ایشین کرکٹ کونسل (اے سی سی) نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی انتظامی کمیٹی کے چیئرمین نجم سیٹھی کے بیان کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا، جس میں انہوں نے جے شاہ کی جانب سے کرکٹ کیلنڈر برائے سال 2023 اور 2024 کی تشکیل کو یکطرفہ قرار دیا تھا۔

اے سی سی کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے تبصرہ کیا ہے کہ اے سی سی کے صدر کی جانب سے 24-2023 کے لیے اعلان کردہ کیلنڈر اور پاتھ وے کا فیصلہ یکطرفہ طور پر کیا گیا ہے۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ ایشین کرکٹ کونسل وضاحت پیش کرنا چاہتی ہے کہ مروجہ طریقہ کار کے بعد ہی اس حوالے سے فیصلہ کیا گیا، کیلنڈر کو اے سی سی کی ڈیولپمنٹ کمیٹی اور فنانس اینڈ مارکیٹنگ کمیٹی نے 13 دسمبر 2020 کو ہونے والے اجلاس میں منظور کیا تھا۔

اے سی سی نے مزید کہا کہ کیلنڈر کو بعد ازاں تمام شرکت کرنے والے اراکین بشمول پاکستان کرکٹ بورڈ کو بذریعہ ای امیل 22 دسمبر کو بھیجا گیا تھا، اس دوران متعدد بورڈز کی جانب سے ردعمل موصول ہوئے تھے لیکن پی سی بی کی جانب سے کوئی تجویز یا تبصرہ نہیں بھیجا گیا۔

بیان میں مزید بتایا گیا کہ نجم سیٹھی کی جانب سے سوشل میڈیا پر کیا جانے والا تبصرہ بے بنیاد ہے اور ایشین کرکٹ کونسل اسے مسترد کرتی ہے۔

خیال رہے کہ نجم سیٹھی نے جے شاہ کے کیلنڈر برائے 2023 اور 2024 کے اعلان پر ردعمل میں کہا تھا کہ آپ کا شکریہ کہ کیلنڈر اور خاص طور پر ایشیا کپ 2023 کے حوالے سے یکطرفہ طور پر اعلان کیا، جس کا پاکستان میزبان ہے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ آپ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2023 کے کیلنڈر کا بھی اعلان کرسکتے ہیں۔

ہم سے مشاورت کے بغیر کیسے یہ فیصلہ کر لیا؟ نجم سیٹھی

دوسری جانب وکرانت گپتا کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ میں بالکل ناراض نہیں ہوں، میں سمجھتا ہوں کہ اس کی کیا ضرورت تھی، ایک فون کرلیتے، مشاورت کرلیتے، یکطرفہ طور پر اس طرح کی چیزیں کرنا کوئی اچھی بات تو نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ میری اطلاع کے مطابق کسی سے کوئی مشاورت نہیں کی گئی، خود ہی سب کچھ کر لیا، کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگلی دفعہ جب میں صدر بنوں گا تو میں بھی یہی راستہ اختیار کروں۔

