پنڈی ٹیسٹ کا دوسرا روز: انگلش ٹیم پہلی اننگز میں 657 رنز بنا کر آؤٹ، پاکستان کے 181 رنز

اپ ڈیٹ 02 دسمبر 2022
<p>ہیری بروک شاندار 153 رنز بناکر آؤٹ ہوئے—فائل فوٹو: اے ایف پی</p>

ہیری بروک شاندار 153 رنز بناکر آؤٹ ہوئے—فائل فوٹو: اے ایف پی

انگلینڈ کی ٹیم پاکستان کے خلاف راولپنڈی میں جاری پہلے ٹیسٹ کے دوسرے روز پہلی اننگز میں 657 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی جبکہ دن کے اختتام تک پاکستان نے اوپنرز کی نصف سنچریوں کی بدولت بغیر کسی نقصان کے 181 رنز بنالیے۔

راولپنڈی ٹیسٹ کے پہلے روز انگلینڈ نے پاکستان کے خلاف 4 بلے بازوں کی سنچریوں کی مدد سے 112 سالہ ریکارڈ توڑتے ہوئے صرف 75 اوورز کے کھیل میں 4 وکٹوں پر 506 رنز بنائے تھے۔

انگلینڈ نے دوسرے روز اپنی پہلی نامکمل اننگز کا آغاز 506 رنز 4 کھلاڑی آؤٹ سے شروع کیا اور ابتدا ہی میں کپتان بین اسٹوکس 41 رنز بنا کر آؤٹ ہوگئے۔

ان کے بعد لیام لیونگ اسٹون کو بھی نسیم شاہ نے 9 رنز پر آؤٹ کیا۔

مڈل آرڈر بلے باز ہیری بروک نے شاندار بلے بازی کا سلسہ جاری رکھا اور 116 گیندوں پر 5 چھکوں اور 19 چوکوں کی مدد سے 153 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔

ہیری بروک کو بھی نسیم شاہ نے آؤٹ کیا۔

اپنی شاندار اور جارحانہ 153 رنز کی اننگز کے دوران ہیری بروک نے سعود شکیل کے اوور میں 6 گیندوں پر 6 چوکے بھی لگائے ۔

پاکستان کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے زاہد محمود نے 4 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا لیکن ان 4 وکٹوں کے حصول کے لیے انہیں 235 رنز کی مار بھی برداشت کرنی پڑی۔

ان کے علاوہ فاسٹ باؤلر نسیم شاہ نے 140 رنز دے کر 3 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا جب کہ محمد علی نے 2 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

پٌاکستان نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو انگلینڈ کے مقابلے میں سست رفتار سے رنز بنائے تاہم دوسرے روز کے اختتام تک اوپنرز نے آؤٹ ہوئے بغیر ٹیم کو ایک اچھا آغاز فراہم کیا۔

عبداللہ شفیق اور امام الحق نے پاکستان کی جانب سے اننگز کا آغاز کیا اور انگلینڈ کے باؤلرز کا پراعتماد انداز میں سامنا کرتے ہوئے اپنی نصف سنچریاں مکمل کیں۔

راولپنڈی ٹیسٹ کے دوسرے روز کا کھیل ختم ہوا تو پاکستان نے بغیر کسی نقصان کے 81 رنز بنا لیے تھے۔

عبداللہ شفیق نے 158 گیندوں کا سامنا کرکے 10 چوکوں اور 2 چھکوں کی مدد سے 89 رنز کی اننگز کھیلی۔

امام الحق نے 148 گیندوں میں 13 چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 90 رنز بنائے۔

پاکستان کے دونوں اوپنرز نے دن کے اختتام تک کوئی وکٹ گرنے نہیں دی۔

گزشتہ روز راولپنڈی میں کھیلے جارہے سیریز کے پہلے ٹیسٹ میچ میں انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے ٹاس جیت کر پہلے خود بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا جس کے بعد انگلش ٹیم نے 4 بلے بازوں کی سنچریوں کی مدد سے 112 سالہ ریکارڈ توڑتے ہوئے صرف 75 اوورز کے کھیل میں 4 وکٹوں پر 506 رنز بنا لیے تھے اور اس دوران مہمان ٹیم نے کئی نئے ریکارڈ اپنے نام کر لیے تھے۔

اس سے قبل 1910 میں آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کے درمیان سڈنی میں کھیلے گئے میچ میں پہلے روز 494 رنز بنے تھے جو ریکارڈ تھا، گزشتہ روز انگلینڈ کی جانب سے زیک کرالی 122، بین ڈکٹ 107 اور اولی پوپ 108 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے تھے۔

انگلش اوپنرز نے جارحانہ انداز میں نصف سنچریاں اسکور کیں اور انگلینڈ کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دونوں اوپنرز نے 50 یا اس سے کم گیندوں پر نصف سنچریاں اسکور کیں، اسی طرح کھانے کے وقفے تک انگلش اوپنرز نے بغیر کسی نقصان کے 174 رنز بنائے جو انگلش ٹیسٹ تاریخ میں میچ کے پہلے دن اوپنرز کی جانب سے کیا گیا اب تک کا سب سے بڑا اسکور ہے جب کہ زیک کرالی، انگلینڈ کی جانب سے ٹیسٹ کرکٹ میں تیز ترین سنچری بنانے والے اوپنر بن گئے۔

دوسری جانب میچ کے لیے پاکستان نے چار اور انگلینڈ نے دو کھلاڑیوں کو ڈیبیو کرایا ہے اور ٹیسٹ کرکٹ میں پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے انگلینڈ کے خلاف کسی ٹیسٹ میچ میں چار کھلاڑیوں کو ڈیبیو کرایا ہے۔

تبصرے (0) بند ہیں