگجوؤں سے ملک بھر میں حملے کرنے کو کہا تھا۔

کالعدم ٹی ٹی پی کے حکومت پاکستان کے ساتھ جنگ ​​بندی ختم کرنے کے فیصلے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اقوام متحدہ نے بھی شدید تشویش کا اظہار کیا اور اسے خدشہ ہے کہ یہ اقدام ملک میں شہریوں کے مصائب میں مزید اضافے کا باعث بن سکتا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں ڈان کو بتایا کہ ہم انسداد دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے ساتھ مضبوط شراکت داری چاہتے ہیں اور تمام عسکریت پسندوں اور دہشت گرد گروپوں کے خلاف مسلسل کارروائی کی توقع رکھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم تمام علاقائی اور عالمی دہشت گردی کے خطرات کو ختم کرنے کے لیے تعاون پر مبنی کوششوں کے منتظر ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستانی عوام نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے حملوں سے بے پناہ نقصان اٹھایا ہے اور ہم ہر قسم کی دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے حکومت پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے ٹی ٹی پی کے فیصلے کو بدترین بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

جب انہیں بریفنگ کے دوران ٹی ٹی پی کی جانب سے حکومت پاکستان سے کی گئی جنگ ​​بندی کے خاتمے اور اس کے رہنماؤں کی جانب سے پاکستانی اہداف پر دوبارہ حملے کے بارے میں بتایا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر یہ سچ ہے تو انتہائی بدقسمتی کی بات ہوگی۔

جب ان سے اس بات کی وضاحت کرنے کے لیے کہا گیا تو اسٹیفن ڈوجارک نے کہا کہ میں نے ذاتی طور پر وہ رپورٹس نہیں دیکھی ہیں لیکن ظاہر ہے، کوئی بھی ایسی کارروائی جو تشدد میں اضافے کا باعث بنتی ہے جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں اضافے اور عام شہریوں کے لیے مصائب میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے، وہ ایک سنگین چیز اور ہمارے لیے باعث تشویش ہے۔

ٹی ٹی پی اور افغانستان کے اصل طالبان حکمرانوں کے ساتھ پاکستان کے نئے مسائل کا معاملہ نیویارک میں کونسل آن فارن ریلیشنز میں ہونے والی ایک حالیہ بات چیت میں بھی سامنے آیا، جب کونسل کے صدر رچرڈ ہاس نے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان سے پوچھا کہ کیا پاکستان اب افغانستان میں مزید ذمہ دارانہ کردار کردار ادا کر رہا ہے۔

جیک سلیوان نے جواب دیا کہ اسلام آباد، طالبان اور حقانی نیٹ ورک کے لوگوں کے درمیان روابط کے حوالے سے بہت کچھ ہے جو ہمیں نظر نہیں آتا، اس لیے میرے لیے ان کے کردار کی نوعیت کو بیان کرنا مشکل ہے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں