بشریٰ بی بی کی زلفی بخاری کے ساتھ ’گھڑیوں کی فروخت‘ سے متعلق مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی

اپ ڈیٹ 08 دسمبر 2022
<p>مبینہ آڈیو میں زلفی بخاری اور بشریٰ بی بی کو گھڑیوں کے بارے میں بات کرتے سنا جاسکتا ہے— فائل فوٹو: ڈان نیوز/ ریڈیو پاکستان</p>

مبینہ آڈیو میں زلفی بخاری اور بشریٰ بی بی کو گھڑیوں کے بارے میں بات کرتے سنا جاسکتا ہے— فائل فوٹو: ڈان نیوز/ ریڈیو پاکستان

آڈیو لیکس سامنے آنے کے کئی ہفتوں کے بعد ایک اور کلپ منظر عام پر آگیا جس میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سابق وزیر اعظم کے پاس موجود گھڑیوں کی فروخت کے بارے میں بات چیت کرتے ہوئے سنا جاسکتا ہے۔

21 سیکنڈ پر مشتمل سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی آڈیو میں زلفی بخاری اور بشریٰ بی بی کو گھڑیوں کے بارے میں بات چیت کرتے سنا جاسکتا ہے۔

آڈیو کے آغاز میں بشریٰ بی بی نے مبینہ طور پر زلفی بخاری کو بتایا کہ ’عمران خان کی چند گھڑیاں ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ وہ گھڑیاں آپ کو دے دوں تاکہ آپ انہیں فروخت کردیں، یہ گھڑیاں ان کے زیر استعمال نہیں ہیں، اس لیے وہ چاہتے ہیں کہ انہیں فروخت کر دیا جائے۔‘

مبینہ آڈیو میں بات چیت کا اختتام کرتے ہوئے زلفی بخاری کہتے ہیں کہ ’جی بالکل مرشد، میں یہ کردوں گا۔‘

مسلم لیگ (ن) کی رہنما حنا پرویز بٹ نے اپنی ٹوئٹ میں سابق وزیر اعظم کی اہلیہ پر وزیر اعظم ہاؤس میں گھڑیوں کے کاروبار میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہے ایماندار عمران خان کی کہانی جن کی بیگم صاحبہ وزیراعظم ہاؤس میں بیٹھ کر گھڑیوں کا کاروبار کر رہی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ آج بشری بی بی نے نیازی صاحب کو پکا گھڑی چور ثابت کر دیا۔

دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری نے آڈیو پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ پہلے کہا جا رہا تھا کہ عمر ظہور نامی کسی شخص کو فرح گجر کے ذریعے گھڑیاں بیچی گئیں، جب ان کو لیگل نوٹس بھیجا تو اب نئی کہانی سامنے آگئ ہے کہ اصل میں یہ گھڑی میرے ذریعے بیچی گئیں۔

ٹوئٹر پر جاری اپنے بیان میں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ میں واضع کر دوں کوئی گھڑی نہ میں نے لی نہ میں نے بیچی، اس طرح کی ’کٹ، کاپی پیسٹ‘ آڈیو کالج کے بچے بھی بنا لیتے ہیں۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری اس آڈیو کا فرانزک کرایا جائے ، میں اس کے پیسے اپنی جیب سے دینے کو تیار ہوں۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں آڈیو ریکارڈنگ سامنے آنے کا ایک سلسلہ شروع ہوا جس میں مبینہ طور پر پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ن) کی قیادت کو نجی محافل کے دوران گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔

ان سامنے آنے والے کچھ کلپس میں پی ٹی آئی کے سربراہ اور ان کے سابق وزرا اور پرنسپل سیکریٹری کے درمیان سائفر کے بارے میں بھی مبینہ گفتگو کرتے ہوئے سنایا گیا جب کہ اس متنازع سائفر کو پی ٹی آئی قیادت طویل عرصے سے ان کی حکومت گرانے کے لیے ’غیر ملکی سازش‘ کے ثبوت کے طور پر پیش کر تی رہی۔

اکتوبر میں سامنے آنے والی اس مبینہ آڈیو میں عمران خان پارٹی رہنماؤں شیریں مزاری اور اسد عمر کے ساتھ سائفر کے بارے میں بات کرتے ہوئے سنے گئے، کلپ میں تینوں رہنما سائفر پر تبادلہ خیال کر رہے تھے اور مبینہ طور پر حکمت عملی بنا رہے تھے کہ کیسے اسے عوام میں کیسے چلایا جائے۔

اس آڈیو کے سامنے آنے سے ایک روز قبل ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ منظر عام پر آئی تھی جس میں مبینہ طور پر عمران خان تحریک عدم اعتماد کے دوران اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت اور ایوان میں نمبر گیم سے متعلق بات چیت اور تبادلہ خیال کر رہے تھے۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں