ایم 6 اراضی اسکینڈل: معطل ڈی سی نوشہرو فیروز کے ریڈ وارنٹ کے اجرا کیلئے حکومت سے رجوع کا فیصلہ

05 دسمبر 2022
<p>مرتضیٰ وہاب نے کہا محکمہ اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کیا  جس میں تاشفین عالم کا نام شامل ہے—فوٹو:ڈان نیوز</p>

مرتضیٰ وہاب نے کہا محکمہ اینٹی کرپشن نے مقدمہ درج کیا جس میں تاشفین عالم کا نام شامل ہے—فوٹو:ڈان نیوز

حکومت سندھ کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ایم 6 سکھر ۔ حیدر آباد موٹروے پروجیکٹ کی اراضی کے حصول کے لیے 2 ارب سے زائد خفیہ ٹرانزیکشن میں مبینہ طور پر ملوث معطل ڈپٹی کمشنر نوشہرو فیروز تاشفین عالم کے ریڈ وارنٹ کے اجرا کے لیے وفاقی حکومت سے رجوع کریں گے۔

ریڈ وارنٹ عالمی نوٹس ہوتا ہے جو انٹرنیشنل کریمنل پولیس آرگنائزیشن (انٹرپول) کو بھیجا جاتا ہے، اس میں بیرون ملک موجود ملزم کی گرفتاری اور حوالگی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

عالم سمیت کئی دیگر افراد پر تشفین ایم6 سکھر-حیدرآباد موٹر وے پراجیکٹ کے لیے زمین کے حصول کے لیے 2 ارب روپے سے زائد کی مشکوک لین دین میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔

مبینہ طور پر تاشفین عالم 19 نومبر کو آذربائیجان روانہ ہوئے تھے جس کے 4 روز بعد 22 نومبر کو سروس جنرل ایڈمنسٹریشن اینڈ کوآرڈینیشن ڈپارٹمنٹ (ایس جی اے اینڈ سی ڈی) نے انہیں معطل کرنے کے احکامات جاری کیے، نوٹی فکیشن میں اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو کہا گیا تھا کہ تاشفین عالم کو 120 دن کے لیے عہدے سے معطل کردیا جائے۔

مرتضیٰ وہاب نے آج کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا محکمہ اینٹی کرپشن نے نوشہروفیروز میں ہونے والے اسکینڈل سے متعلق مقدمہ درج کیا ہے جس میں تاشفین عالم کا نام فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) میں شامل ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایف آئی آر جامع فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ پر مبنی ہے، اس لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ محکمہ انسداد بدعنوانی سابق ڈپٹی کمشنر کی انٹرپول کے ذریعے گرفتاری کے لیے ریڈ وارنٹ جاری کرانے کے حوالے سے وفاقی حکومت سے رجوع کرے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ فیصلہ اس لیے کیا گیا تاکہ تاشفین عالم کو ملک واپس لایا جا سکے اور غبن کی گئی رقم وصولی کے لیے قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے حکومت سندھ، نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، فیڈرل انویسٹی گیشن اتھارٹی (ایف آئی اے) اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے ساتھ مسلسل رابطے میں میں ہے۔

مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ تاشفین عالم کو ان کے خلاف الزامات سامنے آنے کے بعد ڈپٹی کمشنر نوشہرو فیروز کے عہدے سے ہٹا دیا گیا اور 3 دن قبل سامنے آنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ نے ظاہر کیا کہ الزامات کے پیچھے کچھ صداقت تھی۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ گزشتہ ماہ اس وقت سامنے آیا تھا جب 13 نومبر کو سوشل میڈیا پر ایم 6 موٹر وے منصوبے میں مبینہ بے ضابطگیوں کے حوالے سے رپورٹس منظر عام پر آئیں۔

انہوں نے کہا کہ رپورٹس کے سامنے آنے کے فوراً بعد وزیراعلیٰ سندھ نے صوبائی چیف سیکریٹری کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس معاملے کی فیکٹ فائنڈنگ انکوائری کریں تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ الزامات میں کوئی صداقت ہے یا نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی کہ بے ضابطگیوں کے شواہد موجود ہیں اور اس معاملے کی مناسب انکوائری کی سفارش کی گئی جس کے بعد صوبائی ہوم سیکریٹری کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ جے آئی ٹی نے معاملے کی تحقیقات کی تو حکومت سندھ نے ہدایت کی کہ قومی خزانے کو مزید نقصان بچانے کے لیے 6 اضلاع مٹیاری، خیرپور، شہید بینظیر آباد، نوشہروفیروز، سکھر اور حیدرآباد میں موٹروے کے فنڈز منجمد کیے جائیں اور کوئی ادائیگی نہ کی جائے۔

صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ جے آئی ٹی نے 17 نومبر کو سندھ حکومت کو اپنی رپورٹ پیش کی جس میں واضح بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی گئی۔

تحقیقات کے بعد مٹیاری میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی اور ضلع کے ڈپٹی کمشنر اور متعلقہ اسسٹنٹ کمشنر گرفتار کیا گیا، انہوں نے مزید کہا کہ سندھ بینک جہاں سے پروجیکٹ کے فنڈز نکلوائے گئے اس کے بھی کچھ ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا۔

انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اتنی بڑی کرپشن میں صرف اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ملوث نہیں ہو سکتے اور سندھ بینک کے ملازمین اور افسران بھی اس کیس میں بالواسطہ یا بلاواسطہ ملوث ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اب تک کی گئی انکوائری میں اس کیس میں سرکاری ملازمین کے علاوہ دیگر افراد کے ملوث ہونے کا بھی اشارہ ملتا ہے، سندھ حکومت کی بروقت کارروائی سے اب تک 42کروڑ روپے کی وصولی ہوئی ہے۔

تاشفین عالم کے خلاف تحقیقات

اس سے قبل ڈان کی ایک رپورٹ نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایم 6 موٹر وے پراجیکٹ فنڈز کے مبینہ مشکوک لین دین کے ریکارڈ کی جانچ پڑتال کے لیے بنائی گئی کمیٹی نے پایا کہ ڈپٹی کمشنر نے زمین کے حصول کے لیے اپنے آپ کو لینڈ ایکوزیشن افسر (ایل اے او) کے طور پر تعینات کیا تھا، یہ عہدہ زیادہ تر اسسٹنٹ کمشنر کو دیا جاتا ہے، ابتدائی رپورٹ کے مطابق لینڈ ایکوزیشن ایکٹ 1894 کے تحت زمین حاصل کرنے کے بعد 850 زمین کے مالکان کو بینک کے ذریعے رقم کی ادائیگی کی جائے گی۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ زمین مالکان کو رقم کی ادائیگی کے دوران سنجیدہ عمل کی خلاف ورزی کی گئی ہے، این ایچ اے کے حکام کے مطابق ان کو آفس سے ادائیگی کی کاپی موصول نہیں ہوئی۔ ذرائع نے بتایا کہ نوشہرو فیروز میں زمین کے حصول کے لیے رقم کی ادائیگی جون 2022 کو کی گئی تھی۔

اس کے علاوہ ذرائع نے بتایا کہ خطیر رقم کی ادائیگی بھی ہوئی تاہم یہ رقم کھاتے داروں کے حمایت میں جاری کی گئی تھی، 2 ارب روپے سے زائد رقم جون 2022 کے ماہ میں آٹھ مختلف تاریخوں میں نکالی گئی تھیں۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ ڈپٹی کمشنر نے اپنے آپ کو ضلع کا ایل اے او تعینات کیا جس کی ضرورت نہیں تھی۔

بینک حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ کھاتے داروں کے بائیومیٹرک بینک کو موصول ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر آباد ڈویژن کمشنر نے نوشہرو فیروز کی زمین حصولی کا ریکارڈ بھی قبضے میں لے لیا ہے، بینک انتظامیہ نے کمیٹی کو بتایا کہ زمین مالکان نے اپنے قومی شناختی کارڈ کے ساتھ رقم وصول کرنے کے لیے بینک کا دورہ کیا تھا۔

تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان نے مشاہدہ کیا کہ 50 سے 55 کروڑ روپے مٹیاری کے مختلف زمین مالکان کو ادا کیے گئے۔

تاہم اس بات کی تصدیق نہیں ہوسکی کہ بقیہ رقم کہاں ہے کیونکہ کھاتے داروں کو رقم کی ادائیگی کے لیے سعید آباد برانچ کے سندھ بینک سے 2 ارب 14 کروڑ نکالے جاچکے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں