نصاب تعلیم کے حوالے سے ہدایات دینا عدالت کا کام نہیں، سندھ ہائی کورٹ

اپ ڈیٹ 17 دسمبر 2022
<p>2 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا — فائل فوٹو: فیس بک</p>

2 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا — فائل فوٹو: فیس بک

سندھ ہائی کورٹ نے اسکولوں اور کالجوں میں قرآن کی تعلیم لازمی قرار دینے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت کا کام نصاب کے مواد کے حوالے سے ہدایات دینا نہیں ہے۔

دائر کی جانے والی درخواست میں پرائمری، ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیمی اداروں/کالج کے نصاب میں ترمیم کرنے کی استدعا کی گئی تھی کہ تمام اسکولوں اور کالجوں میں اردو ترجمے کے ساتھ قرآن کی تعلیم لازمی قرار دی جائے۔

13 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی ایم شیخ اور جسٹس یوسف علی سید پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے سماعت کے بعد درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

بعد ازاں، جمعے کو 3 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا گیا تھا۔

سندھ ہائی کورٹ نے فیصلے میں بتایا کہ پاکستان کے آئین کی بنیاد ریاست کے تین ستونوں کے درمیان طاقت کے نظریات پر قائم ہے جس میں مقننہ، انتظامیہ اور عدلیہ شامل ہے۔

تحریری فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ موجودہ حالات میں نصاب کے متن کے حوالے سے حکم دے جبکہ کسی قانون یا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہ ہوئی ہو۔

فیصلے میں بتایا گیا کہ ہمارے خیال میں عقیدے کے معاملات ذاتی نوعیت کے ہیں اور انہیں انفرادی لوگوں پر چھوڑنا بہتر ہے۔

سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے میں سپریم کورٹ کے 2014 کے ایک مقدمے میں فیصلے کا حوالہ دیا گیا جس میں عدالت عظمیٰ نے مشاہدہ کیا تھا کہ مذہب کی آزادی اور مذہبی اداروں کو منظم کرنے کے حوالے سے ریاست پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ افراد کے مذہبی عقائد اور نظریات میں مداخلت نہ کرے۔

سندھ ہائی کورٹ نے بتایا کہ اس طرح درخواست کے بارے میں غلط فہمی پائی جاتی ہے، ہم اس کے مطابق اسے دوسری زیر التوا متفرق درخواست کے ساتھ مسترد کرتے ہیں۔

ضرور پڑھیں

کیا زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت آنی چاہیے؟

کیا زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت آنی چاہیے؟

زبان بولتے ہوئے لہجے کی مقامیت آنی چاہیے۔ تلفظ اور معنی کے رشتے کو ضرور ملحوظ رکھا جانا چاہیے اور ہمیں لہجوں کی مقامیت مزاح میں استعمال کرتے ہوئے لسانی و ثقافتی بالادستی کا تاثر نہیں دینا چاہیے۔

تبصرے (0) بند ہیں