ان سے پوچھا گیا کہ جے شاہ کہتے ہیں کہ پی سی بی کو ای میل پر بتا دیا گیا تھا، اس کے جواب میں پی سی بی چیئرمین نے کہا کہ میری اطلاع کے مطابق ہمیں تو پتا ہی نہیں ہے، اس سے پہلے بھی جے شاہ نے ایک بیان دیا تھا، جس پر سابق چیئرمین رمیز راجا نے اعتراض کیا تھا، سابق چیئرمین نے کہا تھا کہ انہوں نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ ہم پاکستان میں پاکستان کے ساتھ نہیں کھلیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک طرف آپ چاہتے ہیں کہ پاکستان بھارت آکر ورلڈ کپ کھیلے، دوسری طرف آپ کہتے ہیں کہ ہم پاکستان میں جاکر ایشیا کپ نہیں کھیلیں گے، کل کو چیمپئنز ٹرافی بھی پاکستان میں ہوگی، کیا وہ بھی نہیں کھیلیں گے؟ یہ بات نہ ہی اصول کی ہے اور نہ ہی کرکٹ کی ہے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ اصول کی بات ہو تو آپ کہیں کہ ہم بھارت میں آپ کو کھیلنے کی دعوت بھی نہیں دیں گے، تو ٹھیک ہے کہ ہم آئیں گے بھی نہیں اور دعوت بھی نہیں دیں گے، اب اگر آپ پاکستان نہیں آتے اور پھر کہتے ہیں کہ آپ بھارت آجائیں تو یہ کس قسم کا اصول ہے، میرا خیال ہے سیاست کو دور رکھنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی بورڈ خودمختار ہے، ہمارا بورڈ تو خودمختار بھی نہیں ہے، ہم تو ایک طرح سے حکومت کا ادارہ ہیں لیکن بی سی سی آئی تو خود کو ایک آزاد نجی ادارہ سمجھتا ہے، پھر بھی اس قسم کی سیاست، میں سمجھتا ہوں کہ اس کی ضرورت نہیں ہے، پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ ہونی چاہیے۔

ایک سوال پر ان کا کہنا تھا کہ ہمارے سابق چیف ایگزیکٹو افسر فیصل حسنین نے ای میلز کی ہیں کہ اگر وہ دبئی میں ہیں تو میں وہاں پر ان سے ملنے کے لیے آجاؤں گا، افسوس کی بات ہے کہ کوئی جواب تک نہیں آیا ہے، میری انوراگ ٹھاکر اور بھارتی بورڈ کے دیگر حکام کے ساتھ دوستی ہے، میں چاہوں گا کہ تعلقات ہوں، آپ کی سیاست اپنی جگہ لیکن تعلقات تو ہونے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے انہیں ای میلز بھی کی ہیں کہ آپ نے ہم سے مشاورت کے بغیر کیسے یہ فیصلہ کر لیا؟ مشترکہ فیصلہ ہو جائے تو اچھا ہے، ہمارے ملک میں ایشیا کپ ہونے جا رہا ہے اور ہمیں پوچھا بھی نہیں جارہا۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ ہم سے مشاورت تو نہیں کی، کہیں بیٹھ کر یکطرفہ فیصلہ کرکے ہمیں ای میل بھیج دی کہ یہ فیصلہ کیا ہے، اگر ہم ڈیولپمنٹ کمیٹی میں نہیں ہیں پھر بھی ہم سے پوچھ تو لیتے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ جو رویہ ہے کہ ہم ہیں تو کیا غم ہے، ہم ہمیشہ ٹھیک ہیں، ہمارا حکم چلے گا، یہ اچھی بات نہیں ہے، کرکٹ میں ایسا نہیں ہونا چاہیے، مشاورت کرنا اچھا ہوتا ہے۔

ان سے پوچھا گیا کہ ایشیا کپ کہاں پر منعقد کروائیں گے، اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایشیا کپ پاکستان میں ہونا چاہیے، اب دنیا کے تمام کرکٹ کھیلنے والے ممالک پاکستان آچکے ہیں، اب کوئی مسئلہ نہیں ہے، اب اسے دوطرفہ تعلقات کا مسئلہ بنا رہے ہیں، اب سیکیورٹی کے مسائل نہیں رہے۔

کیا ایشیا کپ کو پاکستان سے باہر منعقد کروائیں گے، اس سوال پر نجم سیٹھی نے کہا کہ اس حوالے سے ہم مشاورت کریں گے، اگر حکومت کہے گی کہ ٹھیک ہے، تو ٹھیک ہے، اگر حکومت کہے گی نہیں، تو پھر نہیں۔

بھارت میں ورلڈکپ کھیلنے سے متعلق سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کہے گی تو ہم چلے جائیں گے، حکومت کہے گی نہیں جاؤ تو ہم نہیں جائیں گے۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ نیوٹرل کیا ہوتا ہے؟ پھر ہم بھارت کے ساتھ ورلڈکپ بھی آسٹریلیا میں جاکر کھیل لیتے ہیں۔

ضرور پڑھیں

تبصرے (0) بند ہیں