توہین الیکشن کمیشن کا نوٹس غیر قانونی قرار دے کر معطل کیا جائے، اسد عمر کی سپریم کورٹ میں درخواست

اپ ڈیٹ 07 دسمبر 2022
<p>اسد عمر نے جواب میں الیکشن کمیشن کے توہین کے نوٹس کو جابرانہ، غیر قانونی من مانی قرار دیا— فوٹو: ڈان نیوز</p>

اسد عمر نے جواب میں الیکشن کمیشن کے توہین کے نوٹس کو جابرانہ، غیر قانونی من مانی قرار دیا— فوٹو: ڈان نیوز

پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر نے سپریم کورٹ میں استدعا کی ہے کہ توہین کے قوانین کے تحت کسی کو سزا دینا الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کام نہیں کیونکہ کمیشن نہ کوئی عدالت ہے اور نہ ہی کوئی ٹریبونل، جبکہ دوسری جانب لاہور ہائی کورٹ نے توہین آمیز تقریر کرنے پر پی ٹی آئی رہنما کو طلب کرلیا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسد عمر کی جانب سے دائر درخواست میں ان کے وکیل انور منصور نے دلیل دی کہ جن ابتدائی سوالات پر غور اور سپریم کورٹ کا فیصلہ درکار ہے وہ یہ ہیں کہ آئین کے آرٹیکل 204 اور آرٹیکل 175 اے کے ساتھ ساتھ عدالت عظمیٰ کے وہ فیصلے ہیں جن میں کہا گیا کہ الیکشن کمیشن نہ کوئی عدالت ہے اور نہ ہی ٹریبونل، کیا الیکشن ایکٹ 2017 کا سیکشن 10 الیکشن کمیشن کے چیئرمین اور اس کے ارکان کو عدالت یا ہائی کورٹ کا جج بننے کا اختیار دیتا ہے۔

یہ جواب چیف جسٹس پاکستان عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے سامنے الیکشن کمیشن کی درخواست کی طے شدہ سماعت سے ایک روز قبل جمع کروایا گیا، الیکشن کمیشن نے عدالت عظمیٰ سے درخواست کی کہ وہ مختلف ہائی کورٹس میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف توہین کے الزامات کے اجرا کے کمیشن کے مؤقف کا دفاع کرنے کے بجائے مختلف ہائی کورٹس میں زیر التوا تمام 6 چیلنجز کو یکجا کرکے پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف توہین کے نوٹسز میں تبدیل کرے۔

الیکشن کمیشن نے اگست اور ستمبر کے دوران پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور پارٹی رہنماؤں اسد عمر، فواد چوہدری، میاں شبیر اسمٰعیل اور دانیال خالد کھوکھر کی جانب سے مبینہ طور پر نازیبا زبان استعمال کرنے پر توہین کے نوٹس جاری کیے تھے، چیف ایکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن نے ان رہنماؤں کو کہا تھا کہ وہ ذاتی طور پر یا اپنے وکلا کے ذریعے کمیشن کے سامنے اپنی پوزیشن کی وضاحت کریں۔

تاہم الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہونے کے بجائے پی ٹی آئی رہنماؤں نے نوٹسز اور توہین کی کارروائی کو مختلف ہائی کورٹس میں چیلنج کردیا تھا اور مؤقف اپنایا تھا کہ الیکشن ایکٹ 2017 کا سیکشن 10، جو کہ کمیشن کو توہین کی سزا دینے کے اختیارات سے متعلق ہے وہ قانونی شق خلاف آئین ہے۔.

عدالت عظمیٰ میں جمع اپنے جواب میں اسد عمر نے مؤقف اپنایا کہ الیکشن ایکٹ کے سیکشن 10 پر عمل درآمد زندگی، آزادی اور انسانی ساکھ کے لیے نقصان دہ عمل اور آئین میں ممنوع قرار دیے گئے طریقے کے مطابق کام کرنے کے مترادف ہو گا۔

جواب میں الیکشن کمیشن کے توہین کے نوٹس کو جابرانہ قرار دیتے ہوئے غیر قانونی من مانی قرار دیتے ہوئے اسد عمر نے عدالت عظمیٰ سے استدعا کی کہ جب تک یہ مقدمہ زیر سماعت ہے اس وقت تک الیکشن کمیشن کی جانب سے دائر درخواست میں ان کے خلاف توہین کے نوٹس کو معطل کیا جائے اور مزید کارروائی سے روکا جائے۔

’ججوں کو بدنام کرنے کی کوشش‘

لاہور ہائی کورٹ راولپنڈی بینچ نے پی ٹی آئی کے احتجاج کے دوران سڑکیں بند کرنے کے خلاف راولپنڈی کے تاجروں کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسد عمر کو ان کے توہین آمیز ریمارکس پر 7 دسمبر کو طلب کر لیا۔

جسٹس جواد حسن نے سینئر ایڈیشنل رجسٹرار کی اس رپورٹ کا ازخود نوٹس لیا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے جنرل سیکریٹری نے زیر التوا درخواست کے دوران عوامی اجتماع سے خطاب میں بیان دیا تھا جسے ملک بھر میں نشر کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ اسد عمر کا یہ بیان اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے جو اعلیٰ عدالتوں اور ان کے ججوں کے خلاف نفرت اور تضحیک کا باعث ہے، ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 204 کے تحت توہین عدالت کی کارروائی کی ضرورت ہے۔

اس میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 204 (2)(بی) واضح طور پر کہتا ہے کہ عدالت کو کسی بھی ایسے شخص کو سزا دینے کا اختیار حاصل ہے جو عدالت کو اسکینڈلائز کرتا ہے یا کوئی بھی ایسا کام کرتا ہے جس سے عدالت یا جج کو نفرت، تضحیک یا توہین کا سامنا کرنا پڑے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ سینئر ایڈیشنل رجسٹرار کی جانب سے پیش کردہ مذکورہ رپورٹ کے ساتھ منسلک جواب دہندہ اسد عمر کے بیان کے اردو ٹرانسکرپٹ کے مندرجات واضح طور پر آئین کے آرٹیکل 204 (2)(بی) کی دفعات کے ضمرے میں آتے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں